کوئی تو مجھے سمجھاتا

کوئی تو مجھے سمجھاتا
 کوئی تو مجھے سمجھاتا

  

پی ٹی آئی کے چےئرمین عمران خان کو دنیا کرکٹ کے دیوتا کے نام سے یاد کرتی ہے اور کرکٹ کے شائقین بھی ان سے یہی توقعات اور امیدیں لگائے رکھتے ہیں کہ یہ شخص کرکٹ کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا بلکہ یوں کہیے کہ جب سے عمران خان نے پاکستان کو ورلڈ کپ کا تحفہ دیا ہے پاکستان کے عوام نے ان کو نہ صرف آنکھوں پر بٹھایا بلکہ عمران خان کا یہی اعزاز ان کی عظمت اور شہرت کا سبب بنا اور یہی شہرت پھر ان کو سیاست میں لے آئی اور اب وہی کرکٹ کے حوالے سے دیوتا کے نام سے جانا اور پہچانا جانے والا شخص کرکٹ کے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو ریلو کٹا اور پھٹیچر کہے گاتو عوام کو یہ خطاب کیسے ہضم ہو سکتا ہے عمران خان نے کرکٹ کے زمانے سے لیکر عملی سیاست تک بڑی بڑی غلطیاں کیں مگر قدرت نے ہمیشہ ان پر قسمت کی دیوی کو مہربان رکھا اور یوں عمران خان آگے ہی آگے بڑھتا رہا ،کامیابیاں سمیٹتا رہا اور پھر وہی کرکٹر ایک بڑی سیاسی پارٹی کا سربراہ بن گیا ،سیاست میں ان کی مقبولیت انتہا کو پہنچی موصوف نے بھی دوسرے بہت سے سیاستدانوں کی طرح ملک کا وزیراعظم بننے کے خواب دیکھنے شروع کردیئے، خواب دیکھنا عمران خان کا بھی پورا حق ہے مگر ان کو اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ جب آپ ملک کے سب سے بڑے منصب کے خواہشمند اور امیدوار بنتے ہیں تو پھر آپ کو اپنی حرکات اپنی زبان سب کا خیال رکھنا پڑتا ہے عمران خان شاید وزارت عظمٰی کے امیدواروں میں سے وہ واحد باشعور امیدوار ہیں جنہوں نے اپنے عمل اور زبان کے حوالے سے بے شمار غلطیاں کی ہیں جب یہ غلطیاں کرنے والا شخص صرف سیاستدان ہی نہ ہو بلکہ قوم کا ہیرو بھی ہو تو پھر یہ غلطیاں قوم کو زیادہ تکلیف دیتی ہیں، جہاں تک تعلق ہے پی ایس ایل کے فائنل میچ اور اس میں کھیلنے کیلئے آنے والے کھلاڑیوں پر ریمارکس کا تو اس حوالے سے پی ٹی آئی اور عمران خان نے بہت کچھ کھویا جبکہ حکومت اور نواز لیگ نے بہت کچھ پایا ہے ،عمران خان کی نسبت پی ٹی آئی کے رہنما چوہدری سرور اور شیخ رشید بدلتے ہوئے حالات کو بہتر انداز میں دیکھ رہے تھے یہی وجہ تھی کہ دونوں رہنماؤں نے میچ میں شرکت کی ،عمران خان لاہور میں ہونیوالے پی ایس ایل کے فائنل کو صرف ایک میچ سمجھتے رہے حالانکہ یہ میچ نہیں تھا بلکہ میڈیا اور ریاستی اداروں کی خصوصی دلچسپی کی بدولت یہ میچ ایک قومی ایونٹ میں تبدیل ہو گیا تھانجم سیٹھی جیسے شخص کو عوام اس وجہ سے پسند کرنے لگے ہیں کہ اس نے عالمی کرکٹ کے دروازے پاکستان کیلئے ایک بار پھر کھول دےئے ہیں ،دوسری جانب پی ایس ایل کے فائنل کو جس طرح بھارتی اور عالمی میڈیا اہمیت دے رہا تھا عمران خان اس کو بھی نہیں سمجھ سکے اس طرح پوری قوم کا میچ کے بارے میں جو موڈتھا اور پوری قوم جس طرح اس میچ کے ذریعے دہشت گردی اور پاکستان کے دشمنوں کو شکست دینے کا عزم بار بار دہرا رہی تھی عمران خان اس سوچ اور جذبے کو بھی نہ سمجھ سکا اور آج کے دن تک عمران خان اپنی زندگی کی ایک بڑی سیاسی غلطی کا دفاع کر رہا ہے ۔بد قسمتی کا عالم یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جو عمران خان کو سمجھانے کی پوزیشن میں ہوکہ یہ آپ کی بہت بڑی سیاسی غلطی ہے لہٰذا اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے عمران خان اس سیاسی بلنڈر پر نہ صرف خود بند گلی میں جا چکا ہے بلکہ ان کے مشیر اور ترجمانوں کی پوری فوج عمران کو عوام میں مزید رسوا کر رہی ہے جب کہ دوسری جانب نواز لیگ اور حکومتی ترجمان عمران خان کی غلطی سے بھرپورسیاسی فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔عمران خان کی طرف سے لاہور میں ہونیوالے میچ پر بھارتی میڈیا سمیت تمام عالمی میڈیا نے شدید تنقید کی ہے اور اس میچ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بی بی سی ،الجزیرہ سمیت تمام بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے اس کی بھرپور کوریج کی ہے کاش عمران خا ن میچ کے انعقاد کی مخالفت کرنے کی بجائے پاکستان میں آنے والے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کا استقبال کرتا ان کو اپنے ساتھ کھانے پر مدعو کرتا اور کرکٹ کا میچ دیکھنے کیلئے خود اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسٹیڈیم میں جاتا تو پوری قوم نہ صرف انہیں سلیوٹ کرتی بلکہ یہ پورا ایونٹ جس کی بنیاد پر حکومت پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے یہ پورے کا پورا پی ٹی آئی ہائی جیک کر جاتی اور عمران خان کا قد آج قوم کی نظر میں بہت بلند ہو چکا ہوتا کاش! عمران خان کو کوئی سمجھانے والا ہوتا جو ضد پر اڑنے کی بجائے ان کو واپسی کا راستہ دیتا، پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پرڈنکا بجتا ہے مگر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا منیجر بھی عمران خان کو عوام اور یوتھ کے موڈ اور ٹرینڈ سے آگاہ نہ کر سکے پورا میڈیا اور پوری قوم کس طرف جا رہے ہیں اس کے بارے میں ان کاکوئی مشیر ان کو آگاہ نہیں کر سکا اور ویسے بھی جو لیڈر عوام کی خواہش اور عوام کی سوچ کے خلاف چلتا ہے اس کو سیاسی لیڈر کہلانے اور عوامی رہنما ہونے کا کوئی حق نہیں ہوتا ،عمران خان نے عوام کی خواہش کے برعکس موقف اختیار کر کے جہاں اپنی ذاتی شخصیت اور لیڈر شپ کو نقصان پہنچایا ہے وہاں اپنی پارٹی اور پارٹی رہنماؤں کو بھی ایک امتحانی کیفیت اور عوام کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے ۔سیاست میں وقت اورٹائمنگ بہت اہم ہوا کرتی ہے شیخ رشید نے اس ٹائمنگ کے مطابق اپنے آپ کو بہت تیزی کے ساتھ تبدیل کیا انہوں نے بھی عمران خان کی پیروی کرتے ہوئے پہلے میچ کے انعقاد کی مخالفت کی مگر بعد ازاں عوام کا مزاج اور میڈیا کا موڈ دیکھ کر اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا اور عوام کی خواہش کے مطابق اسٹیڈیم میں جا کر میچ دیکھا اور اپنی ’’بلے بلے‘‘ کرواکرراولپنڈی چلے گئے ۔عمران خان کو سمجھنا ہو گا کہ ریحام خان میچ میں آ کر پوری قوم کی توجہ حاصل کر سکتی ہے تو آپ ایسا کیوں نہیں کر سکتے تھے ،ریحام خان سے کہاں کہاں بچیں گے وہ تو 2018ء کے انتخابات اور اس کے بعد بھی آپ کا پیچھا کرتی رہیں گی کیونکہ اس کی مستقل بنیادوں پر ڈیوٹی لگ چکی ہے ۔آج جب تمام میڈیا اور پوری قوم عمران خان پر تنقید کر رہی ہے تو عمران خان تنہائی میں بیٹھ کر اپنے مشیروں کو یاد کر کے کہہ رہے ہونگے کہ کاش! کوئی تو مجھے سمجھاتا، کیا وجہ ہے میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ۔

مزید :

کالم -