پسند کی شادی کرنیوالی والدین کے ہاتھوں قتل، مقتولہ اقصیٰ نے قتل کی صورت میں اپنے خاوند سے مقدمہ کی پیروی کا وعدہ لیا تھا، ریکارڈنگ محفوظ ہوگئی

پسند کی شادی کرنیوالی والدین کے ہاتھوں قتل، مقتولہ اقصیٰ نے قتل کی صورت میں ...
پسند کی شادی کرنیوالی والدین کے ہاتھوں قتل، مقتولہ اقصیٰ نے قتل کی صورت میں اپنے خاوند سے مقدمہ کی پیروی کا وعدہ لیا تھا، ریکارڈنگ محفوظ ہوگئی

  

قصور (ویب ڈیسک) نواحی گاﺅں سید پورہ میں محبت کی شادی کرنے والی حوا کی بیٹی کو ’معززین‘ کی پنچایت نے گناہ گار قرار دیا اور لڑکی کے رشتہ داروں نے اسے قتل کرکے منوں مٹی تلے دفن کردیا جبکہ انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ اقصیٰ نے قتل کی صورت میں اپنے خاوند سے مقدمہ کی پیروی کا وعدہ لیا تھاجس کی ریکارڈ نگ بھی محفوظ ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق سید پور کی اقصیٰ بی بی ولد محمد عارف اپنے ہی رشتہ دار نوجوان محمد ارشد کے ساتھ محبت کرتی تھی اور دونوں آپس میں شادی کرنا چاہتے تھے تاہم محمد عارف اور دیگر رشتہ دار اس شادی کے خلاف تھے جس پر محبت کرنے والے اس جوڑے نے لو میرج کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں نے گھر والوں سے چوری شادی کرلی جس کا باقاعدہ تحریری ریکارڈ ان کے پاس موجود تھا تاہم چوری چھپے ہونے والی اس شادی کے چند ماہ بعد اقصیٰ کے گھر والوں نے اس کی شادی اس کے ایک کزن کے ساتھ کرنا چاہی تو اقصیٰ نے گھر والوں پر واضح کیا کہ اس کا پہلے نکاح ہوچکا ہے اور وہ شادی پر دوسری شادی کا گناہ نہیں کرسکتی جس پر اس کے اہلخانہ نے اسے مار مار کر ادھ موا کردیا۔محمد عارف اور دوسرےر شتہ دار محمد ارشد کو مسلسل دھمکاتے رہے کہ وہ اقصیٰ کو طلاق دے دے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا مگر محبت کی ڈور میں بندھے دونوں پریمیوں نے ایک دوسرے کو چھوڑنے سے انکار کردیا جس پر معاملہ پنچایت میں گیا تو پنچایت نے شادی کے باوجود دباﺅ ڈال کر اقصیٰ کو اپنی ذمہ داری پر والدین کے ہمراہ روانہ کردیا۔ اس دوران اقصیٰ نے اپنے خاوند سے فون پر رابطہ کرکے کہا کہ اس کے گھر والے ہم دونوں کو قتل کرنے کا پروگرام بناچکے ہیں۔

محمد ارشد نے بتایا کہ جب اسے اس امر کا علم ہوا تو اس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور کی عدالت میں درخواست دی کہ ملزمان میری بیوی کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور اسے پہلے سے اغواءکرلیا گیا ہے جس پر عدالت نے بیلف مقرر کیا مگر ملزمان نے اقصیٰ بی بی کو غائب کردیا تو عدالت نے ملزمان کو حکم دیا کہ وہ آج 9 مارچ کو اقصیٰ کو عدالت میں پیش کریں مگر ملزمان نے سول جج عمر شہزاد گل کی عدالت میں مغوی کو پیش کرنے کی بجائے قریبی گاﺅں ماجرہ پہنچادیا اور رات کے وقت اقصیٰ کو قتل کرکے اس کی نعش دفن کردی ، محمد ارشد نے پولیس کو 15 پر اطلاع کی جس پر پولیس نے اقصیٰ کے والدین سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اقصیٰ کی ہلاکت کرنٹ لگنے کے باعث ہوئی ہے اور اسے کسی نے قتل نہیں کیا تاہم بیٹی کا جنازہ نہ پڑھانے اور نہ ہی اس کا سوگ منانے پر پولیس نے جب ملزمان سے سوالات کئے تو وہ اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ 

روزنامہ خبریں کے مطابق مقتولہ کو بھی قتل کے منصوبے کا علم ہوچکا تھا جس پر  اقصیٰ بی بی نے اپنے شوہر سے یہ وعدہ لیا تھا کہ وہ قتل کی صورت میں اس کے مقدمہ کی پیروی کرے گا۔ اس سلسلہ میں محمد ارشد کے پاس اقصیٰ بی بی کی وہ ٹیلی فون ریکارڈنگ موجود ہے جو آخری کال کے طور پر اقصیٰ نے محمد ارشد کو کی تھی۔ محمد ارشد نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اقصیٰ کو قتل کرنے سے پہلے ملزمان نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی اور  فائرنگ کی گئی مگر میں ا ندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا مگر وہ معصوم جسے اس بات کا علم تھا کہ اسے ہر صورت قتل کردیا جائے گا آخری دم تک اپنے گھر والوں کے سامنے ڈٹی رہی۔ اس نے قتل ہونے سے پہلے مجھے فون کیا تو میں نے اس کی کال ریکارڈ کرلی ۔

مزید :

قصور -