آزادی ء نسواں کی حدود و قیود

آزادی ء نسواں کی حدود و قیود

  



خواتین کا عالمی دن اس مرتبہ زیادہ جوش و جذبے سے منایا گیا، وجہ شاید یہ تھی کہ عورت مارچ رکوانے کے لئے بعض درخواست گزار عدالتوں میں چلے گئے، انہیں وہاں سے یہ جواب ملا کہ خواتین کو مارچ سے نہیں روکا جا سکتا، البتہ ضلعی انتظامیہ کے ذمہ دارآئین و قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے مارچ کی اجازت دیں اور مارچ کرنے والی خواتین اس امرکا لحاظ رکھیں کہ کوئی قابلِ اعتراض نعرہ نہ لگایا جائے۔ یوں عورت مارچ بھی ہوا، نعرے بھی لگائے گئے،کتبے بھی اٹھائے گئے، البتہ خواتین کے حقیقی مطالبات پرزیادہ زور نہیں دیا گیا یا وہ دوسرے نعروں میں دب کر رہ گئے ، جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام تکریم نسواں ریلیاں نکالی گئیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام حیا مارچ کیا گیا ہر شہر میں ہر قسم کی ریلیاں پُرامن رہیں، البتہ اسلام آباد میں پتھراؤ کے واقعات ہوئے ایک دوسرے پر جوتے بھی پھینکے گئے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کئی دنوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو بھائی اپنی بہنوں کو باپ کی وراثت میں حصہ نہیں دیتے انہیں انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ نہ دیا جائے۔ اس سے یہ بات سامنے آ گئی کہ کم از کم جماعت اسلامی ایسے امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دے گی جو بہنوں کا وراثتی حق مارتے ہیں لیکن یہ اہتمام تو صرف انتخابی امیدواروں تک محدود رہے گا جو لوگ الیکشن نہیں لڑتے ان کی تعداد تو بہت زیادہ ہے ان میں سے بھی بیشتر اسلام کے وراثتی قانون پر عمل نہیں کرتے، بڑے جاگیردار تو اس بات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں کہ وہ بہنوں کو حصہ نہیں دیں گے تاکہ ان کی جاگیریں تقسیم نہ ہوں لیکن اس میں بھی استثنائی صورتیں موجود ہیں۔ بعض متمول خواتین کو ان کی شادی کے موقع پر والدین کی طرف سے زرعی اراضی جہیز میں دی جاتی ہے۔ اس لئے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ پورے معاشرے میں وراثت کے اسلامی قانون کو نظر انداز کیا جاتا ہے البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس قانون پر سو فیصد عمل نہیں ہو رہا،تو ضرورت ایسی قانون سازی کی ہے کہ خواتین کو وراثت میں حصہ یقینی بنایا جائے اور حکومت کو اس سلسلے میں آگے بڑھنا چاہیے۔خواتین کا وراثتی حق غصب کرنے والوں کو انتخابی ٹکٹ نہ دینا ایک جزوی اقدام ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورا معاشرہ اس سلسلے میں اسلامی قانونِ وراثت پر کماحقہ، عمل کرے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستانی خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا زندگی کے ہر میدان میں منوایا ہے۔ زیادہ مواقع ملنے پر وہ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔بعض شعبوں میں تو خواتین کی نمائندگی بڑی بھرپور ہے البتہ کئی شعبے ایسے ہیں جہاں خواتین کی موجودگی نسبتاً کم ہے۔ اب تو با وردی سیکیورٹی فورسز میں بھی خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ تعلیم اور میڈیکل کے شعبے میں البتہ خواتین بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سی خواتین طب و صحت کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بوجوہ اپنی اس تعلیم کو فیض رسانی کا ذریعہ نہیں بناتیں شائد اسی لئے ذمہ دار ادارے میڈیکل کالجوں میں خواتین کے داخلے کم کرنے کی تجاویز سامنے لاتے رہتے ہیں بلکہ ایک بار تو اس پر عمل درآمد کی کوشش بھی کی گئی۔ موقف یہ اختیارکیا گیا کہ خواتین میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے کی بجائے گھر بیٹھ جاتی ہیں ان کی جگہ اگر مردوں کو داخلہ دیا جائے تو ڈاکٹروں کی کمی پوری ہو سکتی ہے تاہم یہ معاملہ عدالتوں میں پہنچا تو اس اقدام کو صنفی امتیاز کے مترادف قرار دیا گیا اور یوں اس پر عمل نہ ہو سکا۔

عالمی یوم خواتین پر ہونے والے مارچوں میں پاکستان میں خواتین کے حقوق سے تو کسی کو انکار کرتے ہوئے نہیں سنا گیا البتہ ہر کسی نے ان حقوق کو اپنی اپنی سوچ و فکر کے طابع کرنے کی کوشش کی، لبرل خواتین کو جو نعرے پسند تھے ان کے مارچ میں وہی زیادہ سنائی دیئے اور کتبے بھی زیادہ تر ایسے ہی نعروں پرمشتمل تھے۔ خال خال ہی ان خواتین کا کوئی متعین مطالبہ سامنے آیا ورنہ زیادہ ترعمومی نوعیت کے تھے۔ مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے مارچ میں خواتین کی تکریم و حیا پر زور دیا گیا اور خواتین کو مغرب کی تقلید سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی جہاں آزادی کے نام پر عورتیں اتنی دور چلی گئی ہیں کہ گھروں کا تقدس مجروح بلکہ تار تار ہو رہا ہے۔ مردوں کی برابری کے جنون میں ان خواتین کو معاشی میدان میں وہی سختیاں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں جو خواتین کی آزادی سے پہلے محض مردوں کے نصیب میں تھیں جو پورے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ اب خواتین بھی معاشی مشقت کی چکی میں مرد کی طرح ہی پس رہی ہیں تو کبھی کبھی انہیں احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے برابری کے جنون میں اپنے لئے ایسے مشکل گڑھے کھود دیئے ہیں جن سے انہیں بچنا چاہیے تھا۔

مقام اطمینان ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو احترام اور عزت کا مقام حاصل ہے وہ اگر زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں تو وہاں بھی انہیں ایک باوقار مقام نصیب ہے۔کام کے اوقات میں اگر خواتین کو ہراسگی کا سامنا ہو تو اس کے لئے قوانین موجود ہیں اور شکایت کے فورم بھی ہیں۔ضرورت صرف یہ ہے کہ ان قوانین پر موثر عملدرآمد ہو اور جہاں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں وہاں انہیں کسی قسم کی ہراسگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہراسگی کے جو کیس وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں ان میں دیکھا یہی گیا ہے کہ قانون کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا بعض صورتوں میں خود خواتین معاملے کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتیں۔ معزز و محترم خواتین کو جنہوں نے یوم خواتین پر مارچ کئے یہ ضرور طے کرنا چاہیے کہ وہ اپنے لئے جو حقوق اور آزادی چاہتی ہیں ان کی حدود و قیود کیا ہوں،اگر وہ مغربی معاشروں اور تہذیبوں کی تقلید میں بلا سوچے سمجھے آگے بڑھتی چلی جائیں گی تو پھر وہ کسی نہ کسی دن اسی گہرے گڑھے میں گر جائیں گی جس میں مغرب کی عورت گر چکی اور اب باہر نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے تو کامیابی نہیں ہو رہی، چونکہ یہ معاشرے مساواتِ مرد و زن کی دوڑ میں کسی قدغن کو خاطر میں نہیں لائے اس لئے کہیں کہیں یہ خواتین کے لئے جہنم زار بن کر رہ گئے ہیں جس کا احساس بھی موجود ہے اس لئے ان ملکوں اور معاشروں کی خواتین کو جو ابھی آزادیء نسواں کے مغربی مقام پر نہیں پہنچ پائے اب بھی سوچ بچار کر لینی چاہیے کہ عورتوں کی آزادی کی حدود کہاں سے شروع ہوں اور کہاں ختم ہوں۔ جو نعرے اس وقت اپنے اندر کشش رکھتے ہیں ایک وقت وہ بھی آ سکتا ہے جب یہی گلے کا طوق بن جائیں گے۔بہتر ہے یہ وقت نہ آنے دیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ