جناب وزیراعظم صاحب وقت جا رہا ہے (1)

جناب وزیراعظم صاحب وقت جا رہا ہے (1)
جناب وزیراعظم صاحب وقت جا رہا ہے (1)

  



موجودہ حکومت کو قائم ہوئے ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور ابھی تک کوئی بڑا مثبت اقدام سامنے نہیں آیا۔ سالہا سال سے مایوس پاکستانی عوام وزیراعظم عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کئے ہوئے ان کے برسراقتدار آنے کے منتظر تھے……(پاکستانی عوام کی دنیا میں یہ منفرد خوبی ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کرتے اور ہمیشہ کسی مسیحا کے منتظر رہتے ہیں، چاہے وہ فوجی جنرل ہی کیوں نہ ہو) جناب وزیراعظم صاحب آپ نے تو لوگوں کو امیدیں ہی اتنی زیادہ دلا دی تھیں کہ لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کہ اِدھر عمران خان کی حکومت آئی، اُدھر پاکستان دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جا کھڑا ہو گا، کیونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ آتے ہی،بقول آپ کے پرانے تمام کرپٹ سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کی بیرون ممالک پڑی اربوں ڈالرز کی رقم کو برآمد کر کے درآمد کر لائیں گے اور وطن عزیز کے تمام قرضہ جات ادا کر کے بھی وافر ڈالر بچ جائیں گے، اس طرح پاکستان کا بجٹ بھی فالتو ہو جائے گا،پھر ملک میں فوری طور پر ایک کروڑ نئی نوکریاں اور پچاس لاکھ مکان سالانہ بننا شروع ہو جائیں گے۔

عوام کا یہ بھی خیال تھا کہ پاکستان میں جتنے وسائل ہیں، وہ بھی برآمد ہو جائیں گے، جس سے ہماری برآمدات زیادہ اور درآمدات میں نمایاں کمی ہو گی اس طرح ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا،بازار میں نہ تو کسی چیز کی کمی ہو گی اور نہ قیمتوں میں بے جا اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم صاحب ہمارے عوام آپ کی حکومت میں ریاستی اداروں سے بدعنوانی کے مکمل خاتمے کی توقع بھی لئے ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ آپ کی حکومت آتے ہی ہر کام مفت اور میرٹ پر ہوگا…… چونکہ آپ کی جماعت کا نام تحریک انصاف پاکستان ہے اور آپ کو یاد بھی ہوگا کہ جب آپ نے جماعت کی داغ بیل ڈالی تھی، تب آپ کہتے تھے کہ اس ملک کا نظام عدل درست کریں گے، اگر اس ملک کا عدالتی نظام درست ہو گیا تو پھر ہر قسم کی بدعنوانی خود بخود ہی دم توڑ دے گی۔ پیارے وزیراعظم صاحب آپ نے خود ہی کئی بار فرمایا تھا کہ وزیراعظم، گورنروں اور بیوروکریسی کے بڑے بڑے گھروں کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ یہ بھی آپ ہی نے فرمایا تھا کہ چونکہ سابقہ حکمران کرپٹ ہیں، جنہیں عوام ٹیکس دینے سے گریزاں ہیں،ہماری حکومت ایماندار ہو گی لہٰذا لوگ ٹیکس خوشی سے دیں گے، جس سے اس ملک میں پیسے کی کوئی کمی نہیں رہے گی اور دوسرے ممالک سے لوگ ہمارے ہاں نوکریاں کرنے آئیں گے۔

جناب وزیراعظم صاحب:

کج انج وی راہواں اوکھیاں سن، کج گل وچ غم دا طوق وی سی

کج شہر دے لوک وی ظالم سن، کج سانوں مرن دا شوق وی سی

جناب غلطی دونوں طرف آپ ہی کی بنتی ہے کہ آپ نے اس ملک کو کرکٹ کا میدان اور عوام کو تماشائی کی بجائے فیلڈر سمجھ لیا تھا کہ اُدھر آپ گیند پھینکیں گے اور اگر گیند بلے پر لگ بھی گئی تو میرے فیلڈر کیچ نہیں چھوڑیں گے۔جناب وزیراعظم صاحب آپ نے ملکی حالات اور اپنے عوام کا غلط اندازہ لگا رکھا تھا تو اس کا دوش بھی ہم آپ ہی کو دیں گے ناں!……جناب وزیراعظم صاحب ہمارے ملک کے محاوروں میں ایک پنجابی کا محاورہ ہے کہ ”ہون وی ڈلیاں بیراں دا کج نئی گیا“…… اس محاورے کی تشریح کچھ اس طرح ہے کہ بیر ایک قدرتی درخت بیری کا پھل ہے، لوگ بیری سے بیر توڑ کر اپنی جھولی میں ڈال کر لے جاتے تھے اور کبھی کبھار دھیان اِدھر اُدھر ہوا یا پھر آپ کی طرح تیزی دکھائی، یعنی دوڑ پڑے تو ٹھوکر لگنے سے بیر جھولی سے گر گئے۔ جس کے بیر گر جاتے،وہ رونے لگتا تو کسی سیانے نے کہا کہ اب بھی کچھ نہیں ہوا، ان بیروں کو دوبارہ اُٹھا لیا جائے تو کوئی نقصان نہیں ہوا، کیونکہ بیری سے بھی تو یہ بیر نیچے ہی گرے تھے ناں! ……جی ہاں،آپ بھی یہ سمجھ لیں کہ ابھی وقت آپ کے ہاتھ میں ہے اور اب تک آپ اندر کی رمزیں بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ آپ کے پیش رو حکمرانوں کے ساتھ کیا مسائل تھے؟ کہاں عہد نبھائے گئے اور کہاں وعدے ٹوٹتے رہے؟ کس کے پاس کیا اختیارات تھے اور کس کے اوپر کتنا دباؤ تھا؟ جناب وزیراعظم صاحب راقم ناقص ذہن کے ساتھ آپ کو ایک مشورہ دینے کی جسارت کر رہا ہے اور وہ یہ کہ میرا خیال ہے کہ اس ملک پاکستان میں آج تک سول حکمرانوں کو جتنا وقت دیا جاتا رہا ہے، وہ تابع فرمان رہ کر کچھ مال بنانے اور پروٹوکول لینے کے لئے ہوتا ہے۔

آپ کے پیش رو سیاست دانوں میں سے اگر کوئی عوام کی حقیقی خدمت کا جذبہ لے کر بھی آیا تو اندر کے حالات دیکھنے کے بعد اپنے ارادے بدل لیے اور سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے کسی نے مزاحمت کی کوشش ہی نہ کی،بلکہ حکومت سے جو مفاد مل سکتا تھا، سمیٹ لیا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ نہ تو مال بنانے کے خواہش مند ہیں، نہ پروٹوکول کے بھوکے، تو پھر آپ مقابلہ بھی کر سکتے ہیں اور اپنے سلیکٹروں کو بھی حیران کر سکتے ہیں۔جناب وزیراعظم صاحب آپ کو کرنا یہ ہے کہ اداروں کی سمت درست کرنی ہے اور ایک ایسا نظام بنانا ہے، جس میں لوگ پھنس کر بدعنوانی سے باز رہیں۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی بات مان کر آپ کی مانند ایماندار ہو جائیں یا خاتون اول کی طرح نیک اور پاکباز ہو جائیں تو یہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ انسان پیدائشی طور پر لالچی ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب آپ کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس ملک کا نظام بدلیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر دوسرا یہ کہ اس سے پہلے کہ آپ کو چلتا کیا جائے،آپ خود ہی اسمبلیاں توڑ کر عوام کے سامنے ساری حقیقت بیان کر کے دوبارہ انتخابات میں قسمت آزمائیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے! اس کا قابل ِ عمل منصوبہ میرے اگلے ہفتے کے کالم میں ملاحظہ فرمائیں۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم