اپوزیشن قانون سازی میں کردار ادا نہیں کررہی: بشارت راجہ

اپوزیشن قانون سازی میں کردار ادا نہیں کررہی: بشارت راجہ

  



لاہور(نمائندہ خصوصی)صوبائی وزیر قانون بشارت راجہ نے کہا ہے پنجاب اسمبلی کے رواں اجلاس میں اورنج ٹرین کے کرائے کا معاملہ ز یر بحث آئے گا مختلف آرڈی نینسز اور بل قانون سازی کیلئے ایوان میں پیش ہوں گے، اپوزیشن اپنا وہ کردار ادا نہیں کر رہی جو اسے کرنا چا ہیے، حکومت کی کوشش رہی ہے کہ اپوزیشن کو آن بورڈ رکھیں اور ساتھ لیکر چلیں،پروڈ کشن آرڈر کا مطلب ہے کہ وہ رکن ایوان میں آئے اور کارروائی میں حصہ لے، ہم نے پروڈکشن آرڈر پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی بھی اجازت دی۔ اسمبلی اگر کوئی رعا یت دیتی ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے اور قانونی تقاضے پورے کرنا چاہیے،آج تک اپوزیشن لیڈر نے اپنے ریکوزیشن کئے ہوئے اجلاس میں امن و امان ا و ر مہنگائی پر کتنی بار بحث کی،اپوزیشن لیڈر نے چار سیکنڈ کیلئے بھی ایوان میں آکر بات نہیں کی۔ اپوزیشن ایوان میں بات کر نے کی بجائے اسمبلی کی سیڑھیو ں پر احتجاج کرتی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بشارت راجہ نے کہا کہ ہم نے میڈیا کی نشاندہی سے اپنی کوتاہیاں درست کیں،اجلاس میں قا نو ن سازی، پری بجٹ پر بحث ہو گی اورنج لائن میٹرو ٹرین کا معاملہ بھی پنجاب اسمبلی میں زیر بحث لایاجائیگا،بابا گرونانک یونیورسٹی، پنجاب ایگریکلچرل سمیت چار بل لائیں گے،پنجا ب اسمبلی میں بہتر سے بہتر قانون سازی کی، اپوزیشن کو موقع دیاکہ وہ بھی شرکت کرے قانون سازی میں وہ کردار ادا کرے جو اسکا حق ہے مگراس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا،حکومت اپوزیشن کو آن بورڈ اور ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے، پروڈکشن آرڈربھی اسی لئے جاری کیے لیکن قانون سازی کیلئے کسی ایک ممبر نے جو جیل یا حراست میں ہے نے قانون ساز ی میں وہ کردار ادا نہ کیا۔انہوں نے کہا سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں پروڈکشن آرڈرز والے لوگ نہیں آئے۔اپوزیشن والے ایوان میں بات نہیں کرتے حالانکہ جمہوری انداز میں با ت کرنے سے اسمبلی کی پروسیڈنگ میں سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔ اختلاف رائے اپوزیشن کا حق لیکن دوسروں کا موقف بھی سنیں، انہیں اپنے رویے درست کرنیکی ضرورت ہے، اپوزیشن بلدیاتی بل پر تحفظات کااظہار کرتی لیکن انہوں نے بل کوہی متنازعہ بنادیا۔اپوزیشن ہمارے سا تھ سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کی بات باہر نہ کرے بلکہ حکومت کیساتھ ہم آ ہنگی پیدا کرے۔حمزہ شہباز کو پروڈکشن آرڈر کی سہولت دے ر ہے ہیں، وہ اسمبلی اجلاس میں بزنس کی باتیں کرتے ہیں، دوستوں سے ملتے اور سازشیں کرنے میں وقت گزار د یتے ہیں۔صوبائی وزیر قا نو ن کا مزید کہنا تھا وہ سیاست ضرور کریں لیکن پروڈکشن آرڈر کی صورت میں جو رعایت اسمبلی میں عوام کی بات کرنے کیلئے دیاجاتی ہے ا سے ایماند ا ری سے انجا م دیں۔نوازشریف کو بیس ہفتے ہو گئے کس ہسپتال میں علاج کروایا آج بھی کسی کارڈیک ہسپتال کے پاس نہیں گئے کئی بار کہا وا پس آ جائیں، نوازشریف اپنا کون سا علاج کروا ر ہے ہیں اور ان کا علاج کب مکمل ہونا ہے لیکن اس کابھی بتایا نہیں جارہا۔ ا پوزیشن کے لو گو ں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کااختیار سپیکر کے پاس ہے، حکومت کچھ نہیں کر سکتی، اور نج لائن ٹرین کا کرایہ پچاس سے دو سو ستاسی رو پے کی تجاویز کیبنٹ کو دی گئیں،ابھی تک کرایہ طے نہیں ہوا۔میٹرو ٹرین پر پچاس ارب روپے سبسڈی دیں تو ہسپتال یا تعلیم کو نہیں پیسے د ے پائیں گے۔ نوازشریف کو اشتہاری قرار دینے کیلئے عدالت سے رجوع کرنا پڑتاہے اگر وہ علاج کروا رہے ہیں تو کب مکمل کروائیں گے۔نوازشریف کی حوالگی کیلئے برطانیہ کو لکھے خط پر سفارتخانہ کام کررہاہے، نوازشریف کے باہر جانے سے پہلے خط کی بات طے تھی۔ نو ا ز شر یف کی واپسی کیلئے برطانوی حکومت کو بھی متعلقہ اداروں سے خط لکھنے کیلئے سوچ بچار جاری ہے۔اورنج لائن میٹرو ٹرین کی پو ر ی لاگت پر قر ضوں کی واپسی شروع ہو گی تو جہاں قوم پر بوجھ آ جائیگا، وہیں اورنج لائن میٹرو ٹرین بنانے والوں پر سوالیہ نشان بھی آئیگا،کیونکہ یہ منصوبہ بنا نے والوں نے صوبے کی معیشت کو تباہی کے دہانی پر لاکھڑا کیاہے۔بجٹ بحث پر اورنج لائن میٹرو ٹرین پر تجاویز لائیں گے۔

بشارت راجہ

مزید : صفحہ آخر