بلکہ صوبے کے عوام کی خدمت اور حفاظت کی ذمہ داری کا نام ہے

بلکہ صوبے کے عوام کی خدمت اور حفاظت کی ذمہ داری کا نام ہے

  



انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر کا شمارپاکستان پولیس سروس کے انتہائی سینئر، قابل، ایماندار اور فرض شناس پولیس افسران میں ہوتا ہے۔انہیں پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر سمیت بیرون ملک بھی انتہائی اہم عہدوں پر پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے 1988ء میں بطوراے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی۔ ان کا تعلق سولہویں کامن سے ہے۔کیرئیر کے آغاز میں شعیب دستگیر نے بطور اے ایس پی مانسہرہ میں، A.D.Oایف سی سوات، ایس ڈی پی او مانسہرہ، ایس ڈی پی او یونیورسٹی ٹاؤن پشاور، ایس ڈی پی او، رورل اسلام آبادکے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے جس کے بعد اے ایس پی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد، سنٹرل پولیس آفس لاہور اور ایس ڈی پی او ڈیفنس کے عہدوں تعینات رہنے کے بعد موزمبیق میں پاکستان پولیس کی نمائندگی کی۔ایس پی رینک پر پروموشن کے بعد شعیب دستگیر ایڈیشنل ایس پی راولپنڈی اور ایس پی سرگودھاکے عہدوں پر تعینات رہے جس کے بعد وہ ٹریننگ کے لئے برطانیہ چلے گئے۔ وطن واپسی پر شعیب دستگیر نے ایس پی ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ایڈیشنل ایس پی ایڈمن، لاہورکے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے جس کے بعد انہوں نے بوسنیا میں پاکستان پولیس کی نمائندگی کی جہاں سے وطن واپسی پر شعیب دستگیر ایس پی کرائم برانچ پنجاب،ڈپٹی ڈائریکٹر آر اینڈ ڈی، سنٹرل پولیس آفس اور اے آئی جی فنانس سنٹرل پولیس آفس کے عہدوں پر تعینات رہے۔ شعیب دستگیرنے دو برس ایس ایس پی نیشنل ہائی ویز اور موٹر وے پولیس شیخوپورہ کے عہدے پر بھی فرائض سر انجام دئیے۔ڈی آئی جی کے عہدے پر پروموشن کے بعد شعیب دستگیرنے ڈی آئی جی سٹی ٹریفک پولیس لاہور، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ، سی پی او کے عہدوں پر تعینات رہے جس کے بعد وہ اقوام متحدہ کے امن مشن پر بیرون ملک روانہ ہوگئے۔ وطن واپسی پر شعیب دستگیر نے ڈی آئی جی ایلیٹ پولیس فورس،پنجاب کے عہدے کے فرائض ادا کئے، جس کے بعد انہیں سنٹرل پولیس آفس میں ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس کے عہدے پر تعینات کردیا گیا بعد ازاں شعیب دستگیر کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کر دی گئیں۔ شعیب دستگیر نے انسپکٹر جنرل آزادجموں و کشمیر پولیس کے عہدے پر بھی فرائض سر انجام دئیے جبکہ آئی جی پنجاب کے عہدے پر تعیناتی سے قبل وہ منیجنگ ڈائریکٹر،نیشنل پولیس فاؤنڈیشن اسلام آباد کے عہدے پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔اپنے طویل کیرئیر کے دوران شعیب دستگیر نے ملنے والی ہر ذمہ داری کو بھرپور لگن، محنت اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کیا۔ گزشتہ دنوں ان کے ساتھ ملاقات کے لئے ان کے دفتر گئے جہاں پولیسنگ اور یہاں کے مسائل کے حوالے سے گفتگو ہوئی جو اپنی اہمیت کی وجہ سے قارئین کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔

سوال: پولیس ہماری محافظ فورس ہے جسے اختیارات کا غلط استعمال کر نے والوں کی وجہ سے بدنامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ آپ بطور سربراہ اس حوالے سے کیا کر رہے ہیں؟

جواب: پہلے تو یہ بات واضح کرناچاہتا ہوں کہ پنجاب پولیس کی سربراہی اقتدار نہیں ہے بلکہ صوبے کے عوام کی خدمت اورحفاظت کی ذمہ داری کا نام ہے لہذا ہم نے شہریوں کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ کو ہر صورت یقینی بنا نا ہے اور اس عمل میں مجھ سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اگر میں یہ کہہ رہا ہوں کہ میں خود بھی بطور آئی جی قانون سے بالاتر نہیں ہوں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ میری فورس کے ہر افسر و ملازم پر یہی بات لاگو ہوتی ہے۔ میں نے پہلے ہی دن واضح کر دیا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ یونیفارم کے زور پر کسی کے ساتھ زور زبردستی کرلے گا تو اب ایسا کسی صورت نہیں ہوگا۔اس سلسلے میں انٹرنل اکاؤنٹبیلٹی کا سسٹم مزید فعال کرتے ہوئے محکمہ پولیس میں جزا و سزا کے نظام کو بہتر سے بہتر کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو پولیس سروسز ڈلیوری کی بہترین فراہمی کے ساتھ ساتھ جہاں اچھا کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کی حوصلہ افزائی ہوسکے وہیں غفلت، لاپرواہی یا اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کے احتساب میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ میں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد اب تک متعدد افسران و اہلکاروں کو سزائیں بھی دی ہیں اور انعامات بھی دیئے ہیں جن میں کارکردگی کی مناسبت سے سرٹیفکیٹ اور کیش انعامات بھی شامل ہیں۔ اسی طرح پنجاب پولیس میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور 8787آئی جی پی کمپلینٹ سنٹر شہریوں کی شکایات کے ازالے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جس کی کارکردگی کو میں خود بھی مانیٹر کر رہا ہوں۔ شہری پولیس سے متعلق شکایات اس کمپلین سنٹر پر درج کروا سکتے ہیں، اس کے علاوہ ہمارے سوشل میڈیا پیجز پر بھی اپنے مسائل سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ایسی شکایات پر فوری کاروائی کا عمل شروع ہو جاتا ہے

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پولیس پنجاب کے ہر شہری کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے؟

جواب: ہمیں اس حوالے سے کچھ باتیں واضح کرنی ہوں گی۔ پنجاب پولیس کی لگ بھگ دو لاکھ فورس گیارہ کروڑ عوام میں سے ہر شخص کوانفرادی سطح پر سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکتی لیکن مجموعی طور پر جرائم کو کنٹرول کرکے شہریوں کو پر امن ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی یہ کہیں نہیں ہوتا کہ ہر شہری کے ساتھ دو پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں کیونکہ پولیس کا کام ”سینس آف سیکیورٹی“ یعنی معاشرے میں تحفظ کے احساس کو برقرار رکھنا ہے۔ پولیس کا فرض ہے کہ اجتماعی سطح پر تحفظ کے احساس کو برقرار رکھے اور اگر کوئی شخص جرم کرے تو سب کو یقین ہو کہ اسے ہر صورت سزا ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میڈیا پولیس کا احتساب کرتے وقت دستیاب وسائل، مسائل اور کارکردگی کو مد نظر رکھے تاکہ مثبت تنقید ی رحجانات کے باعث پولیس معاشرے میں بہتری کے لئے اپنا کردار مزید موثر طور پر ادا کرسکے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پنجاب پولیس اس وقت بھی اپنے وسائل سے بڑھ کر کام کر رہی ہے

سوال:پنجاب میں جرائم ختم نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

جواب:دیکھیں جرائم رہتی دنیا تک رہیں گے، کیونکہ اللہ نے یہ نظام جزا و سزا کے نظریہ پر بنایا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بات پر مشتعل ہو کر اپنے گھر میں ہی کسی فردکو قتل کر دیتا ہے تو اس پر دنیا بھر کی پولیس مقتول کو نہیں بچا سکتی۔ بنیادی طور پر پولیس کا کام اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ہم نے جرائم کی شرح کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ جو بھی شخص جرم کرے گا اسے اس کی سزا بھی ملے گی۔ آپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں جرائم کی شرح کم ہوئی ہے۔اسی طرح ملزمان کی گرفتاری کی شرح کا گراف بہت اوپر گیا ہے۔ اب جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت ملزم کو فوری ٹریس کر کے گرفتار کیا جاتا ہے۔پولیس کا تربیتی نصاب بھی اپ گریڈ کیا جا چکا ہے اور جدید انویسٹی گیشنز سے متعلق نئے ماڈیولز بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ پنجاب پولیس روایتی طریقہ تفتیش کی بجائے سائنٹیفک بنیادوں پر تفتیش کر رہی ہے۔

سوال: آپ کی باتیں اپنی جگہ درست لیکن عوام کا اعتماد جیتنا بھی تو بہت ضروری ہے؟

جواب: بالکل، عوام کا اعتماد جیتے بغیر تو پولیسنگ کا تصور ہی مشکل ہے لیکن آپ اس بات سے بھی اتفاق کریں گے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں باہمی اعتماد کا فقدان ہے، لوگ اپنے ہی عزیزو اقارب اور دوستوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ معاشرتی کلچر ہے۔ پولیس بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، لیکن عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینے کے لئے اوپن ڈور پالیسی سمیت ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن کی بدولت پرامن معاشرے کی تشکیل میں پولیس کے ساتھ ساتھ شہری بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پنجاب میں تھانوں کا ماحول تبدیل ہو رہا ہے اور اب تھانوں کو ملٹی نیشنل کمپنیز کی طرز پر ترتیب دیا جا رہا ہے جہاں انتظار گاہ، فرنٹ ڈیسک اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں، کیمروں سے تھانوں کی مانیٹرنگ ہو رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت ملزمان کی گرفتاریوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ اسی طرح ایک درجن سے زائد پولیس سروسز کو تھانوں کی بجائے خدمت سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے، جس سے جہاں تھانے کے عملہ پر اضافی کام کا دباؤ کم ہوا ہے وہیں شہریوں کو طے شدہ وقت میں پولیس سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔ اب تو پولیس خدمت موبائلز عوام کو ان کی دہلیز پر پولیس سروسز فراہم کر رہی ہیں۔ عوام کا اعتماد جیتتے ہوئے سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائیوں میں عوام کی معاونت کو یقینی بنانا میری ترجیحات میں شامل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی پولیس بارے عوامی تاثر کو بدل کر پنجاب پولیس کو بطور ادارہ مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکتا ہے

سوال: دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب میں زیادہ جرائم کیوں ہو رہے ہیں؟

جواب:ایسا بالکل نہیں ہے۔ آپ آج بھی لاہور کا اور کراچی کا تقابل کر لیں۔ آپ کو لاہور کا کرائم ریٹ کم ملے گا۔ آپ کو یہ بات بھی مد نظر رکھنی ہو گی کہ آبادی کے لحاظ سے پنجاب باقی صوبوں سے بڑا صوبہ ہے۔اس لئے جب ہم پنجاب کا تقابل باقی صوبوں سے کریں تو ہمیں اس کے ساتھ ساتھ آبادی کی شرح بھی دیکھنی پڑے گی۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقہ میں دس لوگ رہتے ہوں اور دوسرے علاقے میں سو لوگ رہائش پذیر ہوں تو ہمیں دونوں علاقوں کے کرائم ریٹ کا تقابل کرتے وقت آبادی کی شرح بھی دیکھنی پڑتی ہے۔اسی طرح جرائم کا تعلق پولیس سے زیادہ تربیت اور ماحول سے ہوتا ہے۔ ہمیں بطور سوسائٹی مجرمانہ ذہنیت اور منفی خیالات کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑنا ہے جس میں والدین اور اساتذہ کا اہم کردار ہے۔ معاشی حالات بھی جرائم میں کمی یا اضافہ کا باعث بنتے ہیں،لہٰذا اس سلسلے میں بھی اہم پالیسیاں بنانا ہوں گی، جہاں تک بات پنجاب میں جرائم کی ہے تو پولیس کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ کوئی بھی جرم ہو پولیس فوری طور پر ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم نے جدید ٹیکنالوجی کو بھی اپنایا ہے۔ ملزمان کی فوری گرفتاری کے حوالے سے بھی ہمارا گراف باقی صوبوں سے بہتر ہے۔

سوال: وزیراعظم پاکستان نے ایک سے زیادہ بار آپ کی تعریف کی ہے۔آپ نے ایسی کیا پالیسی اپنائی کہ وزیراعظم بھی تعریف کر رہے ہیں؟

جواب: مَیں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم نے میری نہیں بلکہ پنجاب پولیس کے ہر فرض شناس افسر و اہلکار کی تعریف کی ہے،کیونکہ یہ پوری فورس کا ٹیم ورک ہے۔اس سلسلے میں پنجاب میں جرائم کنٹرول کرنے کے لئے ریسرچ ورک کیا گیا اور ہم نے جائزہ لیا کہ اکثر معمولی جرائم پیشہ عناصر کسی نہ کسی بڑے مجرم کی سرپرستی کی وجہ سے متحرک ہوتے ہیں۔ پنجاب میں جرائم کا اپنا ایک طریقہ کار ہے۔یہاں زیادہ تر جرائم پیشہ افراد کو کسی نہ کسی بڑے مجرم کی سرپرستی یا آشیر باد حاصل ہوتی ہے جس کے بل پر قانون شکنی کامرتکب ہوتا ہے۔ بڑے مگرمچھ عموما چھوٹی مچھلیوں کویہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کے اثر و رسوخ کی بدولت وہ پولیس سے بچے رہیں گے،جو کہ سراسر غلط ہے۔ ہم نے اس سوچ کو ختم کیا ہے۔ اس کے لئے میں نے ہدایات دیں کہ صوبے کے تمام اضلاع میں بڑے مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔ اس سے ایک تو اس علاقے میں عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ قانون مجرموں سے زیادہ طاقتور ہے دوسرا بڑے مجرم کی گرفتاری سے معمولی جرائم پیشہ افراد ڈر کر خود ہی سدھر جاتے ہیں اور وارداتوں کا سلسلہ تھم جاتا ہے۔ اسی لئے قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لئے صوبہ بھر میں اشتہاری ملزمان، عدالتی مفروروں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لائی گئی ہے اور بڑے بدمعاشوں اور منشیات فروشوں کی گرفتاری کے لئے ڈی پی اوز کریک ڈاؤن کی خود نگرانی کر رہے ہیں جس کی رپورٹس باقاعدگی سے سنٹرل پولیس آفس بھجوائی جاتی ہے۔

سوال: پولیس کی تفتیش سے لوگ مطمئن کیوں نہیں ہوتے؟

جواب: کون لوگ مطمئن نہیں ہوتے؟ وہ لوگ جو انصاف اور میرٹ پر تفتیش کی بجائے پولیس کے کندھے پر پستول رکھ کر اپنا انتقام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔مثال کے طور پر تھانے میں بیٹھے اہلکار کے پاس ایک شخص شکایت درج کروانے آتا ہے اور ملزمان کے نام نوٹ کروا دیتا ہے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ اس نے تشدد یا چوری کرنے والوں میں ایک 6 ماہ کے بچے کا نام بھی بطور ملزم لکھوا دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس میں پولیس کا قصور ہے یا اس مدعی کا؟ یہ طے ہے کہ شکایت درج کرنے کے بعد جب پولیس تفتیش کرے گی تو اس بچے کا نام کیس سے خارج کر دیا جائے گا ۔ تھانے میں بیٹھے اہلکار کو تو تفتیش سے قبل بچے کی عمر کا علم نہیں ہو سکتا، لیکن مدعی ایسا جھوٹ لکھوا کر اپنا کیس خود خراب کر بیٹھتا ہے۔ اسی طرح لوگ اصل واقعہ بتانے کی بجائے آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بیان کرتے ہیں، جس سے ان کا کیس خراب ہو جاتا ہے۔پولیس کو لوگوں کے جھوٹ میں سے سچ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح لوگ تو پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہوتے ہیں، لیکن جو دوران تفتیش قصوروار ٹھہرتا ہے وہ پولیس کے خلاف پراپیگنڈاشروع کر دیتا ہے حالانکہ دونوں پارٹیاں تو درست نہیں ہو سکتیں۔

سوال: محکمہ پولیس کے شہدا کے لئے کیا کام کیا جا رہا ہے؟

جواب:پنجاب پولیس ایک خاندان ہے،لہٰذا اس خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ پولیس شہدا کی فیملیز کی وہی حیثیت ہے جو ہیروز کی ہوتی ہے اور اپنے ہیروز کے لئے ہم جو بھی کریں وہ کم ہے۔ پولیس شہدا کی فیملی کے لئے ایک ملازمت، پلاٹ اور کیش سمیت دیگر مراعات کا مکمل شہدا پیکیج ہے۔شہید کی بیوہ کو شہید کی ریٹائرمنٹ تک کی عمر تک مکمل تنخواہ اور اس کے بعد پنشن ملتی رہتی ہے۔ ان کی ویلفیئر کے معاملات کی نگرانی کے لئے میرے دفتر میں ڈی آئی جی سطح کے آفیسر تعینات ہیں۔ میں جس فورس کا سربراہ ہوں اس کی آبیاری 15 سو کے لگ بھگ افسروں و اہلکاروں نے اپنے خون سے کی ہے۔اس لئے شہدا کے خاندانوں کے لئے مجھ سے جو بھی ہو سکا وہ کرتا رہوں گا اور میں کسی صورت خود کو شہدا کی فیملیز سے الگ نہیں سمجھ سکتا۔ یہ ہماری فیملیز ہیں او ر میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ویلفیئر اور ان کے مسائل کے حل کے لئے جتنے بھی اقدامات کئے جائیں وہ کم ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1