صدر مملکت کی اداروں میں محاذ آرائی ، سیاسی انتشار کے خاتمہ کیلئے ’’ثالثی کی پیشکش‘‘

صدر مملکت کی اداروں میں محاذ آرائی ، سیاسی انتشار کے خاتمہ کیلئے ’’ثالثی کی ...
صدر مملکت کی اداروں میں محاذ آرائی ، سیاسی انتشار کے خاتمہ کیلئے ’’ثالثی کی پیشکش‘‘

  

 چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی مہم گزشتہ روز ڈرامائی شکل اختیار کرگئی ، جب سینیٹ کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آزردہ چیئرمین میاں رضا ربانی نے عندیہ دیا کہ وہ شائد 12تاریخ کو حلف اٹھانے نہ آئیں ، ان کے بین السطور اس اعلان نے ایوان کو ششدر کردیا ، جب وہ اپنے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کررہے تھے ، تو انہیں ایوان سے غالباً فرحت اللہ بابر کی جانب سے چٹ بھیجوائی گئی جس میں غالباًانہیں تحمل کا مشورہ دیا گیا تھا اس پر چیئرمین سینیٹ نے دو ٹوک اندازمیں کہا کہ آپ کی چٹیں اپنی جگہ پر لیکن میں فیصلہ کر چکاہوں ، چیئرمین سینیٹ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے رویہ سے دلبرداشتہ سے نظر آرہے تھے ، تاہم انکی جانب سے 12مارچ کو حلف نہ اٹھانے کے امکان کے اظہار کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی میں بھونچال مچ گیا ، شائد پاکستان پیپلزپارٹی چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سے اس انتہائی اقدام کی توقع نہیں کررہی تھی ، تاہم اس صورتحال کو معمول کی سطح پر لانے کی غرض سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے ان سے تفصیلی ملاقات کی اوران کے جذبات پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو پہنچائے جس کے نتیجہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو گزشتہ رات چیئرمین سینیٹ کو منانے اور ان کے تحفظات دور کرنے ان کے گھر پہنچ گئے ،اگرچہ وہ منانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن ابھی تک یہ معلوم کرنا باقی کے کہ میاں رضا ربانی اپنی کن شرائط پرپارٹی کاساتھ دینگے ، درحقیقت چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے حالیہ بیانات پاکستان پیپلزپارٹی کی’’ مفاہمت کی موجودہ پالیسی ‘‘کیلئے ایک دھچکے سے کم نہیں، درحقیقت سابق صدر آصف علی زرداری کی حالیہ غیرمعمولی مفاہمتی پالیسی کو پارٹی کے نظریاتی رہنماؤں کی جانب سے چیلنج کاسامنا ہے،بعض دور کی کوڑی لانے والے تجزیہ نگار تو نظریاتی رہنماؤں کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی کو لگنے والے صدمے کے ازالہ کے طورپر میاں رضا ربانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کے طورپر سامنے آنے کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے ، اگر ایسی کوئی پیش رفت ہوئی تو اس کے ملکی سیاست اور جمہوریت پر دور رس مثبت نتائج ہونگے ، کیونکہ میاں رضا ربانی پارلیمانی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور ریاست کے مختلف اداروں میں اختیارات کی تقسیم اور توازن کے حوالے سے ایک مضبوط فکر رکھتے ہیں بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر ز کے مابین ڈائیلاگ کی تجویذ بھی دے چکے ہیں ، اس حوالے سے گزشتہ روز بھی انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن ملک میں جاری سیاسی بحران کے تناظر میں انہوں نے اداروں کے مابین اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے تفصیلی رولنگ سے احتراز کیا تاہم ملک میں جاری شدید سیاسی تقسیم اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے ماحول میں صدر مملکت ممنون حسین کی سبکدوش ہونے والے سینیٹرز کے اعزاز میں الوداعی تقریب غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی صدر مملکت نے ملک میں جاری سیاسی انتشار کے خاتمہ اور اداروں کے درمیان وسیع تر قومی اتفاق رائے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی اہم ترین پیش کش کی ،صدر مملکت کی تجویز سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ سب اچھا نہیں، ملک میں سیاسی قوتوں اور اداروں کے مابین محاذ آرائی کا تاثر قدرے درست ہے ، صدر مملکت ممنون حسین نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پارلیمان سپریم ہے اور تمام ملکی ادارے اس کو جواب دہ ہیں انہوں نے سینیٹ کے کردار کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ سینیٹ قومی اتفاق رائے میں اہم کردار ادا کریگی ،صدر مملکت نے گزشتہ روز کے اپنے خطاب میں نہ صرف ملک میں جاری سیاسی بحران اور محاذ آرائی اور انتشار کے سنگین مسئلہ کو نہ صرف بالواسطہ طورپر تسلیم کیا بلکہ اس بحران پر قابو پانے کیلئے اپنی ثالثی کی بھی پیش کش کی ، دارالحکومت میں گزشتہ روز ہونے والی یہ اہم ترین ڈویلپمنٹ تھی ،دوسری جانب چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے مہم فائنل راؤنڈ میں داخل ہوگئی ہے ، پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے غیر مشروط طورپر اپنے سینیٹرز بلوچستان کی جھولی میں ڈال دیئے تھے اور قرین قیاس یہی تھاکہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے اتحاد کرلیں گے کیونکہ بلوچستان کے سینیٹرز پر سابق صدر آصف علی زرداری بھی اپنا دعویٰ کررہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے اس ممکنہ اتحاد پر پارٹی کے اندر اور باہر دونوں جانب سے شدید تنقید سامنے آئی جس کے نتیجہ میں پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت نہیں کریگی ، پی ٹی آئی کے گزشتہ روز کے اس اصولی فیصلہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کو اپنا چیئرمین کامیاب کروانے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں ، دوسری جانب گورنر سندھ محمد زبیر نے ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں سے ملاقات کی ہے جبکہ دارالحکومت میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فاٹا اراکین سے ملاقات میں ان سے حمایت مانگی ہے جبکہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور فضل الرحمن کے مابین ملاقات بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے دارالحکومت میں چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے سانپ اور سیڑھی کا کھیل جاری ہے ۔چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں حالیہ جوڑ توڑ میں بلوچستان کی مرکزی حیثیت نظر آرہی ہے ،پاکستان مسلم لیگ ن کو دوہری شہریت کے حوالے سے خاصی زک پہنچی ہے ، مختلف سیاسی حلقے اس ایشو کو پاکستان مسلم لیگ ن کی کامیابی کو روکنے کی کوشش میں اہم ترین رکاوٹ گردان رہے ہیں۔

تجزیہ سہیل چوہدری

مزید : تجزیہ