بڑھتے ہوئے جرائم اورپنجاب پولیس کے افسران کا موازانہ

بڑھتے ہوئے جرائم اورپنجاب پولیس کے افسران کا موازانہ
 بڑھتے ہوئے جرائم اورپنجاب پولیس کے افسران کا موازانہ

  



اگر آپ اخبارات کا مطالعہ کر نے کے شوقین ہیں تو آپ کو یقیناً معلوم ہو گا کہ موجودہ حکمرانوں نے پنجاب میں امن شانتی کی خاطر چار آئی جی کو چلتا کر کے پانچویں کو فرشتہ صفت اور الہ دین کا چراغ سمجھ لیا ہے۔”الہ دین“ نے اتنی شہرت حاصل کیوں کی اس میں یہ خوبی تھی کہ وہ چراغ کو رگڑتا جس سے جن باہر آتا اور وہ اسے جو حکم دیتاوہ فوری بجاآوری لاتے ہوئے مہارت سے کام کردیتا۔ان دنوں ملک کے تمام ادارے بالخصوص محکمہ پولیس مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے پنجاب میں امن و امان کی صورتحال روز بروز انتہائی خراب ہوتی جا رہی ہے۔آئی جی پولیس نے جو ٹیم تشکیل دے رکھی ہے کامیا بیوں نے ان سے منہ موڑ لیا ہے اور اس ٹیم نے جرائم پر قابو پانے کا آسان حل تلاش کر لیاہے کہ ڈکیتی کی وارداتوں کے مقد ما ت کا اندراج ہی نہ کیا جا ئے۔شہری لوٹے یا مارے جائیں پتنگ سے گلے کٹ جائیں پکڑ دھکڑ یا کسی کو معطلی کی کوئی پالیسی نہیں کا رروائیوں کے جھوٹے پلندے ہماری روایت بن چکی ہے ابھی دودن قبل ایک خبر شائع ہو ئی ہے کہ کارکردگی دکھانے کیلئے لاہور پولیس کی کرائم میٹنگ میں آئی جی سے غلط بیانی پکڑی گئی،۔

آخری کرائم میٹنگ میں مینول ریکارڈ میں لاہور پولیس کی جانب سے بہترین کارکردگی کا ریکارڈ دکھایا گیا جبکہ آن لائن ریکارڈ نے لاہور پولیس کی چالاکی کا سارا پول کھول دیا۔مینول ریکارڈ میں شہر میں رپورٹ ہونیوالا کرائم کم رپورٹ کیا گیا ہے جبکہ اشتہاریوں کی گرفتاریوں کی تعداد زیادہ دکھائی گئی جس کا آن لائن مانیٹرنگ سیل کو بھجوائے گئے ریکارڈ سے بہت فرق تھا۔آئی جی شعیب دستگیر نے مینول اور آن لائن سسٹم کے ریکارڈ میں واضح تضاد سامنے آنے پر سی سی پی او ذوالفقار حمید کی سرزنش کرتے ہوئے لاہور کا کرائم ریکارڈ خود چیک اور مانیٹر کرنے کی ہدایت کردی۔آئی جی نے کہا کہ مینول اور آن لائن سسٹم کے ریکارڈ میں تضاد دور کرکے اگلی کرائم میٹنگ میں ٹھیک اعدادوشمار جمع کرائے جائیں۔

اگر بات کی جائے امن و امان کی تو ہم صرف ایک روز کے اخبارات کا تزکرہ کر دیتے ہیں۔ساہیوال سرے شام ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے ایک بے گناہ شہری کو لوٹنے کی غرض سے قتل کردیا ہل علاقہ نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور سڑک بلاک کر کے ٹریفک بھی جام کردی کئی گھنٹے تک وہاں سے گزرنے والے مسافر ٹریفک میں پھنسے رہے ساہیوال سے اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق نواحی گاؤں 178 نائن ایل کا رہائشی ظفر جوئیہ ہڑپہ میں 4 مارچ کی رات آٹھ بجے کے قریب اپنی دکان بند کر کے موٹر سائیکل پر جا رہا تھا 1459 مالن چوک کے قریب موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے روک کر لوٹنے کی کوشش کی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے ظفر جوئیہ کو گولی مارکر موت کے گھاٹ اتار دیامقامی لوگوں نے گھیراؤکرکے ڈاکوؤں کو مارڈالا اور مقتول کی لاش سڑک پر رکھ کر ہڑپہ بائی پاس بلاک کر کے شدید احتجاج کیاکئی گھنٹے تک روڈ کو بلاک کیے رکھا آخر پولیس نے منت سماجت کرکے ٹریفک چالو کروائی۔

ڈاکو ؤں کی شناخت عامر عرف کالی اور صدام کے نام سے ہوئی ۔ جودرجنوں وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے اورعلاقے میں اودہم مچارکھا تھا اسی روز فیصل آباد میں تھانہ بٹالہ کالونی کی پولیس پارٹی معمول کی گشت پر تھی کہ ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے صدیقیہ قبرستان کے قریب پولیس پارٹی کے روکنے پر فائرنگ کردی جس سے سب انسپکٹر اعجاز احمد شہید ہوگئے اور ڈاکو وہاں سے باآسانی فرار ہو گے۔ اگلے ہی روز اوکاڑہ کے علاقہ کماں میں لوٹ مار کرنے والے تین ڈاکو علاقہ مکینوں کے ہتھے چڑھ گئے اورعلاقہ مکینوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو ڈاکو مارے گئے اور ایک فرار ہو گیا۔صوبائی دارالخلا فہ میں بھی صرف دوماہ کے دوران 7بے گناہ افراد ڈاکوؤں کے ہاتھوں ابدی نیند سو چکے ہیں۔جبکہ پنجاب بھر میں روزانہ 500 سے زائدشہریوں کو ان کے مال و زر سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

آئی جی صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم پر نظر ثانی کرتے ہوئے ازسر نو لسٹوں کا جائزہ لیں جیسا کہ انھیں نئی لسٹیں بنانے کا حکم دیا گیا ہے ناقص کا کر کردگی کے حامل پولیس افسران کو اب فیلڈ سے ہٹا ہی دینا چاہیے۔پولیس میں جہاں بہت ہی برے اور بدعنوان افسر و ملازمان بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں، وہیں نڈر، بہادراورفرض شناس لوگوں کی بھی کمی نہیں۔جس طرح معاشرے کے ہر شعبے میں خوشامد کا دور دورہ ہے، بالکل اسی طرح محکمہ پولیس بھی اس نعمت سے مالا مال ہے۔ پولیس میں کئی بہت ہی مشہور افسر ہیں جو ہر دور حکومت میں اچھی سے اچھی پوسٹنگ حاصل کرلیتے تھے اور تمام اعلیٰ افسران و سیاستدان ان کو اپنا سب سے قریبی آدمی اور وفادار سمجھتے ہیں۔

ان افسران کی پیشہ ورانہ قابلیت نہیں بلکہ خوشامد، چرب زبانی اور حد سے زیادہ جھوٹ بولنے میں یہ مہارت رکھتے ہیں۔ ان افسران نے اپنا ایک روٹین بنایا ہوا ہے جس پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ وہ روزانہ صبح صبح گھر سے دفتر کے لیے نکلتے ہوئے سب سے پہلے چند سینئر افسران کو فون کر کے اپنی حاضری لگانا نہیں بھولتے اور ان کی اْن خوبیوں کے وہ قصیدے بیان کرتے ہیں جو اس افسر کے اپنے علم میں بھی نہیں ہوتیں۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحب کو اب ایسے افسران کی شناخت تو ہو چکی ہے ان سے جان ہی چھڑا لینا بہتر ہو گا ورنہ وقت آپ سے جان چھڑا لے گا ۔

اگر لاہور میں امن قائم کر ناچاہتے ہیں تو بی اے ناصرکی طرح،فیصل آباد میں چاہتے ہیں تو غلام محمود ڈوگر کی طرح، گو جرانوالہ میں طارق عباس قریشی کی طرح،بہاولپور میں چاہتے ہیں تو عمران محمود کی طرح، ساہیوال میں چاہتے ہیں تو شارق کمال صدیقی کی طرز کے کمانڈرز تلاش کر نا پڑیں گے اگر آپریشنل معاملات کنٹرول کر نااور وارداتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اشفاق احمدخاں،رانا شہزاد اکبر اورڈاکٹر معین مسعودکی طرز کے جرنیل تلاش کر نا پڑیں گے۔یہ حقیقت ہے کہ بی اے ناصر کا بطور سی سی پی او لاہور میں ڈی آئی جی اشفاق احمد خان کے ساتھ گزرا گیا وقت،غلام محمود ڈوگرکا بطور آر پی او سی پی او اشفاق احمد خان کیے ساتھ فیصل آباد میں،عمران محمود کا بطور آر پی او بہاولپور اور شارق کمال صدیقی کا ساہیوال میں وقت انتہائی شاندار اور کامیا بیوں سے بھر پور رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم