صحافیوں کی فلاح وبہبود کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے‘ نشاط خان ڈاہا

صحافیوں کی فلاح وبہبود کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے‘ نشاط خان ڈاہا

  



خانیوال (نامہ نگار،نمائندہ پاکستا ن) ممبر صوبائی اسمبلی نشاط احمد خان ڈاہاحلقہ پی پی 214 نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کومثالی ادارہ بنانے اور صحافیوں کی فلاح کو بہبود کے لیے وہ ہرممکن مدد کریں گے۔وہ وزیر اعلی پنجاب سے ڈسڑکٹ پریس کلب اور صحافی کالونی کے قیام کے لیے خصوصی گرانٹ لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اداروں کا وقار کردار (بقیہ نمبر52صفحہ7پر)

سے بنتا ہے نہ کہ عمارتوں سے۔ڈسڑکٹ پریس کلب کو جمہوری طریقے سے چلانا اور اس میں حقیقی صحافیوں کی ممبر شب کرناصحافیوں کا حق ہے۔ تمام سنیئر صحافیوں کو ڈسڑکٹ پریس کلب کو بہترین ادارہ بنانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی جانب سے مقامی ہوٹل میں ڈسڑکٹ پریس کلب خانیوال کے ممبران اور مقامی صحافیوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہیش ہے کہ ڈسڑکٹ پریس کلب کی بہتری کے لیے صحافی باہمی اختلافات ختم کرکے مثبت رویہ اپناتے ہوئے جمہوری طریقے سے اس ادارے کے وقار کی بحال کروائیں اور ممبران کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں تاکہ ڈسڑکٹ پریس کلب میں علمی ادبی اور صحافتی سرگرمیاں فروغ پاسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنیئر ممبران پر مشتمل کمیٹی قائم کرکے جمہوری انداز میں ڈسڑکٹ پریس کلب کا فوری الیکشن کروایا جائے اور تمام ممبران کو الیکشن میں بطور ووٹر حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جائے انہوں نے تجاویز دی کہ منتخب عہدیداران پر یہ شرط عائد کردی جائے کہ وہ مدت پوری ہونے کے بعد آئندہ دو سال کسی عہدے کے لیے الیکشن میں حصہ نہ لے سکے تاکہ تمام ممبران کوآئندہ الیکشن میں کسی بھی عہدے کے لیے الیکشن میں حصہ لینے کا موقع میسر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے تمام صحافی برابر ہیں اور ان کا کوئی فیورٹ امیدوار نہیں نہ ہی وہ اب اور آئندہ خود کسی عہدے کے اب امیدوار ہیں۔ان کی محض یہ خواہیش ہے کہ صحافی متحد ہوں تاکہ ان کا بیوروکریسی یا کوئی بھی افسرا ن کااستحصال نہ کرسکے اور ا ن کی عزت و وقار میں اضافہ ہو۔یاد رہے کہ گزشتہ تین سال سے ڈسڑکٹ پریس کلب نہ تو الیکشن ہوئے ہیں اور نہ ہی کوئی منتخب عہدیدارہے جس کے باعث ڈسڑکٹ پریس کلب زبوحالی کا شکار ہے۔تقریب میں میں 125 سے زائد مختلف اخبارات، ٹی وی چینلز اور نیوز ایجنسیوں سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی تقریب کی نقابت عبدالوحید عمرانہ نے کی۔سینئر ورکنگ جرنلسٹ فورم کے قائد انجم بشیراحمد نے خظاب کرتے ہوئے ممبر پنجاب اسمبلی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تمام سنیئر و جونیئر صحافیوں کو اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا انہوں نے کہا کہ تمام ورکنگ جرنلسٹ کو ڈسڑکٹ پریس کلب کا ممبر ہونا چاہیے اور نان ورکنگ جرنلسٹ سے فعال ہونے تک ووٹ کے حق پر پابندی عائد کی جائے انہوں نے تجاویز دی کہ تمام سنیئر ساتھیوں اور گروپس میں سے پانچ رکنی کمیٹی قائم کرکے ڈسڑکٹ پریس کلب کے فوری الیکشن کا اعلان کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان کا کسی ممبر یا گروپ سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ان کے لیے سب قابل احترام ہیں اور وہ ادارے کی بہتری کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔دی جرنلسٹس گروپ خانیوال کے میاں عبدالوحید عمرانہ اور چودھری عدنان سعید و دیگر کا کہنا تھا کہ صحافی ممبران کی طاقت کی بجائے انتظامیہ کی طاقت پر اعتماد کرنے والے لوگوں کو صحافیوں کی قیادت کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اور پریس کلب کے معاملات جمہوری طریقے سے چلائیں جائیں۔سابق جنرل سیکرٹری محمد اشرف پراچہ نے اپنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب جب پریس کلب کے آئین سے انحراف کرکے من مانے فیصلے کیے گئے تب تب صحافتی یک جہتی اور اتحاد کو نقصان ہوا-ینگ جرنلسٹس گروپ کے قائد ساجد پرویز اور سید حماد شاہ کا کہنا تھا کہ نشاط احمد خان ڈاہا نے جس طرح سے صحافتی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے وہ خوش آئند اقدام ہے اور صحافتی برادری کے حق میں جانے والے تمام فیصلوں کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں مقامی ہفت روزہ اخبار شب و روز کے ایڈیٹراور ورکنگ جرنلسٹ فورم کے سنیئر رہنماء امتیاز علی اسد کا کہنا تھا کہ جب تک صحافیوں میں اتحاد نہیں ہوگا سول سوسائٹی مضبوط نہیں ہوگی اور ظلم و بدعنوانی کے خلاف جہاد نہیں ہوسکے گا اور انہوں کہا کہ وہ ادارواں کو جمہوری انداز میں چالنے کے حامی ہیں اور اس میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گئے۔تقریب سے سنیئر صحافیوں چوہدری فرحان قیوم، ساجد خان، احمد رضا قادری، شاہد انجم اعامر حسینی اور صاحبزادہ حکیم جاوید الحسن نے بھی خطاب کیا-تقریب میں موجود تمام صحافیوں نے نشاط احمد خان ڈاہا کی پر خلوص جذبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے بہت جلدآئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا اعلان کیا۔تقریب کے دوران سنیئر صحافیوں جبکہ سنئیر صحافی محمد صدیق پراچہ اور حاجی ملک محمد اسلم کی وفات پر دلی دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لیے دعائے خیرکی گئی اور کی صحافتی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مقامی ہفت روزہ اخبار شب و روز کے ایڈیٹر امتیاز علی اسد کا کہنا تھا کہ جب تک صحافیوں میں اتحاد نہیں ہوگا سول سوسائٹی مضبوط نہیں ہوگی اور ظلم و بدعنوانی کے خلاف جہاد نہیں ہوسکے گا۔ عامر حسینی اور صاحبزادہ حکیم جاوید الحسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کا آئین وہ بنیادی دستاویز ہے جس کی پیروی کرنے سے ہی پریس کلب میں جمہوریت بحال ہوسکتی ہے-- جبکہ سنئیر صحافی محمد صدیق پراچہ کی وفات پر دلی دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لیے دعائے خیر بھی کی گئی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر