بحران کے خاتمہ کیلئے روایتی ڈگر سے ہٹ کر پنجابی فلمیں بنانا ہونگی

  بحران کے خاتمہ کیلئے روایتی ڈگر سے ہٹ کر پنجابی فلمیں بنانا ہونگی

  



لاہور (فلم رپورٹر) کراچی میں اس وقت ڈرامہ انڈسٹری بحران کی جانب گامزن ہے۔کراچی میں زیادہ تر پروڈکشن ہاؤسز کو تالے لگا دیئے گئے ہیں جہاں 100ڈرامے بن رہے تھے وہاں پر 15سے16ڈرامے زیر تکمیل ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ڈرامہ انڈسٹری بھی قصّہ ماضی بن جائے گی۔چند سینئرڈائریکٹرز کا کہنا ہے کہ اگلے دو سالوں میں ٹی وی میڈیا کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا لے لے گا جس کے بعد چینلز کیلئے نہیں بلکہ ویب کیلئے فلمیں اور ڈرامے بنائے جائیں گے۔پروڈکشن ہاؤسز کی تباہی کی تمام تر ذمہ داری چینلز کے سر پر ہے جنہوں نے ادائیگی کرنے میں اس حد تک تاخیر کی کہ پروڈکشن ہاؤسز کو تالے لگانا پڑ گئے۔کراچی میں فلمیں تسلسل سے بنائی جا رہی ہیں دوسری جانب لاہور کی ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اس وقت لاہور میں متعدد پنجابی اور پشتو فلمیں بنائی جا رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی ڈرامے بھی بن رہے ہیں لاہور میں فن و ثقافت کی بحالی کے لئے سینئر لوگوں کی کوششوں اور کاوشوں کی جتنی تعریف کی جائے-

وہ کم ہے۔کراچی میں ڈرامہ انڈسٹری کے بحران کی وجہ چینلز کی جانب سے بروقت ادائیگی کا نہ ہونا ہے۔اگر یہی حال رہا تو کراچی میں بھی لاہور والا حال ہوجائے گا۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اب روائتی ڈگر سے ہٹ کر پنجابی فلمیں بنانا ہوں اسی صورت میں بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ اس وقت جوجو لوگ اس سلسلے میں کام کررہے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے لاہور میں پنجابی فلمیں دوبارہ تسلسل کے ساتھ بننے سے غریب تکنیک کاروں کو بے روزگاری سے بچایا جاسکے گا ان گھروں میں ایک بار پھر چولہا جلنا شروع ہوجائے گا۔اب نگار خانوں کی ویرانی میں کمی نظر آرہی ہے۔

مزید : کلچر