ایم ٹی آئی ایکٹ اسمبلی میں پیش کرنا قابل مذمت ہے،پی ایم اے

  ایم ٹی آئی ایکٹ اسمبلی میں پیش کرنا قابل مذمت ہے،پی ایم اے

  



لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، حکومت پنجاب کی طرف سے متنازعہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ((MTI ایکٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کے عمل کی مذمت کرتی ہے۔ صحت پر کوئی بھی قانون سازی کرنے سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ وہ پی ا یم اے پنجاب اور دیگر فریقین سے مشاورت کرے۔ یہ واضع حقیقت ہے کہ پی ایم اے پنجاب، اُس کی تمام برانچیں اور دیگر فریقین اِس ایکٹ کے خلاف ہیں کیونکہ یہ نہ تو مریضوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی صحت کے شعبہ میں کام کرنے والوں کے مفاد میں۔ایم ٹی آئی ایکٹ کے مطابق سرکاری ہسپتال ایک طاقتور بورڈ آف گورنر ز کے ماتحت چلائے جائیں گے۔یہ بورڈ نجی شعبے سے لیے گئے افراد پر مشتمل ہو گا۔پی ایم اے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر، ایم ٹی آئی ایکٹ کے حوالے سے پنجاب حکومت کے خلاف پی ایم اے پنجاب اور اُس کی تمام برانچوں کی جدوجہد اور موقف کی حمایت کرتی ہے۔

پی ایم اے کا ماننا ہے کہ حکومت پنجاب انفرادی طور پر یہ قانون سازی نہ کرے بلکہ اُسے چاہیے کہ تمام فریقین کے ساتھ مشاورت کرے اوراتفاق رائے سے اس مسئلے کو حل کرے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4