سیاسی بحران میں شدت،اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے افغان صدارت کا الگ الگ حلف اٹھا لیا

سیاسی بحران میں شدت،اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے افغان صدارت کا الگ الگ ...

  



کابل (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) افغانستان میں نو منتخب صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف اور سابق چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ نے الگ الگ حلف اٹھا لیا۔تفصیلات کے مطابق افغانستان میں سیاسی بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نومنتخب صدر اشرف عنی کی تقریب حلف برداری کے دوران ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ نے بھی ایک متوازی تقریب میں اپنے آپ کو صدر قرار دے کر حلف اٹھا لیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں نومنتخب صدر اشرف غنی نے حلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے نام پر حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مذہب اسلام کی پاسداری اور حفاظت کروں گا اور آئین کی تکریم اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کروں گا۔افغان میڈیا کے مطابق نو منتخب صدر اشرف غنی کی تقریب میں سابق صدر حامد کرزئی، عبدالرب رسول سیاف اور یونس قانونی بھی شریک تھے۔دوسری جانب اشرف غنی کے حلف اٹھانے کے منٹوں کے بعد ہی عبداللہ عبداللہ نے بھی حلف برداری کی تقریب منعقد کی جس میں انہوں نے خود کو نومنتخب صدر قرار دے کر حلف اٹھایا۔اشرف غنی نے دوسری مدت کیلئے افغانستان کے صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد کہا کہ طالبان کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کا طریقہ کار طے پاگیا ہے اور اس حوالے سے صدارتی فرمان جاری کردیا جائے گا۔اشرف غنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت میں صرف ہمارے سیاسی گروپ کے ارکان شامل نہیں ہوں گے بلکہ مشاورت کے بعد وسیع حکومت ہوگی لیکن سابق کابینہ دو ہفتوں تک کام کرے گی۔تقریب حلف برداری کے دوران فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، اس دوران اشرف غنی جذباتی ہو گئے اور کہا کہ میں نے کوئی بلٹ پروف جیکٹ نہیں پہنی، عام کپڑے پہنے ہیں، یہ سینہ اس ملک اور یہاں کے لوگوں پر قربان ہونے کیلئے تیار ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تقریب حلف برداری کے دوران مشتبہ طور پر دھماکے سنے گئے، حملے راکٹ حملوں کے ذریعے کیے گئے۔

افغان/صدور

مزید : صفحہ اول