افغانستان کے مستقبل کا سنریو

افغانستان کے مستقبل کا سنریو
افغانستان کے مستقبل کا سنریو

  



افغانستان پر لکھنا اور پاکستانیوں کو اس پر آگاہی دینا اس لئے ضروری ہے کہ اس تنازعے میں پاکستان ایک بڑا سٹیک ہولڈر ہے۔ ہمارے مستقبل کے کئی مفادات اس مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کابل، قندھار اور ہرات وغیرہ کے طول و عرض میں ہمارا دشمن 15،20 برس سے آکر بیٹھا ہوا ہے۔ اس نے کئی بلین ڈالر کا سرمایہ افغانستان میں لگایا ہوا ہے۔ افغانستان کی اسمبلی کی نئی بلڈنگ، افغانستان کا ایک بڑا ڈیم، ایران سے افغانستان تک ایران سے ہوتی ہوئی ایک شاہراہ تعمیر کی ہوئی ہے (اس کا آخری حصہ زیر تکمیل ہے افغانستان اور ایران کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے انڈیا نے پاکستان کے دو صوبوں (کے پی اور بلوچستان) میں بہت سے رخنے بنائے ہوئے ہیں، کئی خوابیدہ سیل قائم کر رکھے ہیں، پشتین موومنٹ میں انڈیا کا ایک بڑا کردار ہے اور انڈیا کی طرف سے افغانستان میں اسلحہ اور گولہ بارود کا ایک بڑا ذخیرہ مسلسل آتا رہتا ہے جو طالبان اور پاکستان کے خلاف کئی گرم اور خفیہ آپریشنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

29فروری کو دوحہ (قطر) میں جو معاہدہ طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پایا تھا۔ وہ مجھے 1918ء میں پہلی عالمی جنگ کے بعد طے پانے والے مارسیلز امن معاہدے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ معاہدہ جرمنی اور اتحادی ممالک کے درمیان طے پایا تھا اور جرمن قوم کے لئے بے حد باعثِ ندامت تھا۔ جرمنی نے از راہِ مجبوری اس معاہدہ پر دستخط تو کر دیئے تھے لیکن اسی کی کوکھ سے دوسری عالمی جنگ کی شروعات پیدا ہوئی تھیں اور اسی امن معاہدے سے ہٹلر نے جنم لیا تھا۔ 21برس بعد 1939ء میں ہٹلر نے اتحادیوں کی ”بہہ جا بہہ جا“ کروا دی تھی اور سارے یورپ کو روند ڈالا تھا۔ امریکہ بھی 19،20برس سے افغانستان میں آ بیٹھا ہے اور اس کے ساتھ انڈیا بھی اپنا الو سیدھا کر رہا ہے۔ یہ افغانستان۔ امریکہ وار اتنا طول نہ کھینچتی، اگر پاکستان، افغانستان کا ہمسایہ نہ ہوتا اور پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات اس جنگ کے نتیجے کے ساتھ نتھی نہ ہوتے۔ امریکہ یہ ارادہ لے کر کابل میں وارد ہوا تھا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے اس کی جھولی میں آ گریں گے۔ اس کا یہ ارادہ کامیابی کی منزل تک پہنچ گیا تھا اگر افواج پاکستان اپنا ”تن، من، دھن“ دہشت گردوں کے خلاف نہ جھونکتیں اور سوات، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور سابق فاٹا میں اپنے ہزاروں افسروں اور جوانوں کی قربانی نہ دیتیں۔ ان آپریشنوں کی بہت ساری خبریں سارے پاکستانیوں کو معلوم تو ہیں لیکن کئی ساری ”نامعلوم“ بھی ہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ ان ”نامعلوم“ آپریشنوں، مذاکرات، خفیہ کارروائیوں، پوشیدہ میل جول اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی تفصیلات سے پردہ سرکے گا اور ہم پاکستانیوں کو معلوم ہوگا کہ افواجِ پاکستان نے اہلِ پاکستان کو سُکھ کی نیند سلانے کے لئے اپنی کیا کیا اور کتنی نیندیں قربان کی تھیں، کیسی کیسی ناقابلِ یقین ابتلائیں جھیلی تھیں اور کس سکیل کی قربانیاں دی تھیں۔ دوحہ میں جس امن معاہدہ پر دستخط ہوئے، وہ امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان اس رسہ کشی (Tug of War) کا نتیجہ تھی جو 20برس تک جاری رہی۔

آج ٹرمپ کو یہ کہنا پڑا ہے کہ: ”ہم مزید 20برس تک افغانستان کے تحفظ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ ہمیں اپنی فوج کی اپنے ملک میں ضرورت ہے۔ افغانستان میں افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس جس کو ہم نے ایک ڈیڑھ عشرے تک تربیت دی ہے، اس کو اب اپنے ملک کے تحفظ کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے……“ یہ اعترافِ شکست دنیا بھر کی فوجی اور اقتصادی طاقتوں کے لئے چشم کشا اعتراف ہے۔ یہ اعتراف درپردہ پاکستان کی مسلح افواج کی ”پس پردہ“ کارکردگی کا بھی اعتراف ہے۔ اور یہ صرف پاکستانی افواج ہی نہیں، پوری کی پوری پاکستانی قوم کو ایک زبردست خراجِ عقیدت ہے۔ …… ذرا اندازہ تو کیجئے کہ ایک طرف دنیا کی واحد سپریم ملٹری پاور ہے اور دوسری طرف ننگ دھڑنگ خالی جیب، محروم جدید ٹیکنالوجی اور خانہ برشانہ طالبان ہیں جو 20سال سے مسلسل پابہ رکاب اور شمشیر بدست ہیں اور ہنوز اپنے خچروں اور گھوڑوں پر سوار ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی مانا ہے کہ: ”ہم اب تھک چکے ہیں“ اور اس ”ہم“ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس ”ہم“ میں صرف ہم امریکی شامل ہیں، افغان طالبان شامل نہیں کہ وہ ہنوز تازہ دم ہیں، ہشاش بشاش ہیں اور غضب کے جنگجو ہیں۔ ٹرمپ کے الفاظ یہ ہیں:

I think after 19...... actually colse to 20....years, they (Talban) are also tired. But they are warriors and they are fighters and that is what they have done for a thousand years.

یہ الفاظ جنابِ صدر نے جمعرات 6مارچ کو سکران ٹن (Scranton) پنسلوانیا میں دوحہ میں امن معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے۔ جب ستمبر 2001ء میں صدر بش جونیئر نے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا اور طالبان کی حکومت ختم کر دی تھی تو کیا اس وقت بھی ساری دنیا نے نہیں کہا تھا کہ: ”افغانستان بڑی بڑی بادشاہیوں (Empires) کا قبرستان ہے۔ جو بھی یہاں حملے کی غرض سے آیا ہے نامراد لوٹا ہے؟“…… اب 20برس بعد بش جونیئر کے ایک جانشین نے یہ اعتراف کیا ہے تو کیا ملا برادر اور اس کے ساتھی ”انٹرا افغان مذاکرات“ میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو اپنا صدر تسلیم کر لیں گے؟ جو شخص، گروہ یا ملک یہ سوچ رہا ہے کہ طالبان اور موجودہ افغان حکومت میں جو مذاکرات ہوں گے ان میں اشرف غنی یا شمالی اتحاد والوں کا کوئی حصہ بھی ہو گا کیا وہ احمقوں کی جنت ہے؟ طالبان کے اپنے گزشتہ 5سالہ دورِ حکومت (1996ء تا 2001ء) میں شمالی اتحاد کے قبضے میں افغانستان کا صرف 5فیصد علاقہ ایسا تھا جس پر رشید دوستم وغیرہ کا تسلط قائم تھا لیکن اب آنے والے برسوں بلکہ کیا مہینوں میں اندھوں کو بھی نظر نہیں آ رہا کہ جن طالبان نے امریکہ کو تھکا تھکا کر بھگا دیا ہے، وہ ”اشرف غنی اینڈ کو“ کو کس کھاتے میں لکھیں گے اور انڈیا کے ”کالیا“ کا کیا بنے گا؟…… حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قوم، پاکستانی حکومت، پاکستان ملٹری سب کی سب ایک ”نئے پاک افغان سنریو“ کے نظارے کے لئے چشم براہ ہیں۔

اس وقت امریکہ کے 13000 ٹروپس افغانستان میں موجود بتائے جا رہے ہیں جو جلدی ہی کم ہو کر 8600رہ جائیں گے اور اگلے 14ماہ تک (مئی 2021ء تک) کوئی سفید فام یا سیاہ فام امریکی افغانستان کے طول و عرض میں دکھائی نہیں دے گا، خاکی فام بھارتیوں کو یہی منظر اپنے دیس کے مسلمانوں پر ستم ڈھانے کا سبب بن رہا ہے…… وائٹ ہاؤس، پینٹاگون، CIA، کانگریس اور پوری امریکی قوم ویت نام وار کے بعد تاریخ کی طویل ترین جنگ سے تھک کر واپس جانے کے لئے تیار ہے۔ 29فروری کو جب دوحہ امن معاہدہ طے پایا تھا تو ٹرمپ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بڑھک بھی ہانکی تھی کہ اگر طالبان نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو امریکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ طالبان پر حملہ کرکے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔ لیکن نہ تو اشرف غنی نے 5000طالبان قیدیوں کو رہا کیا اور نہ طالبان نے افغان آرمی پر حملے بند کئے اور ابھی تین روز پہلے کابل میں جو 32اہلِ تشیع مارے گئے ہیں وہ کن کے طرفدار تھے؟…… کیا طالبان کا یہ ایکشن صدر اشرف غنی کے لئے چشم کشا نہیں؟

میں آنے والے ڈیڑھ دو برسوں میں افغانستان کا جو منظر نامہ دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ……(1) امریکہ بہادر ازراہِ مجبوری و بے چارگی افغانستان سے نکل جانے کا اپنا ”وعدہ“ پورا کرے گا…… (2) طالبان بڑی باریک بینی سے امریکی انخلاء (Drawdown) کی پراگرس کو مانیٹر کریں گے اور دریں اثناء امریکیوں کو نکل جانے کی ”اجازت“ دے دیں گے…… (3) دریں اثناء افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس بھی محض دکھاوے کے لئے طالبان کی مزاحمت کرے گی لیکن درپردہ طالبان سے ڈیل کرکے مستقبل میں طالبان نیشنل آرمی اور طالبان نیشنل پولیس کا حصہ بن جائے گی…… (4) امریکہ اور یورپی ممالک، طالبان کو ISIS (داعش) وغیرہ کو افغانستان کے کوہ و دمن سے نکالنے کے عوض طالبان حکومت کو اقتصادی امداد کے علاوہ مادی اور اسلحی امداد بھی دیں گے…… (5) انڈیا کو دم دبا کر واپس جانا پڑے گا…… (6) پاکستان اور مستقبل کی طالبان حکومت کے درمیان دوستانہ روابط کی استواری میں افغانستان کی تعمیرِ نو میں پاکستان کا رول قابلِ ذکر ہو گا…… (7) افغان مسلح افواج کی ٹریننگ کے لئے پاکستان دستِ تعاون دراز کرے گا اور مواصلاتی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں چین اور پاکستان مل کر طالبان حکومت کی مدد کریں گے……(8) چین CPEC کے منصوبے کو افغانستان تک بڑھائے گا……(9) پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو طالبان کی ہمہ جہتی اور کثیر الاطرافی مدد کرتے وقت یہ خیال رکھنا پڑے گا کہ پاکستانی طالبان کو اپنا برابر کا بھائی سمجھیں اور برادرِ بزرگ یا برادرِ خورد کا ”کیڑا“ ذہن سے نکال دیں …… (10) اور یہ تازہ ترین خبر جوکل کے میڈیا میں فلیش کی گئی ہے کہ روس اور امریکہ دونوں کسی ”اسلامی امارت“ یعنی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے تو یہ دونوں (روس اور امریکہ) تو چلے ہوئے کارتوس ہیں، ان کو ”اسلامی امارت“ نے بالترتیب 1980ء کے ایک عشرے میں اور 2000ء تا 2020ء کے دو عشروں میں جس طرح ذلیل و رسوا کرکے افغانستان سے نکالا، کیا وہ رسوائی ان کو یاد نہیں؟

مزید : رائے /کالم