بین الاقوامی برادری کا امارات اسلامی افغانستان کو تسلیم نہ کرنے پر پھر اتفاق

بین الاقوامی برادری کا امارات اسلامی افغانستان کو تسلیم نہ کرنے پر پھر اتفاق

  



واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) بین الاقوامی برادری نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ وہ ”افغانستان اسلامی امارات“کے نام سے قائم طالبان کی اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتی جو افغانستان پر امریکی حملے سے قبل قائم کی تھی۔ یہ حکومت ستمبر1996ء میں برسر اقتدار آئی تھی اور نائن الیون سانحے کے بعد امریکہ نے اسامہ بن لادن کے تعاقب میں حملہ کر کے 17دسمبر2001ء میں اسے ختم کر دیا تھا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان نے 29فروری کو افغان امن معاہدے پر دستخط کئے تھے۔جس کے بعد اسی شہر میں یکم مارچ کو بین الاقوامی برادری کے نمائندوں نے ایک مشترکہ اجلاس میں جن نکات پر اتفاق رائے کیا تھا اس میں یہ وضاحت بھی شامل تھی، امریکی محکمہ خارجہ نے 9مارچ سوموار کے روز اس اجلاس میں طے پانے والے مشترکہ بیان کا متن جاری کیا ہے جس میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور ناروے کے نمائندوں نے شرکت کر کے دستخط کئے تھے۔ مشترکہ بیان کے مطابق ان نمائندوں نے امریکہ اور طالبان کے درمیان 29فروری کو طے ہونے والے سمجھوتے میں شامل اہم اقدامات کا خیر مقدم کیا جس کے ذریعے افغان جنگ کا خاتمہ ہوا اور دس مارچ کو انٹرا افغان مذاکرات کا راستہ کھلا۔ انہوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لئے ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے کے حصول کے لئے کام کرنے کو پوری طرح تیار ہیں جو علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی کے لئے مددگار ثابت ہو اور جو افغان آئین کے مطابق تمام افغانیوں کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقوق کا احترام کرے اور جسے افغان حکومت، سیاسی لیڈروں، سول سوسائٹی اور طالبان سمیت تمام افغانی تسلیم کرتے ہیں، مشترکہ بیان میں اس امر کا بھی اعادہ کیا گیا کہ ایک جامع اور پائیدار امن کا قیام تمام افغانیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیے کے ذریعے سے ہی ممکن ہے جس میں خاص طور پر خواتین کی معنی خیز شرکت ہو اور جو افغانستان کی یکجہتی اور بالا دستی کا ضامن ہو، بین الاقوامی برادری نے انٹرا افغان مذاکرات کے ذریعے معاہدے کے بعد افغان اسلامی حکومت کے قیام کے لئے سیاسی عمل میں شرکت اور اپنے ممکنہ کردار میں آمادگی کے طالبان کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا۔ انہوں نے تشدد میں کمی کے وعدے کو سراہتے ہوتے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تشدد میں مزید کمی کرتے ہوئے انٹرا افغان مذاکرات کے لئے سازگار ماحول پیدا کریں۔ بین الاقوامی برادری نے طالبان اور دوسرے افغان مسلح گروہوں پر زور دیا کہ وہ ایسے ٹھوس اقدامات کریں کہ افغانستان کی سر زمین کو وہ خود، یا القاعدہ، داعش یا دوسرے بین الاقوامی دہشتگرد گروہ دوسرے ممالک پر حملے یا ان کے لئے خطرہ پیدا کرنے کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔ بین الاقوامی برادری نے توقع ظاہر کی کہ تمام فریق انٹرا افغان مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر عمل کریں گے تاکہ افغانستان کے مستقبل کے لئے روڈ میپ اور جامع اور پائیدار جنگ بندی کی تفصیلات طے کرے راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے تمام افغانیوں پر زور دیا کہ وہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی جیسے مشترکہ تشویش کے معاملات پر فوری طور پر بات چیت کا آغاز کریں۔ بین الاقوامی برادری کے نمائندوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ وہ افغانستان کی مستقبل کی حکومت کی سیاسی حمایت کریں گے اور اقتصادی اور ترقیاتی امداد بھی فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے قومی دفاع اور سکیورٹی فورسز کی پائیدار بنیاد پر امداد کے موجودہ عہد کو برقرار رکھا جائے گا۔ ان نمائندوں نے امریکہ کے اس عزم کو نوٹ کیا کہ وہ انٹرا افغان مذاکرات کے آغاز پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور افغانستان کے ساتھ مل کر امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے طالبان پر سے تمام پابندیاں اٹھا لیں گے مشترکہ بیان میں افغان امن عمل کی حمایت میں بین الاقوامی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام ملکوں پر زور دیا کہ وہ افغان عوام کی حمایت اور تمام فریقوں کے مفاد میں ایک پائیدار امن معاہدے کے لئے کوششوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔

بین الاقوامی اتفاق

مزید : صفحہ اول