کپتان کے منہ زور کھلاڑی

کپتان کے منہ زور کھلاڑی
کپتان کے منہ زور کھلاڑی

  



لو جی اب تو کپتان نے بھی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ حکومت کے کئی وزراء بے لگام ہیں، ایسے ایسے بیانات داغتے ہیں کہ خود ان کے لئے مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ پہلا وزیر اعظم دیکھا ہے جو اپنے ہی وزراء کی شکایت کر رہا ہے۔ نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کے دور میں کسی وزیر کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کوئی ایسا بیان دے جو حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث بنے۔ اب اس پر اگر پی ٹی آئی والے یہ دلیل لاتے ہیں کہ عمران خان ایک جمہوری ذہن رکھتے ہیں، اس لئے انہوں نے آزادیئ اظہار دی ہوئی ہے، تو پھر وہ شکوہ کیوں کر رہے ہیں؟ انہیں تو وزراء کو شاباش دینا چاہئے کہ وہ چن چن کر ایسی باتیں کہتے ہیں، جن سے تحریک انصاف کی حکومت خود اپنی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ اب تک وزیر اعظم عمران خان نے اپنے صرف ایک وزیر کی زبان بند کرائی ہے۔ فیصل واؤڈا ان خوش قسمت وزراء میں شامل ہیں،جن پر عمران خان نے خاص نظر کرم ڈال کر انہیں چپ کرا دیا ہے، وگرنہ جتنی درفنطنیاں فواد چودھری، فردوس عاشق اعوان، شیخ رشید، شہر یار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان اور اعظم سواتی نے چھوڑی ہیں، ان کے مقابلے میں فیصل واؤڈا کا ٹی وی پروگرام میں بوٹ لے کر آنا،پھر اس پر گفتگو فرمانا ایک بہت چھوٹا عمل نظر آتا ہے۔

میڈیا سے تو وزیر اعظم کا شکوہ جائز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ میڈیا نے ہمیشہ انہیں آڑے ہاتھوں لئے رکھا ہے۔ انہوں نے آج سے دس پندرہ سال پہلے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ میڈیا پر ان کی شخصیت آسیب کی طرح چھا جائے گی، کچھ تعریف اور کچھ تنقید میں ان کا روزانہ ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہوں گے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں عمران خان کی خبر اخبارات کے آخری صفحہ پر 2 کالمی بھی بمشکل چھپتی تھی۔ پرائیویٹ ٹی وی چینل تو ابھی آئے نہیں تھے۔ اس لئے پی ٹی وی انہیں دکھاتا ہی نہیں تھا۔ ان دنوں وہ میڈیا کی اہمیت کو پوری طرح سمجھتے تھے، لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں تھا کہ نوازشریف اور بے نظیر بھٹو میڈیا کو کس طرح کنٹرول کرتے رہے ہیں؟ انہیں تو یہ بھی علم نہیں ہوگا کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر کو بھی میڈیا مینجمنٹ کے لئے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔

آج وزیر اعظم عمران خان اس بات پر چڑ جاتے ہیں کہ چینلوں کے نمائندے مائیک اٹھا کر لوگوں سے ”نئے اور پرانے“ پاکستان کا سوال کیوں پوچھتے ہیں؟ مہنگائی کے بارے میں سوال کیوں کرتے ہیں؟ لوگ جب کہتے ہیں کہ انہیں نئے پاکستان میں آکر سخت مایوسی ہوئی ہے اور ان کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے تو اس بات کو بھی وزیر اعظم منتخب حکومت کے خلاف میڈیا کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کے وزراء چونکہ زیادہ مہارت نہیں رکھتے کہ ان سوالوں کو اِدھر اُدھر کے جوابات سے ٹال سکیں، اس لئے وہ سچ بول جاتے ہیں، اس بات کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ مہنگائی بڑھی ہے اور حکومت کنٹرول نہیں کر سکی۔ شاید وزراء کی انہی باتوں کو وہ ہدف تنقید بنا رہے ہیں …… پھر اس حقیقت سے بھی کون انکار کر سکتا ہے کہ کابینہ کے اندر ایک گہرا انتشار موجود ہے۔ وزراء کے گروپ بنے ہوئے ہیں، حکومت کا ایک مؤقف تو آج تک سامنے نہیں آ سکا ہے۔ وزراء ایک دوسرے کے بیانات کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ جب صورت حال یہ ہو تو بگاڑ کیسے رک سکتا ہے؟ کئی وزراء تو ایسے بھی ہیں کہ ہر فن مولا کہلا سکتے ہیں، ہر شعبے میں ٹانگ اڑاتے ہیں، ہر شعبے میں منہ مارتے ہیں، حتیٰ کہ خزانے کا مشیر بھی سیاست میں دخل دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی بے لگام صورت حال کا نتیجہ کچھ اچھا تو نہیں نکل سکتا۔

مجھے یقین ہے کہ وزراء کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان سے وزراء کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہوگا، نہ ہی انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہو گی کہ ان کا وزیر اعظم ان کے بیانات کی وجہ سے کتنا دکھی ہوتا ہے، بلکہ اُلٹا انہیں خوشی ہوئی ہو گی کہ اپنے بیانات کی وجہ سے وہ وزیر اعظم کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں، اس لئے ان کی اہمیت دوسروں سے زیادہ ہے۔ اگر کوئی یہ سوال پوچھ بیٹھے کہ آخر وزراء کی کارکردگی کیا ہے؟ تو سوائے بغلیں جھانکنے کے ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ وزراء کے الٹے سیدھے بیانات کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بے اختیار ہیں، سارے اختیارات محکموں کے سیکرٹری صاحبان نے سنبھال رکھے ہیں اور وہ براہ راست وزیر اعظم کو جوابدہ ہیں۔ ایک شیخ رشید احمد ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ با اختیار وزیر ہیں، تاہم ان کا یہ دعویٰ بھی ساکھ بچانے کی ایک کوشش ہی نظر آتا ہے، کیونکہ ریلوے میں بہتری کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ کابینہ میں چہیتے اور غیر چہیتے وزراء کی تقسیم بھی موجود ہے۔ کئی وزراء کو تو کابینہ اجلاس کے دوران بھی وزیر اعظم کے قریب پھٹکنے کا موقع نہیں ملتا، عرضداشت پہنچانا تو دور کی بات ہے،جبکہ کچھ وزراء ایسے ہیں جو وزیر اعظم کے کلوز سرکل میں شامل رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر الٹے سیدھے بیانات بھی یہی وزراء دیتے ہیں۔ اب ایک طرف وزیراعظم کی یہ بات ہے کہ بعض وزراء اپنے بیانات سے ان کے لئے مسائل کھڑے کرتے ہیں اور دیکھا جاتے تو سب سے زیادہ اہمیت بھی انہی کو حاصل ہے، اب اس دو عملی کا علاج کیسے کیا جائے؟

چند ماہ پہلے وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں یہ وارننگ دی تھی کہ وزراء اپنی کارکردگی بہتر بنائیں، ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کے کابینہ میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہی بات انہوں نے عثمان بزدار کے ذریعے پنجاب کابینہ کے ارکان تک بھی پہنچائی تھی۔ یہ بڑا اچھا اقدام تھا، اس کے بعد کچھ افواہیں بھی اڑیں کہ فلاں فلاں وزیر کی چھٹی ہونے والی ہے، مگر کاریگروں نے ایسے داؤ پیچ آزمائے کہ وزیر اعظم اس خوف میں مبتلا کر دیئے گئے کہ اگر وزیروں کی اکھاڑ پچھاڑ کی تو حکومت جس شاخِ نازک پر کھڑی ہے، وہ ٹوٹ جائے گی۔ سو وزیروں کو نکالنے کا منصوبہ ختم ہو گیا، بلکہ کابینہ کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑا۔ جب سے مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور حکومت کے دیگر اتحادیوں نے آنکھیں دکھانا شروع کی ہیں، وزیروں کے مزید وارے نیارے ہو گئے ہیں۔ الٹے سیدھے بیانات دینے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم سے نہ پوچھو کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟بس اپنی حکومت چلائے جاؤ، کیونکہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ……مسلم لیگ (ن) نے حکومت کو خوفزدہ کرنے کے لئے نئے حربوں کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی میں شاہد خاقان عباسی کی شہباز شریف کے کہنے پر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں سے ملاقات ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری بھی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کر چکے ہیں۔ اِدھر پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کچھ ہیوی ویٹ سیاسی شخصیات کو (ق) لیگ میں شامل کر چکے ہیں اور افواہیں یہ گرم ہیں کہ قومی حکومت بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ سونے پر سہاگہ، مولانا فضل الرحمن کی دوبارہ تیاریاں ہیں اور اس بار وہ کسی کی بات نہ ماننے کا تہیہ کر کے میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب ایسی صورتِ حال میں وزیر اعظم عمران خان اپنے کسی وزیر کو ناراض کرنے کا رسک کیسے لے سکتے ہیں؟ البتہ وہ اظہار افسوس کے انداز میں وزراء کو یہ باور ضرور کرا سکتے ہیں کہ اپنی اداؤں اور اپنے بیانات پر غور کریں، کیونکہ ان کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں،کم نہیں ہو رہے…… مگر سیاست کی گرم بازاری میں کون سنتا ہے فغانِ درویش!

مزید : رائے /کالم