قومی اسمبلی،بھارت میں مسلمانوں کے قتل کیخلاف متفقہ مذمتی قرار داد منظوری

  قومی اسمبلی،بھارت میں مسلمانوں کے قتل کیخلاف متفقہ مذمتی قرار داد منظوری

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں بھارت میں مسلمانوں کے قتل اور ان پر ڈھائے جانیوالے مظالم کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت معاملہ اوآئی سی، سلامتی کونسل میں اٹھائے اور انڈیا حکومت کو مجبور کیا جائے تا کہ انڈیا میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا اورانسانی حقوق کی پامالی کو روکا جاسکے، ذمہ داران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔مذمتی قرارداد وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے متحدہ قومی مو ومنٹ و دیگر اراکین کی جانب سے ایوان میں پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان بھارت میں مقیم مسلما ن شہداء کیلئے دعا گو اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار اور انتہا پسند ہندوؤں کی سفاکی پرزور مذمت کرتا ہے۔قومی اسمبلی میں حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے الاؤنسز،رفاہی اداروں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے رجسٹریشن اوروزیر اعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام سمیت 5بل پیش کر دئیے۔ارکان پارلیمنٹ کے الاؤنسز سے متعلق بل کے تحت اب ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ ان کے خاندان کے لوگ بھی فر ی سفری سہولیات حاصل کر سکیں گے،رفاہی اداروں کی رجسٹریشن سے متعلق بل کا مقصد رفاہی اداروں کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں،جیسے دہشت گردی، انتہا پسندی یا کسی قومی یا بین الاقوامی قانون کی رو سے غیر قانونی قراردی گئی سرگرمیوں کی روک تھام ہے۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تمام بلوں کو مزید غور وخوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بجھوا دیا۔ وزار تِ خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات پر تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف شہباز شر یف کی چھٹی کی درخواست منظور کر لی جبکہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپوزیشن لیڈر کی چھٹی کی درخواست منظور کر نے پر اعتراض اٹھا دیا۔تفصیلات کے مطابقپیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے اراکین پارلیمنٹ (تنخواہوں والاؤنسز) ایکٹ 1974میں مزید ترمیم کرنے کا ترمیمی بل 2020پیش کیا اور وضاحت کی کہ بل سے اخراجات میں اضافہ نہیں ہوگا، بل اراکین کے مطالبے پر پیش کیا جا رہا ہے کہ ان کے خاندان کے لوگوں کو بھی فری سفری سہولیات میسر ہوں۔ بل کے تحت ارکان کو سالانہ 25بزنس کلاس ریٹرن ٹکٹوں کی بجائے اب 25بزنس کلاس ریٹرن ٹکٹوں کی مالیت کے واؤچرز جاری کئے جائیں گے جس پر ارکان پارلیمنٹ کیساتھ ساتھ ان کے خاندان کے افراد بھی فری سفر کر سکیں گے۔ وزیرمملکت علی محمد خان نے پاکستان ترقیاتی کونسل برائے صحت ترمیمی بل 2020 بھی پیش کیا۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے یونیورسٹی برائے انجینئرنگ وظہور پذیر ٹیکنالو جیز بل 2020پیش کرتے ہوئے کہا یہ بل وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کے وعدے کی تکمیل ہے۔وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے اسلام آباد کی علاقائی حدود میں رفاعی اداروں کی رجسٹریشن،انضباط اور سہولت کاری کو منضبط کرنے کا بل 2020،اور پاکستان اسلحہ آرڈیننس 1965میں مزید ترمیم کرنے کا بل پاکستان اسلحہ ترمیمی بل 2020پیش کیا۔ بل کے تحت اسلحہ لائسنس کے اجراء کا اختیار وزیراعظم،وزیرداخلہ وسیکرٹری داخلہ سے لیکر وفاقی کابینہ کو دیدیا گیا ہے۔ دوسری طرف سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی چھٹی کی درخواست منظور کر لی جبکہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپوزیشن لیڈر کی چھٹی کی درخواست منظور کر نے پر اعتراض کیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے چھٹی کی درخواست ایوان میں پیش کی جو منظور کر لی گئی۔ایوان سے مسلسل غیر حاضر ی پر حکومتی ارکان نے شہباز شریف کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا،جس پررکن قومی اسمبلی و صدر مسلم لیگ(ن) پنجاب رانا ثنا اللہ نے کئی بار وضاحت کی کہ شہباز شریف رواں ماہ مارچ میں واپس آ جائیں گے تاہم ان کے اندازوں کے برعکس اپوزیشن لیڈر نے چھٹی کی درخواست دیدی۔دریں اثناء قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا شہبازشریف کی واپسی سے متعلق (ن) لیگ وضاحت دے، بتایا جائے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کب واپس آئیں گے۔اجلاس میں وزارتِ خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کیخلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات پر تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں جس میں کہاگیاہے کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدامات پر پا کستان نے سفارتی تعلقات محدود کردئیے،پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بھرپور اقدامات اٹھا رہا ہے، مسئلہ جموں و کشمیر کا پرامن حل خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں دو طرفہ تجارت منقطع کردی۔ وزیراعظم کے پارلیمنٹ اور 27 ستمبر 2019 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب پاکستان کی کشمیر سے متعلق پالیسی کی عکاسی ہیں، وزیر خارجہ نے 40 ہم منصبوں سے رابطہ اور ان کو بھارتی مظالم پر مکمل بریف کیا۔ اقوام متحدہ،صدر سلامتی کونسل اور ہائی کمشنر انسانی حقوق کو خطوط لکھے، جبکہ حالیہ دورہ پاکستان میں جنرل سیکریٹری اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔دریں اثناء وقفہ سوالات میں قومی اسمبلی کو وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا ہم نے پٹرول کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر کمی کی مگر پھر بھی اپوزیشن کہتی ہے آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہو؟۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دور ان (ن)لیگی رکن عائشہ غوث پاشا نے کہابین الاقوامی پٹرولیم مصنوعات کم ہوئی ہیں تو عام آدمی تک اس کا پورا ریلیف کیوں نہیں پہنچ رہا؟،خرم دستگیر خان نے کہاکیا عوام کو اب پٹرولیم مصنوعا ت میں بڑا ریلیف دیتے ہوئے 62 روپے فی لٹر تیل نہیں دیا جانا چاہیے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب نے جواب دیاہم اس وقت متبادل توانائی کے ذرائع کی جانب بڑھ رہے ہیں،فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سابق دور میں اپنے پاور کنزیومر کو پاس آن نہیں کیا تھا، سیلز ٹیکس اور پٹرولیم ٹیکسز 45 فیصد تک تھے جسے ہماری حکومت نے آکر ختم کیا، مسلم لیگ ن کے آخری دور میں نئے وزیر خزانہ نے ڈی ویلیوایشن کا عمل اس لئے کیا کہ 24 ارب ڈالر اس وجہ سے ضائع ہورہے تھے،ہمیں مجبوراً روپے کی قدر کو اصلی صورتحال پر لانے کے لیے ڈی ویلیوایشن کرنا پڑی۔ رکن علی گوہر نے سوال کیاکہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج شاہی خاندان کے محلوں کی حفاظت پر لگادی گئی ہے، کیا پاکستانی فوج کے شاہی محلات کی حفاظت پر لگاتے ہوئے پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہایہ سوال وقفہ سوالات کے سوال سے متعلقہ نہیں ہے۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول