اراضی ریکارڈ سینٹر پٹوار کلچر میں تبدیلی کا باعث کیوں نہ بن سکے؟

اراضی ریکارڈ سینٹر پٹوار کلچر میں تبدیلی کا باعث کیوں نہ بن سکے؟

  



(شیخوپورہ سے محمد ارشد شیخ )

سابق حکومت نے روائتی پٹوار کلچر سے چھٹکارے کی خاطر پنجاب میں اراضی ریکارڈ سنٹر کا قیام عمل میں لاکر لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کروانا شروع کیا مگر کرپشن کی کمائی ہاتھ سے نکلتی دیکھ کر پٹواریوں نے شدید روڑے اٹکائے، یہی وجہ ہے کہ آج تک لینڈ ریکارڈ پوری طرح کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوسکا اور پٹواریوں کو کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مواقع اب بھی میسر ہیں، چاہئے تو یہ تھاکہ حکومت پٹواریوں کی کرپشن و رشوت ستانی کا خاتمہ یقینی بنانے کے اقدامات اٹھاتی مگرایسا نہیں ہوسکا اور ماضی کی طرح اب بھی بعض عناصر پٹواریوں کو تحفظ دیئے ہوئے ہیں اور پٹوار سرکل کو اپنے تئیں چلانا شروع کررکھا ہے اور پٹواریوں کی کرپشن کو فروغ دے رہے ہیں جس سے کرپشن کے خاتمہ کا نعرہ عملاً بے وقعت ہو کر رہ گیا ہے، واقفان حال کے مطابق نہ صرف یہ بااثر عناصر فون کالز کے ذریعے لوگوں کی سفارش کرکے پٹواریوں کو ڈائریکشن دے رہے ہیں بلکہ اس مد میں پٹواریوں کو دلوائی جانیوالی رشوت سے بھی حصہ وصول کررہے ہیں،اٰ پٹواریوں نے تمام امور کے باقائدہ ریٹس مقرر کررکھے ہیں، فقط گزشتہ روز ایک ہفتہ کے دوران کئی ایک درخواستیں سامنے آئی ہیں جن میں شہریوں نے پٹواریوں کی مبینہ کرپشن و رشوت ستانی اور بھتہ خوری کے حوالے سے شکایات کی ہیں جن میں سے درخواستیں قابل ذکر ہے پہلی سرکل ہنجرانوالہ کے پٹواری کے حوالے سے ہے جس کے خلاف گزشتہ روز مقامی شہریوں نے شدید احتجاج کیا اور اسکے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ کرپٹ پٹواری کو فی الفور فارغ کرکے اسکے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے اور اس کی جگہ فرض شناس اور ایماندار پٹواری کو تعینات کیا جائے، متاثرہ شہری صابر حسین نے میڈیا کو بتایا کہ ایک پٹواری نے اس سے 6 ہزار روپے رشوت لی مگر اب تک ٹال مٹول کررہا ہے پٹوار خانہ کے چکر کاٹ کاٹ کر خوار ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کیا جبکہ احتجاجی مظاہرین میں شامل دیگر درجنوں مظاہرین نے بھی میڈیا کوشکایات کے انبار لگا دیئے جنہوں نے بتایا کہ یہ پٹواری ایک عرصہ سے تعینات ہے اور اثر و رسوخ کی بناء پر یہاں سے تبدیل نہیں اس کی کرپشن سے متعلقہ افسران کو آگاہ کیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہماری طرف سے شکایات کرنے پر الٹا پٹواری نے رشوت کے ریٹس بڑھا دیئے ہیں اور کام کرنے سے بھی قاصر ہے، مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت اینٹی کرپشن اور نیب حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پٹواری کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں اور اسکے ا ثاثے چیک کئے جائیں جس سے اسکی کرپشن کے تمام ثبوت سامنے آجائیں گے، اسی طرح دوسری شکایت حلقہ پٹواری اجنیانوالہ کے حوالے سے ہے جس کے خلاف ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کوتحریری شکایت بھجوائی گئی ہے جس میں صدیقیہ کالونی اجنیانوالہ کے رہائشی محمد ثقلین نے موقف اختیار کیا ہے کہ حلقہ پٹواری نے اس کے خریدے گئے کمرشل پلاٹ کو رجسٹرڈ کرنے کا جھانسہ دیکر اس سے 40ہزار روپے وصول کئے اور اندراج میں مسلسل تاخیر کرتا رہا بعدازاں ایک روز پٹواری انکے ہاں آیا اور لینڈ ریکارڈ سنٹر میں رقم جمع کروانے کے نام پر 50ہزار روپے مزید مانگے جو درخواست گزار نے بعض گواہان کی موجودگی میں اسے ادا کردیئے جس کے باوجود پٹواری مسلسل ٹال مٹول کرتا رہا اور لینڈ ریکارڈ سنٹر سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ کرپٹ پٹواری نے اندراج نہیں کروایا جس کے بعد پٹواری سے رابطہ کیا تو وہ بدکلامی پر اتر آیا اور رقم کی واپسی سے بھی انکاری ہوگیا اور اب مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے، درخواست گزار نے اینٹی کرپشن کودی گئی تحریری درخواست میں اپیل کی کہ پٹواری کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، یہ دو واقعات فقط مثالیں ہیں حالانکہ اس نوعیت کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر پیش آرہے ہیں او ر شہریوں کو پٹواریوں کے ہاتھو ں شدید مالی استحصال کا سامنا ہے، یہی نہیں بلکہ پٹواری اور ان کے وہ حواری جو عملاًان کے پٹوار خانے چلاتے ہیں سرکاری ملازم نہ ہونے کے باوجود سارا سارا دن پٹوار خانوں میں بیٹھ کر سادہ لوح افراد سے مختلف حیلوں بہانوں سے رقم بٹورتے ہیں جس کا باقاعدہ طے شدہ حصہ پٹواری کو ملتا ہے اور بعض دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کی بھی جیب گرم کی جاتی ہے جبکہ مٹھی گرم نہ کرنے والے سائلین کو اس وقت تک پٹوار خانے کے چکر لگواکر خوار کیا جاتا ہے جب تک وہ ڈیمانڈ کردہ رقم ادا نہیں کردیتا، مختلف پٹوار سرکلز میں سفارش اور چمک کی بناء پر پٹواری سروس رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی کئی سالوں سے اپنے اپنے پٹوار سرکلز میں تعینات ہیں جو مبینہ طور پر تحصیلدار اور نائب تحصیلدار حضرات سے ملکر کرپشن کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ان بااثر پٹواریوں نے گزشتہ کئی سالوں سے پٹوار سرکلز کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ رکھا ہے، ہر کام کے علیحدہ علیحدہ ریٹس مقرر کرکے سائلین کو لوٹا جارہا ہے یہ پٹواری لگژری گاڑیاں کے مالک اور بڑے بڑے محل نما ء گھروں میں رہتے ہیں جبکہ پٹوارخانوں میں جائیداد کمرشل ہو یا زرعی زبانی انتقال پر ایک لاکھ کی جائیداد پر 4فیصد رشوت وصول کی جاتی ہے جس میں سے دو فیصد پٹواری، ایک فیصد کانونگو اور ایک فیصد تحصیلدار وصول کرتا ہے اسی طرح ہر پٹواری جائیداد کی منتقلی کیلئے جاری فرد پر شیڈول ریٹ لگانے کے 3سے 5ہزار روپے فی فرد اور انتقال درج کرنے کا ریٹ 10ہزار سے 30ہزار روپے مقرر ہے حالانکہ انتقال کی سرکاری فیس صرف 500روپے جو رجسٹریشن برانچ وصول کرتی ہے، پٹواری انتقالات درج کرکے کئی کئی ماہ انہیں پاس نہیں کرواتے جس سے سائلین رل جاتے ہیں، اسی طرح وراثتی انتقال پر بھی جتنی مالیت کی جائیداد ہو گی اسی حساب سے رشوت لی جارہی ہے، بعض پٹوایوں نے سٹی نائب تحصیلدار و دیگر کی ملی بھگت سے اتنی دولت جمع کی ہے کہ اسکی آئندہ کی نسل ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر بھی تمام عمر اس دولت سے سہارے باآسانی بسر کرسکتی ہے، پٹواری اور سٹی نائب تحصیلدار سائلین سے لاکھوں روپے کی رشوت سے باقائدہ حصہ اوپر والے افسران اور سیاسی سرپرستی کرنے والوں تک بھی پہنچاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شکایات کے باوجود ان کے خلاف نہ تو کاروائی ہوتی ہے اور نہ ہی ان کو یہاں سے تبدیل کیا جاتا ہے، حکومتی شخصیات پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تمام مذکورہ الزامات کی تصدیق کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیں جو پٹوار سرکلز پر قابض کرپٹ مافیا کے خلاف کاروائی یقینی بنائے۔

مزید : ایڈیشن 1