قوت خرید میں کمی کرونا کا خوف یا انتظامات پر عدم اعتماد، حج درخواستوں میں ریکارڈ کمی

قوت خرید میں کمی کرونا کا خوف یا انتظامات پر عدم اعتماد، حج درخواستوں میں ...

  



لاہور (رپورٹ،میاں اشفاق انجم)سرکاری حج سکیم کی مقبولیت میں بڑی کمی 2016ء سے اب تک درخواستوں میں آدھے سے بھی زیادہ کمی ہوگئی۔جبکہ حج پیکیج کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے سرکاری حج سکیم آگے بڑھ کر پھر 2008ء کی سطح پر آگئی۔2016ء میں تاریخ کی سب سے زیادہ سرکاری حج سکیم کی درخواستیں 3لاکھ 61ہزار موصول ہوئیں۔یہ سال سرکاری حج سکیم کا عروج کا سال تھا۔2017ء میں کمی شروع ہوئی تقریبا 3لاکھ 28ہزار، 2018ء تقریبا 2لاکھ 80ہزار، 2019ء میں 2لاکھ 16ہزار 2020ء میں ایک لاکھ 50ہزار درخواستیں موصول ہو گئیں۔حج 2020ء کیلئے حج درخواستیں گزشتہ سال سے 35فیصد کم وصول ہوئیں ہیں سرکاری حج وسائل کے حساب سے سب سے آگے ہے وزارت مذہبی امور کا کروڑں روپے کا بجٹ ملک بھر میں پھیلے ہوئے حاجی کیمپوں کا نیٹ ورک جدہ،مکہ، مدینہ میں دفاتر اور سینکڑوں افراد کا عملہ پاکستان سے جانیوالے ایک لاکھ 7ہزار حاجیوں کے لیے مخصوص ہے اب وزارت نے 3سے 4لاکھ زائرین جو شام، عراق اور ایر ان جاتے ہیں ان کے لیے قانون سازی کی مہم شروع کی ہے۔16لاکھ عمرہ زائرین کے لیے ابھی تک کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ عمرہ کا نظام سارے کا سارا سعودی عمرہ کمپنیوں کے رحم وکرم پر ہے۔تمام وسائل کے باوجود حج 2019ء کا سرکاری حج مسائل کا شکار ہوا”روز نامہ پاکستان“کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطا بق سب سے زیادہ درخواستیں 2016ء میں آئیں جن کی تعداد 3لاکھ 61ہزار کے قریب تھی سرکاری حج سکیم کے عروج کا سال تھا اس وقت سیکرٹری مذہبی امور سہیل عامر تھے اس کے بعد سر کاری حج سکیم کو بیگ گیئر لگا سرکاری حج سکیم کی درخواستوں میں ہر سال کمی ہوتی چلی گئی 2020ء میں 2016ء کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم درخواستیں آئیں عام آدمی کی قوت خرید میں کمی یا کرورنا وائرس کا خوف یا سرکاری انتظامات پر عدم اعتماد۔ الگ الگ حلقوں کے الگ الگ موقف ہیں۔وزارت مذہبی امور درخواستوں میں تیزی سے ہوتی ہوئی کمی پر خاموش ہے۔

درخواستیں

مزید : صفحہ آخر