”میرا جسم، میری مرضی“…… مغرب میں فکرمندی (2)

”میرا جسم، میری مرضی“…… مغرب میں فکرمندی (2)

  



ییل رپورٹ (2017ء) کے مطابق: ”ایک ہی ملک میں مختلف نسلی گروہوں میں اس شرح میں مجموعی طور پر بھی فرق دیکھا گیا ہے۔ امریکی سیاہ فاموں میں شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 71فیصد، جبکہ امریکہ کی لاطینی آبادی میں یہ شرح 53فیصد، مگر سفید فاموں میں یہ شرح 29فیصد ہے۔ یاد رہے کہ آج سے 50سال پہلے امریکہ میں مجموعی طور پر یہ شرح 7فیصد تھی، اب مجموعی طور پر تقریباً 40فیصد ہے“……یہاں ایک فطری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مغربی معاشرہ ہمیشہ سے ایسا تھا؟…… بروکنگ کی رپورٹ کے مطابق: ”شادی کے بغیر پیدائش کی شرح میں اضافہ پچھلے 50برسوں کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔ مثلاً: 1964ء میں ”آرگنائزیشن آف اکنامک اینڈ کوآپریٹو ڈویلپمنٹ‘ (OECD …… معاشی و باہمی تعاون کی ترقیاتی تنظیم) میں شامل بیشتر ممالک میں بغیر شادی بچوں کی تعداد، کل بچوں کے 10فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی تھی، جبکہ 2014ء کے اعدادوشمار کے مطابق ان ممالک میں صرف یونان، ترکی، اسرائیل، ساؤتھ افریقہ اور جاپان وغیرہ ایسے ملک ہیں، جہاں یہ شرح 10فیصد سے کم ہے۔ یاد رہے ”معاشی و باہمی تعاون کی ترقیاتی تنظیم“ میں 35ممالک شامل ہیں اور یہ بلند ترین قومی معاشی پیداوار کے حامل ممالک ہیں، جن میں شمالی امریکہ، شمالی اور مغربی یورپ اور آسٹریلیا کے علاوہ جنوبی کوریا، اسرائیل، ترکی اور جاپان بھی شامل ہیں“……ایک اور دلچسپ بات یہ کہ وہاں کی ریاست چونکہ ان بچوں کو اپنی ذمہ داری تصور کرتی ہے

اور معاشرے میں اسے بُرا نہیں سمجھا جاتا، اس لئے بھی ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ثابت ہے کہ اس رجحان میں اس وقت سے اس تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب سے ریاست نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے۔بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کے مسائل: ایسے زیادہ تر بچے ”سنگل والدین“ کے ساتھ پلتے ہیں، کچھ فوسٹر ہوم، یعنی اڈاپٹڈ ]اختیار کردہ[ والدین کے ساتھ اور کچھ اپنے حیاتیاتی (اصلی) ماں باپ کے ساتھ پلتے ہیں، جو بعض صورتوں میں شادی کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔ بعض ماں باپ بچہ پیدا ہونے کے بعد شادی بھی کر لیتے ہیں، مگر ان کا تناسب بھی کم رہ گیا ہے۔یاد رہے کہ سنگل پیرنٹ کا تصور صرف بنا شادی کی پیدائش سے وابستہ نہیں،بلکہ کبھی کبھی ماں یا باپ کی موت یا طلاق اور علیحدگی کی وجہ سے بھی، بچے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ پلتے ہیں۔ جوزف چیمی کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے 3ارب بچوں میں سے 23کروڑ بچے اکیلے والدین کے ساتھ پلتے ہیں۔

شادی کے بغیر خواتین کی بچوں کے انتخاب کی وجہ: یاد رہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بعض اوقات خواتین خود اکیلی ماں بننے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس معاملے میں ”مصنوعی تولیدی عمل“ ……Insemination…… یا ٹیسٹ ٹیوب وغیرہ سے، یعنی بغیر فطری عمل کے بھی بچہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس انتخاب کی وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ معاشرے میں بغیر شادی، جنسی تعلق عام ہونے کے باعث مرد شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریاں اٹھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جان باپکنز رپورٹ 2016ء کے مطابق: ”بعض عورتیں جن میں اکثریت سیاہ فام عورتوں کی ہے، خود بغیر شادی بچے چاہتی ہیں“۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آزادانہ اختلاط کے باعث اس معاشرے میں عورتیں مردوں کے مقابلے میں اولاد کو زیادہ قابل ِ بھروسا ساتھی خیال کرتی ہیں۔ کچھ خواتین اسقاطِ حمل اس لئے نہیں کرواتیں کہ کیتھولک مذہب میں اسقاط حرام ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں مذہب کا کوئی کردار نہیں، لیکن راقمہ کے مشاہدے کے مطابق اس کے برعکس ایسی عورتیں بھی موجود ہیں، جو عیسائیت کی اس پابندی کا احترام کرتی ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ خود کیتھولک عیسائی مذہب بھی موجودہ ابلاغی و سماجی دباؤ کے باعث ”آزادانہ جنس کاری“ کے خلاف بات نہیں کر سکتا، کیونکہ معاشرے میں اس کے خلاف بات کرنے کو انسانی حقوق کے منافی سمجھا جاتا ہے……بروکنگز رپورٹ کے مطابق: ”دوسرے بچوں کے مقابلے میں بغیر شادی پیدا ہونے والے اکیلی ماؤں کے بچے، پیدائش کے وقت کم وزن پیدا ہونے، بعد کی زندگی میں جسمانی اور نفسیاتی صحت کے مسائل کا شکار ہونے،سکولوں میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے، اپنے والدین کی طرف سے نظر انداز اور دوسروں کی زیادتیوں کا شکار ہونے کے نتیجے میں بڑے ہو کر خود مجرم بننے کے امکانات کا زیادہ شکارہوتے ہیں“۔

٭…… ”اکیلی ماں“ پر منفی اثرات: بچے کے علاوہ بچے کی غیرشادی شدہ اکیلی ماں کی زندگی پر بھی اس کے بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے سکول سے ڈراپ آؤٹ ہونے کے امکانات دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی مائیں عام طور پر اپنا کیرئیر نہیں بنا پاتیں اور اپنے آپ کو مالی طور پر خودکفیل نہیں بنا سکتیں۔ پانچ میں سے صرف ایک خاتون کو بچے کے باپ سے مالی مدد ملتی ہے، مگر قانون کے باوجود ان سے پیسے نکلوانا آسان نہیں ہوتا۔ نتیجتاً ایسی عورتیں حکومت کی ”رفاہی یا خیراتی سکیم“ سے امداد حاصل کرتی ہیں اور طویل عرصے تک اس واجبی وظیفے پر گزارا کرتی رہتی ہیں۔

٭…… بڑھتا ہوا معاشی بوجھ:اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بچے ٹیکس دینے والوں پر ایک بوجھ ہوتے ہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے میتھمٹک پالیسی ریسرچ سنٹر کی تحقیق کے مطابق کم عمر غیرشادی شدہ ماؤں اور ان کے بچوں پر حکومت ہر سال امریکی ٹیکس دینے والوں کا 7ارب ڈالر خرچ کرتی ہے، اسی لئے اس رحجان کو کم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

٭…… اس مسئلے کا حل کیا ہو؟:بروکنگ انسٹیٹیوٹ کی یہ تحقیق امریکی حکومت کو متعدد تجاویز دیتی ہے۔ اس میں سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ بچوں کو سکول کی سطح پر شادی سے پہلے جنسی تعلقات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کم از کم شادی تک جنسی تعلقات سے پرہیز کرسکیں، لیکن معلوم نہیں اس حل کے عملی نفاذ کا خواب کتنا دور ہے، کیونکہ امریکی اور مغربی معاشرے میں شادی کے بغیر جنسی تعلق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا عورت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ والدین تک اپنے بچوں کو اس اخلاق باختگی سے روکیں تو یہ ذاتی معاملات میں مداخلت سمجھا جاتا ہے،اِس لئے ایسی کسی تجویز پر عمل درآمد کے امکانات صفر سے بھی کم ہیں۔

٭…… نتیجہ: آبادی کا بحران اور معاشرتی انتشار: اس معاملے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ عورتوں اور جوڑوں کی اکثریت اب بچے پیدا کرنے سے پرہیز کر رہی ہے۔ مانع حمل ادویات اور اسقاط حمل کو عورت کا بنیادی حق تسلیم کر لیا گیا ہے۔ مغرب کے بیش تر ممالک آبادی کے بحران کا شکار ہیں، خصوصاً معاشی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک میں آبادی میں اضافے کی شرح بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اس حد تک کم ہو رہی ہے کہ بہت سے ممالک اپنی صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیسری دُنیا کے پناہ گزینوں کے لئے اپنے دروازے کھولنے پر مجبور ہیں۔ یاد رہے ان تمام ممالک میں شرح اموات شرح پیدائش کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے اور اس سے آہستہ آہستہ یہ قومیں نا پید ہوتی جا رہی ہیں۔

آبادی میں کمی کے اس رجحان کو صرف مغرب میں نہیں، جاپان جیسے بلند ترین شرح آمدنی رکھنے والے صنعتی ملک میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ دو سال قبل جاپان کی ٹوہوکو یونیورسٹی میں جاپانی قوم کو بتدریج ناپید ہونے کی خبر دینے والے گھڑیال کی تنصیب کی گئی،جو سیکنڈ کے حساب سے جاپانی آبادی میں کمی کی لمحہ بہ لمحہ نشان دہی کرتا ہے۔ 2017ء میں شائع ہونے والی یورپ کی آبادی کے بارے میں ”برلن انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘کی رپورٹ کے مطابق دُنیا کی آبادی میں یورپ، خصوصاً یورپی یونین (EU) کا حصہ معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپی معیشت اس وقت دُنیا کی کامیاب ترین معیشت ہے، لیکن اس رپورٹ اور متعدد تحقیقات کے مطابق دُنیا میں سب سے کم شرح پیدائش اِس وقت یورپ میں ہے اور سب سے زیادہ اوسط عمر بھی یورپ میں ہی ہے۔ یاد رہے کہ یورپ میں لاتعداد تحقیقی ادارے اور ”مراکز دانش“ مستقبل میں آبادی کی کمی سے پیش آنے والے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے مصروفِ عمل ہیں، لیکن تاحال خبریں کچھ اچھی نہیں ہیں۔ مذکورہ بالا رپورٹ کے مطابق جرمنی میں آئندہ نسلوں میں کام کرنے والے، پنشن لینے والے بوڑھوں کے مقابلے میں کم ہوتے جائیں گے۔ یوں مینوفیکچرنگ اور خدمات سے متعلقہ صنعتوں کو مطلوبہ افرادی قوت نہیں مل سکے گی۔

باقی یورپ کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ خوش حال یورپ اور بہت سے دوسرے مغربی ممالک کے ارباب اختیار آبادی میں مسلسل کمی پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کسی قوم کی بقا کے لئے آبادی کی شرح پیدائش میں، جس کم سے کم اضافے کی ضرورت ہوتی ہے، اکثر مغربی ممالک اس حد تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔مغرب کی لاتعداد یونیورسٹیوں اور ”مراکز دانش“ میں اس موضوع پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس وقت یورپ،بالخصوص جرمنی خوش حالی اور معاشی ترقی کے رول ماڈل ہیں، لیکن اگر آبادی میں کمی کی شرح اسی رفتار سے جاری رہی تو چند عشروں کے بعد آبادی میں کمی کی وجہ سے معاشی بحران کا سامنا کرسکتا ہے۔دُور اندیش قومیں آنے والے مسائل کا حل ایک آدھ صدی پہلے تحقیق کے ذریعے ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ”برلن انسٹیٹیوٹ“ کے ڈائریکٹر رینہر کولینگس کا یہ کہنا ہے کہ ”عالمی منظرنامے میں اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے یورپ کو آنے والے دور میں جن جدید اور اختراعی خیالات و افکار اور تجدیدی عمل پسندی کی ضرورت ہے،وہ نوجوانوں کے بغیر ممکن نہیں، لیکن افسوس،ان کی تعداد بہت تیزی کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔

ہمارے نزدیک آبادی میں کمی کی واضح وجوہ خواتین کا بڑی تعداد میں ورک فورس کا حصہ بننا، شادی کے رجحان میں کمی، طلاقوں کی زیادتی، ہم جنس جوڑوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینا ہے…… لیکن اس میں سر فہرست آزادانہ جنسی تعلقات کی قانونی اور معاشرتی اجازت ہے، جس کی وجہ سے جوڑے شادی کی پابندی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے، اور اسے ایک دوسرے کی قید تصور کرتے ہیں۔ مانع حمل طریقوں اور اسقاطِ حمل کے حق نے آزادانہ جنسی تعلقات کو اور بھی آسان کردیا ہے۔ یہ حق بھی”میرا جسم، میری مرضی“ کے تحت عورت کے حق کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔یہ رجحانات محض سماجی تبدیلیوں کا ہی با عث نہیں بن رہے، بلکہ فی الوقت مغرب کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں،جو اس وقت تارکین ِ وطن کے گرد گھوم رہی ہے اور گذشتہ کئی عشروں تک گلوبلائزیشن (عالم گیریت) میں کامیابی کے بعد مغربی معاشرہ دوبارہ نسل پرستی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ایسے میں ”میرا جسم، میری مرضی“ یعنی فری سیکس کے نعرے کو خواتین کے حق کے طور پر متعارف کروانے کی کوشش کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ آزادانہ جنسی تعلقات خواتین کے خلاف ہی نہیں، ملک اور قوم کی بقا کے خلاف بھی سازش ہیں اور اس سازش کو پروان چڑھانے والے ہی اس کا نشانہ بھی ہیں۔ (ختم شد)

مزید : رائے /کالم