مسلم، مسیحی دوستی، مفاہمت اور امنِ عالم

مسلم، مسیحی دوستی، مفاہمت اور امنِ عالم
مسلم، مسیحی دوستی، مفاہمت اور امنِ عالم

  

آج تو مسلم مسیحی دوستی ایک انوکھی بات ہے، بالکل ایسے ہی جیسے امن عالم کا قیام ایک امیدِ موہوم، بلکہ مجذوب کی بڑ ہانکنے کے مترادف لگتا ہے لیکن تاریخی حقائق اور موجود شواہد و دلائل اس کے خلاف ہیں تاریخی حقائق یہ کہتے ہیں کہ مسیحیت اپنے ابتدائی دور میں جب یمن کے ظالم یہودی حکمرانوں کے ہاتھوں زندہ جلائی جا رہی تھی اور پروشلم کے یہودی نسل پرست صہیونیت کے نشے میں رومن حکمرانوں کے ہاتھوں مسیحیوں کو سولیوں پر چڑھوا رہے تھے تو ان مسیحی مظلوموں کا حامی و ناصر صرف ایک ہی تھا اور وہ تھے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جن کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات میں اور سیدنا مسیح علیہ السلام انجیل مقدس میں خوشخبریاں سنا چکے تھے!

لیکن آج بھی دنیا کے دو گوشے ایسے دکھائی دیتے ہیں جہاں سے مسلم مسیحی دوستی، مفاہمت اور قیام امن عالم کی روح پرور صدائیں بلند ہو رہی ہیں ان میں سے ایک گوشہ تو مصر کی الازہر یونیورسٹی کے چانسلر۔۔۔ (جنہیں شیخ الازہر یا امام اعظم کہتے ہیں، مصری آئین کی رو سے یہ منصب صدر جمہوریہ کے بعد آتا ہے۔

مصری وزیر اعظم کا منصب شیخ سے فروتر ہوتا ہے چنانچہ وزیر اعظم انہیں اپنے دفتر میں طلب نہیں کر سکتا، بلکہ اجازت لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ کی معلومات کے لئے یہاں یہ بھی عرض کر دیا جائے کہ الازہر یونیورسٹی کا مالی بجٹ حکومت مصر کے مالی بجٹ سے بھی بڑا ہوتا ہے اس لئے حکومت یونیورسٹی سے قرضہ بھی لیتی رہتی ہے!)۔۔۔اس یونیورسٹی کے موجودہ شیخ یا چانسلر ڈاکٹر محمد احمد الطیب ہیں جو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی فیصل مسجد اسلام آباد میں استاد رہ چکے ہیں اس لئے وہ پاکستان سے بخوبی واقف ہیں اور پاکستان کے دوست بھی ہیں۔ 

ازہر یونیورسٹی کے یہی شیخ یا امام اعظم ہیں جو مسلم مسیحی دوستی اور مفاہمت کو جگانے اور زندہ کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں وہ پاپائے روم سے بھی مل چکے ہیں اور موجودہ پاپائے روم جناب فرانسس کو مصر کے دورے کے لئے بھی بلاتے رہتے ہیں، تاکہ اسلام کی آمد سے پہلے کے یہ قبطی عیسائی جو مصر کے ہر گاؤں کی مسجد کے مقابلے کے لئے ایک قبطی گرجا گھر بنانے کے لئے حکومت سے بجٹ مانگتے ہیں، خواہ اس گاؤں میں کوئی ایک قبطی عیسائی بھی نہ ہو، یہ حقیر سی اقلیت اکثر فسادات برپا کر کے مسلم مسیحی دوستی اور مفاہمت کو پنپنے نہیں دے رہی، اسی اقلیت کو سمجھانے کے لئے موجودہ پاپائے روم اور شیخ الازہر کوشاں رہتے ہیں۔ 

اگر ہم دنیا کی آبادی اور نقشے پر نظر ڈالیں اور غور کریں تو صرف دو گروہ ایسے نظر آتے ہیں جو نسل پرست اور بت پرست ہیں اور یہ انسانی مساوات کے منکر بھی ہیں بلکہ یہ دونوں اسلام کے بھی شدید ترین دشمن ہیں، اسلام ان کی نسل پرستی اور بت پرستی کی حرف غلط کی طرح نفی کرتا ہے کیونکہ انسانی برادری اور برابری کا انکار ہی جنگ و فساد کی جڑ ہے اور قیام امن کے لئے اصل رکاوٹ بھی یہی ہے نسل پرستی کی بد ترین مثال صہیونیت کے قائل یہودی ہیں جبکہ آج کے دور میں بدترین بت پرست اور نسل پرست بھارت کے ہندو ہیں جو اپنے ملک کو آج کے اس سائنسی دور میں بھی تنگ نظر اور نسل پرست بنانے کے لئے اپنے ہاں ہر غیر ہندو خصوصاً ہر مسلمان اور ہر مسیحی کو نابود کرنا چاہتے ہیں لیکن قدرتِ الٰہی کا بھی حیران کن نقشہ یہ ہے کہ نامراد یہودی نسل پرست سید نا مسیح علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کرتے تھے اور ان کی نیک پاک والدہ ماجدہ حضرت مریم پر تہمتیں باندھتے تھے مگر تمام نبیوں کی تصدیق کرنے والے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ماں اور بیٹے کی شان یوں بلند فرمائی کہ سب کے منہ بند کر دیئے۔ 

سید نا مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کی جو شان قرآن کریم نے بیان کی ہے اور جو تشریح اور اضافہ حدیث نبویؐ میں ملتا ہے اس کی مثال دنیا کی اور کسی کتاب میں نہیں ملے گی! یہودیوں کی اس کوشش کو تو اسلام نے بری طرح ناکام بنا دیا اور سید نا مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کی بلند شان کا عالم یہ ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں میں سب سے زیادہ مقبول اور محترم نام یہی ہو گئے ہیں۔ مسلمان اور مسیحی بچیوں میں قدیم ناموں میں سے پیارا اور مقبول نام ماریا اور مریم ہیں۔

اگر مسلمان اور مسیحی یہودیوں اور مشرکوں کی چالوں کو ناکام بنانے کا پکا عزم کر لیں اور مسیحیت کی ابتدائی تاریخ کو بغور پڑھنے کے بعد مسلم مسیحی دوستی اور پیار کو یاد کر لیں تو آج بھی مسلم مسیحی دوستی (جسے قرآن کریم مودت یعنی خالص اور پکی دوستی کہتا ہے) تو دنیا بھر کے مسلمان اور مسیحی ایک ہو کر دنیا میں قیام امن کو حقیقت بنا سکتے ہیں کیونکہ آبادی اور معاشی وسائل بھی سب سے زیادہ انہی کے پاس ہیں، یہ دونوں مل کر تمام دنیا کو قابو کر کے راہِ راست پر ڈال سکتے ہیں۔

یہ تو آج کی حقیقت حال ہے لیکن اگر آپ سب قرآن کریم کی بات سنیں اور مسیحیت کی ابتدائی تاریخ میں جھانک لیں تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی!قرآن کریم کے چھٹے پارے کے آخر میں اور سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 82 میں اللہ تعالیٰ کا نہایت واضح اور فیصلہ کن ارشاد ہوتا ہے :’’آپ یقیناً دنیا بھر کے تمام لوگوں میں سے مسلمانوں کے شدید ترین دشمن صرف یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے مگر ان مسلمانوں کے قریب ترین خالص دوستی کرنے والا ان لوگوں کو پائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تو (سید نا مسیح علیہ السلام کو ماننے والے) نصاریٰ ہیں، یہ اس لئے ہے کہ (ان نصاریٰ میں کچھ تو) صاحب علم و دانش یعنی پادری ہوتے ہیں اور کچھ راہب یعنی درویش ہوتے ہیں جو تکبر نہیں کرتے۔

یہاں پر کتاب عزیز مسلمانوں کے مقابلے میں غیر مسلمانوں کو دو قسموں میں واضح طور پر الگ الگ کر رہی ہے ایک قسم یہود و مشرکین کی ہے یہ لوگ چونکہ نسل پرست ہوتے ہیں اور انسانی برادری اور برابری کے قرآنی تصور کو نہیں مانتے، اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک بھی نہیں مانتے اور وحدت نسل انسانی کے بھی منکر ہیں (یہ تمام باتیں سورۃ النساء کی ابتدائی آیات میں مذکور ہیں) اسلام ان کو سب سے زیادہ چبھتا ہے اس لئے یہ دونوں گروہ یا دونوں قسمیں مسلمانوں کی شدید بڑی دشمن ہیں (آغاز کار میں بھی اسلام کے شدید ترین دشمن مشرکین مکہ اور خیبر و یثرب میں آباد یہودی تھے، ان دونوں نے متحد ہو کر اسلام کا مقابلہ کیا تھا مشرکین مکہ تو مٹ گئے مگر یہودی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جزیرۂ عرب سے تو جلا وطن کر دیئے گئے مگر ان یہودیوں نے ہی روم و ایران کو اسلام کی اٹھنے والی طاقت کے خطرات سے خبردار کیا پھر تصادم ہوا جس میں رومی اور ایرانی تاریخ میں گم ہو گئے، پھر پاپائے روم کو اسلام کے خلاف انہی یہودیوں نے اکسایا، پھر پاپائے روم کے ذریعے ہی یورپ کے گورے انسان کے لئے پہلے صلیبی جنگوں کا فتنہ کھڑا کیا جو سات سو سال بعد بری طرح ناکام ہو گیا تو گورے یورپ کو اسلام کے خلاف استعمار اور سامراج کا نسخہ بھی یہود نے ہی سمجھایا، ہر مرحلے پر سود خور یہودی نے اپنا سرمایہ استعمال کیا، بیسویں صدی میں ہمارے شاعر مشرق نے بھی یورپ کو پنجۂ یہود میں دیکھ لیا تھا مگر ان طویل صدیوں کے دوران بھی یہودی مسلسل اسلام دشمنی میں پاگل ہوئے پھرتے ہیں اب تو ان کی یہودیت بھی صہیونیت میں ڈھل چکی ہے اور وہ امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سرپھروں کو صہیونیت کے پنجے میں لے چکے ہیں تاکہ امریکہ کی بے پناہ فوجی طاقت کو اپنی آخری جنگ احزاب میں استعمال کر کے مسلمانوں کو نابود کروا سکیں۔

یہ تو آپ کے علم میں ہے کہ ریاست مدینہ کے خلاف یہود اور مشرکین مکہ کی مسلط کردہ جنگوں میں آخری جنگ کا نام بھی جنگ احزاب تھا جس میں دونوں فریق بکھر گئے ذلت آمیز شکست کے بعد مشرکین مکہ تو نابود ہو گئے اور یہودی ڈیڑھ ہزار سال سے آج تک فیصلہ کن جنگِ احزاب کے لئے ٹھوکریں کھا رہے ہیں روس کے یہودیوں نے روسی بادشاہت کے کانوں میں ’’گرم پانیوں‘‘ تک رسائی کا رس گھول کر اسلامی مشرق کو تہس نہس کروانے کا منصوبہ بنایا مگر نامراد رہے لیکن سود خور یہودی کی چال بازی کا کمال دیکھیں کہ دوسری عالمی جنگ میں نڈھال ہو جانے والے یورپ کو بھی سودی سرمایہ دے کر اس کا رخ عالم اسلام کی طرف موڑ دیا پھر کارل مارکس یہودی کی معنوی اولاد نے کمیونسٹوں کو اندرا گاندھی کی مدد سے افغانستان اور پاکستان کو کچلتے ہوئے گزر کر اونگھتے ہوئے عالم اسلام کو دبوچ لینے کا مشورہ دیا تھا مگر جو اندھے کا خواب ثابت ہوا تھا مگر عالمی صہیونیت نے اب جس جنگ احزاب کا نقشہ بنایا ہے اس کا ڈھنڈورچی تو ٹرمپ کا امریکہ بھی ہے مگر اسلحہ اور سپاہ تو خود مسلمان ہیں جو ایک دوسرے پر شیعہ سنی کے زہریلے کوڑے برسا رہے ہیں مگر یہ سب کے سب عالمی صہیونیت کے تازہ منصوبے سے غافل اور بے نیاز ہیں!

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم سب مسلمان اور مسیحی اپنے دشمن کو پہچانتے ہی نہیں اس لئے مسلمان اور مسیحی آپس میں لڑتے ہیں جو اپنے دشمن کو نہیں پہچانتے وہ پھر آپس میں لڑا کرتے ہیں اسلام اور مسیحیت سے یہودی بڑے کھیل کھیلتے ہیں پہلے مسیحیت کو فرقہ پرستی میں ڈھالا اور تثلیت کا تاج پہنایا پھر مسلمانوں کو فرقہ بندی میں مبتلا کیا اور شیعہ اور سنی کے دو پہاڑ کھڑے کر دیئے تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے صرف یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ یہودی صہیونیت کا لباس پہننے کے بعد مسیحی بھائیوں کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے تاکہ صرف مسلمانوں کو الگ کر کے ان سے نپٹ لے مسیحیت کا حساب کتاب بعد میں ہو جائے گا۔

عالمی صہیونیت کا موجودہ مقصدمسلمانوں کو مسیحیت سے لڑا کر مسلمانوں کو نابود کرانا ہے، اب تک یہودی یہی کچھ تو کرتا آیا ہے اس لئے مسلمان اور مسیحی کو ایک دوسرے کے قریب آ کر خود کو پہچاننا چاہئے اپنی اپنی ابتدائی تاریخ کو اچھی طرح پڑھنا اور سمجھنا چاہئے اپنی ابتدائی تاریخ میں مسیحیت مظلوم تھی ظلم کرنے والے یمن کے یہودی بادشاہ تھے یا یروشلم میں غالب آنے والے یہودی رومی حکمرانوں سے ان پر ظلم کرواتے اور یہ مظالم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کروائے، تاریخ اس پر گواہ ہے، جزیرۂ عرب میں کئی جگہ عیسائی پادری رہتے تھے اور مدینہ میں حاضر ہوتے رہتے تھے رسول اکرمؐ انہیں اپنی مسجد میں ٹھہراتے اور عبادت کرنے کی اجازت بھی دیتے تھے، ایک مرتبہ واپسی پر جب ایک جھوٹے پادری نے رسول اکرمؐ کی شان میں گستاخی کی تو بڑے پادری نے منع کیا اور کہا کہ یہ تو وہی سچے نبی ہیں جن کی تورات اور انجیل نے بشارت دے رکھی ہے! کہا کہ پھر تم اس سچائی اور بشارت کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟ تو بڑا کہنے لگا:روم کے بادشاہ نے اس سے منع کردیا ہے اور دھمکی بھی دی ہے کہ وہ ہمارا وظیفہ بھی بند کردے گا۔

تاریخ میں شاید پہلی بار کسی حاکم نے کسی حق گو کو سچ بولنے سے منع کیا تھا؟ پھر اس رومی بادشاہ نے مشرق و سطیٰ میں موجود تمام مذہبی لوگوں کو اپنی بڑائی بیان کرنے کا حکم دے دیا، اس طرح مذہب پر سیاست کو مسلط کرنے کا مکروہ اور ناپسندیدہ قدم اٹھایا گیا اور اس کی زد میں مسیحی مشنری آگئے اور یہ رسمِ بد آج بھی جاری ہے! اس لئے مسیحی اور مسلمان اہل دانش کو اس پر بھی متفق ہونا چاہئے اور اس کار خیر کا آغاز شیخ الازہر اور موجودہ پابائے روم نے کردیا ہے، اگر موقع ہوا تو میں بھی ان کا معاون بنوں گا اور میرا یہ مقالہ اس کا آغاز ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگے بڑھے گا! میری رائے میں اس مسلم مسیحی دوستی اور مفاہمت کی کوشش میں ہمارے یورپی مسیحی بھائی بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ تو اب مذہبی تنگ نظری اور انسانیت سے نفرت کو خیر باد کہہ کر سیاسی جنگوں اور سامرا جیت پر بھی لعنت بھیج چکے ہیں اور مسلم مسیحی دوستی اور مفاہمت کے ذریعے قیام امن کو ترجیح دینے کے لئے ضرور تیار ہوجائیں گے، ضرورت اس بات کی ہوگی کہ مسلم مسیحی دوستی، محبت اور مودت کے قرآنی تصور سے انہیں آگاہ کیا جائے اور مسیحیت کی ابتدائی تاریخ میں پیغمبر اسلامﷺ کی ہمدردی، سرپرستی اور حمایت کے تاریخی حقائق سے بھی انہیں آگاہ کیا جائے، خصوصاً مسلم مسیحی تصادم اور نفرت کے ان افسانوں کو باطل ثابت کیا جائے، جو نام نہاد یہودی مشرقین نے پھیلا رکھے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ آج کے یورپ میں فراخ دل، بیدار مغز اور انسانیت دوست گورے مسیحی بھائی ہماری بات ضرور سنیں گے اور اس طرح مشرق و مغرب میں روشن خیال مسیحی اور مسلمان ایک دوسرے کو سمجھ گئے تو مسیحی مسلم دوستی اور مفاہمت سے امن کو ممکن بنادیں گے اور ہماری یہ دنیا سیدنا مسیح علیہ السلام اور محمدﷺ کی برکات سے جنت الفردوس بن جائے گی۔ باذن اللہ تعالیٰ توفیقہٗ!

مزید :

رائے -کالم -