کرونا: چین میں شدت کم، دنیا میں بڑھ گئی!

کرونا: چین میں شدت کم، دنیا میں بڑھ گئی!

  



چین سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں کرونا وائرس کی شدت میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم یہ جرثومہ دنیا بھر میں پریشانی کا اور خوف کا باعث بنا ہوا ہے۔ اب تک 103 ممالک میں پھیلنے کی خبر ہے۔ چین کے بعد ایران، اٹلی اور جنوبی کوریا زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔ اٹلی میں مرنے والوں کی تعداد تو 133 تک پہنچ گئی تاہم متاثرین لاکھوں میں ہیں اور ملک کے گیارہ صوبے قرنطینہ کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں 6 سے زائد متاثرہ افراد کی شناخت ہوئی اور ایک شہر کو بلاک کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ایک مریض کے صحت یاب ہونے کی خبر دی گئی تو ایک اور شخص میں وائرس کی تشخیص ہو گئی ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تسلی دی ہے کہ ملک میں صورت حال قابو میں ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ بروقت انتظامات کی وجہ سے ملک وباء کے پھیلاؤ سے بچ گیا ہے اور اب انتظامات مزید بہتر بنائے جا رہے ہیں۔ ملک میں آمد کے راستوں پر چیکنگ کا نظام زیادہ موثر بنا دیا گیا ہے۔ مشیر صحت کا یہ فرمانا اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی ہی میں اگر پہلا مریض صحت یاب ہوا تو وہاں دوسرا کیس سامنے آ گیا ہے۔ اس لئے زیادہ لاپرواہی یا غفلت کا مظاہرہ نقصان دہ ہوگا۔ دوسری طرف یہ خبر بھی ہے کہ ودیان (چین) کے ایک ہوسٹل میں پاکستان کا ایک طالب علم جاں بحق ہو گیا جس کا تعلق گجرات سے ہے، وہ اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا چینی حکام موت کی وجہ معلوم کرنے کے لئے تحقیق کر رہے ہیں، اس اطلاع سے ان طلباء کے لواحقین میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے جن کی نوجوان اولاد ابھی تک پھنسی ہوئی ہے۔ حکومت کو وضاحت کرتے وقت چین میں موجود طلباء، تاجروں اور شہریوں کے بارے میں بھی بتانا چاہئے اور یہ سمجھ کر کہ یہاں زیادہ افراد متاثر نہیں ہوئے چین سے نہیں بیٹھ جانا چاہئے۔ انتظامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بیرون ملک خصوصاً ایران سے بہت لوگ پڑتال کے انتظامات سے پہلے آ چکے اور یہاں جن افراد میں وائرس پایا گیا وہ بھی ایران ہی سے ہو کر آئے تھے۔ اس لئے آگاہی مہم اور چیکنگ کا نظام زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے علاوہ علاج کے لئے ادویات کا ذخیرہ موجود ہونا بھی ضروری ہے۔

مزید : رائے /اداریہ