گناہِ کبیرہ کا سوشل میڈیا پر پرچار

گناہِ کبیرہ کا سوشل میڈیا پر پرچار

  



تحریر: مرزا نعیم الرحمان

پاکستان میں شرح خواندگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے کبھی کبہار کوئی میٹرک پاس مل جاتا تھا اب پی ایچ ڈی اور ماسٹر ڈگری ہولڈرز بے روزگار پھر رہے ہیں والدین اپنے بچوں کو معاشرے میں اعلی مقام دلوانے کے لیے اپنی جمع پونجی حتی کہ قرضہ اٹھا کر کے بھی انہیں پڑھانے پر مجبور ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جہاں کوئی ایسا گھرنہیں جہاں نماز نہ پڑھی جاتی ہو پورا ہفتہ نماز نہ ادا کرنیوالے بھی جمعہ کے روز مسجد کو جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور کسی نہ کسی حوالے سے خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں مگراب تو ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اسکا پرچار بھی کرتی ہے اسے قانون‘ ضابطے‘ شرم وحیا یا کسی کے والدین کی عزت کا کوئی لحاظ نہیں نئی نسل کی ایک بڑی شرح بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہے اور وہ عارضی سکون حاصل کرنے کے لیے جہاں مختلف نشے کے عادی ہیں وہاں وہ بعض ایسے مکروہ فعل میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں جنہیں سن کر لرزہ طاری ہو جاتا ہے موبائل فون پر لڑکیوں کی آوازیں نکال کر لڑکیوں سے دوستی کرنا اور آہستہ آہستہ اپنے اصل مقاصد کی طرف آ کر انہیں بلیک میل کرنا ایک معمول بن چکا ہے سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات کے یہ نوٹس میں آیا کہ گجرات کے مختلف نوجوانوں نے فیس بک پر کمسن بچوں اور لڑکیوں کی فحش تصاویر کے علاوہ بھاری بھر کم اسلحہ لیکر اپنی تصاویر اپ لوڈ کر رکھی ہیں اور وہ سادہ لوح شہریوں کو بلیک میل کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کی لڑکیوں کی تصاویر کو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل کرا کے ان سے رقم بٹورتے ہیں ان کی عزت پامال کرتے ہیں ایسے واقعات بلاشبہ سائبر کرائم ایف آئی اے کی ذمہ داری ہے مگر یہ مراحل انتہائی تھکا دینے والے ہوتے ہیں لہذا متاثرین فوری طور پر پولیس سے رجوع کرتے ہیں ڈی پی او سید توصیف حیدر نے پی آر او برانچ کے سربراہ چوہدری اسد گجر ایڈووکیٹ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ایسے تمام مشکوک افراد کی فیس بک کا بغور جائزہ لیں اور انکی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے پی آر او برانچ جہاں تمام عملہ پڑھا لکھا اور باکردار ہے نے اسے ایک چیلنج تصور کیا اور اپنے سربراہ اسد گجر کی سربراہی میں ایسی بے شمار فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع کا سراغ لگا لیا جہاں پر نوجوان لڑکوں نے اپنی پروفائل لڑکیوں کے نام سے بنا رکھی تھی اور انکی بیشتر دوست لڑکیاں اور لڑکے تھے پردے کے پیچھے ایک گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا تھا حتی کہ منشیات فروشی کا دھندہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے عروج پر تھا جوں جوں اس کی تحقیقات آگے بڑھتی رہیں پولیس کے ہوش وحواس بھی اڑتے رہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ان دنوں ایک اسلامی مملکت پاکستان میں کس قدر گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے سید توصیف حیدر ڈی پی او کے نوٹس میں تمام امور لائے گئے تو انہوں نے ایک زیرک انسان اور پولیس آفیسر کے طو رپر اس تمام آپریشن کو تھانوں کے ذریعے کرانے کی بجائے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دیں اور انہوں نے ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک ایسا کریک ڈاؤن کیا کہ چند ہی دنوں میں سوشل میڈیا کا غیر ضروری فحش‘اور لڑکیاں بن کر لڑکیوں سے دوستی کے علاوہ منشیات فروخت کرنیوالے درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لیکر مقدمات درج کر لیے جس کا جتنا بھی خراج تحسین سید توصیف حیدر ڈی پی او اور چوہدری اسد گجر سمیت پی آر او برانچ کے عملے کو دیا جائے کم ہے گرفتار ہونیوالوں میں لالہ موسی کا ایک جنید بٹ ولد خالد محمود سکنہ کریم پورہ جس کی عمر تقریبا 18سال ہے رکشہ چلاتا ہے اور اسکی دو بہنیں بھی شادی شدہ ہیں وہ اکثر اوقات اپنا رکشہ لیکر اسلامیہ ہائی سکول کے ارد گرد گھومتا رہتا تھا کمسن بچوں کو اپنے رکشے میں سیر کرانے کے بہانے اپنے ڈیرے پر لے جاتا ان کے ساتھ بد اخلاقی کرتا اور ویڈیو بناکر فیس بک پر چڑھا دیتا ایک گناہ اور دوسرا اسکا پرچار‘ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا مذکورہ بدقماش نوجوان نے کمسن بچوں کو مختلف قسم کے نشے پر لگا دیا تھا وہ کمسن بچوں کو نہ صرف اپنے پاس موجود ناجائز اسلحہ دیکھا کر خوفزدہ کرتا بلکہ اس نے ایسا گروہ بنا رکھا تھا جو سکولوں میں بچوں کی لڑائی میں خواہ مخواہ کود پڑتا‘ اغوا کر کے تشدد کی ویڈیو بھی فیس بک پر چڑھا دی جاتی گرفتار کیے جانیوالوں میں کنگ سٹوڈنٹ فورس (کے ایس ایف) کے چیئرمین جنید بٹ نے غیر قانونی تنظیم بنا رکھی تھی جبکہ پاشا گروپ اور قاضیاں سٹوڈنٹ فیڈریشن کا ممبر بھی گرفتار ہونیوالوں میں شامل ہے جنید بٹ چیئرمین کا کسی حوالے سے بھی طالبعلمی سے کوئی تعلق نہ تھا مگر وہ جعلی تنظیم بنا کر جعلی طالب علم بن کر نہ صرف طلبا و طالبات کے ساتھ تعلقات بناتا‘ مار پیٹ کا معاوضہ بھی لیتا‘اسکی گرفتاری پی آر او برانچ کا کارنامہ ہے پولیس نے گرفتار ہونیوالے درجنوں بدکردار نوجوانوں سے ان کی ویڈیو ز‘ موبائلز‘اسلحہ برآمد کر کے متاثرین کی درخواستوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے ہیں ا س سے پہلے کہ گجرات میں ضلع قصور کی کمسن بچی زینب جیسا کوئی کھیل کھیلا جاتا گجرات پولیس کے سربراہ سید توصیف حیدر اور ان کے عملے کی کاوشوں سے اس گینگ کے مختلف درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے روز بروز ہوشربا انکشافات پولیس کے لیے چونکا دینے والے ہیں اب یہ والدین کا ب بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں تو دوسری طرف سکول انتظامیہ بھی اپنے سکول کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے اور سیکیورٹی لگا کر ان بدقماش لوگوں سے کمسن طالبعلموں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں ایک ایسا ہی دلخراش واقعہ تھانہ کنجاہ میں ہوا جہا ں پر تین نوجوانوں نے فرسٹ ائیر کی طالبہ کو اپنے بھائی کے ساتھ گھر واپسی کے دوران اغوا کر لیا اور بچی کو اسکے بھائی کے سامنے زبردستی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا بعد ازاں اس مکروہ اور گندے فعل کی مکمل ویڈیو بنانے کے بعد اسے فیس بک پر چڑھا دیا گیا پولیس تھانہ کنجاہ کے محرر کاشف محمود عرف کاشی نے اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او ذو الفقار وریا کو مطلع کیا جنہوں نے چند گھنٹے کے دوران ہی فرار ہونے والے مذکورہ تینوں نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے قبضہ سے فرسٹ ائیر کی طالبہ کا موبائل فون اور اجتماعی زیادتی کی ویڈیو قبضے میں لے لی اور ان کے خلاف بھی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ایسے افراد کو معاشرے میں زندہ رہنے کا قطعا کوئی حق نہیں بلکہ اللہ کی دھرتی کو ان بد کرداروں سے پاک کرنا ہی وقت کا تقاضا ہے مگر چونکہ ان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں اب یہ عدالت کے رحم و کرم پر ہیں ایسے گنہگاروں کا بھی کوئی شمار نہیں جو اصل گنہگار تو ہیں مگر مناسب گواہ نہ ملنے کی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جلالپور جٹاں کی ایک جامع مسجد کے خطیب کو بھی مدرسہ کے ایک کمسن طالبعلم کے ساتھ بد اخلاقی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں علاقہ کے لوگوں نے پکڑ لیا اسکی داڑھی اور سر کے بال مونڈ دیے گئے بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیاگیا دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف تو اپنوں سے ہی ملاقات ہو گئی“ ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ایسے ہی لوگوں کی اکثریت ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے متاثرین سے جڑ جاتا ہے کوئی کمسن اپنے استادکی شیطانیت کا شکار ہو جاتا ہے توکوئی اپنے ہی کسی عزیز و اقارب کے ہاتھوں اپنی عزت لٹا بیٹھتا ہے لوگ اپنی عزت کی بدنامی کی وجہ سے خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اب تو پانی سر سے گزر رہا ہے ہر شخص کو موجود ہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایسی گھناؤنی فلمیں اور تصاویر چڑھانے پر بھی پابندی عائد ہونی چاہیے۔

مزید : ایڈیشن 1