انسداد منشیات کے نئے قانون کے تحت ملزم کی ضمانت کنفرم

انسداد منشیات کے نئے قانون کے تحت ملزم کی ضمانت کنفرم

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس سیدعتیق شاہ نے انسدادمنشیات خیبرپختونخوا کے نئے قانون کے تحت گرفتارملزم کوضمانت پررہا کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں ملزم کی جانب سے نورعالم خان ایڈوکیٹ نے درخواست کی پیروی کی استغاثہ کے مطابق اضاخیل پولیس نے سات جنوری2020ء کوایک کاروائی کے دوران ملزم اشرف علی کو گرفتارکرکے اس کے قبضے سے 27کلو چرس اور 4کلو افیون برآمد کی جوملزم نے گاڑی کے خفیہ خانوں میں چھپارکھی تھی ملزم کی گرفتاری پراس کی ضمانت پررہائی کی درخواست دائرکی گئی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ ملزم کو نئے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اسکی گرفتاری غیر قانونی ہے کیونکہ نئے قانون بنے ہوئے چار ماہ گزرنے کے بعدبھی تاحال ملزمان کی مقدمات کی ساعت کے لئے سپیشل کورٹس نہیں بنائے گئے اور نہ ہی ایسے کیسز کے حوالے سے ضلعی عدالتوں کو ئی اختیارات دئے گئے ہیں۔ اس نئے قانون کے مطابق ملزمان کی گرفتاری اور انوسٹیگیشن کے لئے پولیس کے اختیارات کے حوالے سے کوئی نوٹیفیکیشن نہیں ہواہے ملزم گاڑی کا ڈرائیور ہے اور نہ مالک نہ منشیات کے بارے میں اس کو کوئی علم تھا اور نہ ہی اس سے کوئی ڈرائیونگ لائسنس برآمد ہوا۔ دلائل مکمل ہونے پر ملزم کو 3لاکھ دو نفری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر