جی ڈی پی میں ایس ایم ایز کا حصہ 40فیصد سے زیادہ ہے:فیصل آباد چیمبر

جی ڈی پی میں ایس ایم ایز کا حصہ 40فیصد سے زیادہ ہے:فیصل آباد چیمبر

  



فیصل آباد (اے پی پی): جی ڈی پی میں سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز کا حصہ 40فیصد سے زائد ہے اور مذکورہ ایس ایم ایز صرف فیصل آباد کی سطح پر ہزاروں نوجوانوں کو روز گار فراہم کر رہی ہیں جبکہ ملکی برآمدات میں ایس ایم ایز کا حصہ30فیصد کے قریب ہے لہٰذا اگرسٹیٹ بینک ای ایف ایس اور ایل ٹی ایف ایف کی سکیموں کے متعلق عدم آگاہی اور پیچیدہ طریق کار کو آسان بنا دے تو جی ڈی پی اور ایکسپورٹ میں ایس ایم ایز کا حصہ کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے جس سے ملک معاشی استحکام سے ہمکنار اور اقتصادی بہتری کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کے صدر رانا محمد سکندر اعظم خان نے اے پی پی سے بات چیت کے دوران کہا کہ فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا صنعتی و کاروباری اور تجارتی شہر ہے جس کی آبادی میں اس وجہ سے بھی روز بروز اس وجہ سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ یہاں چونکہ کاروباری مواقع زیادہ ہیں لہٰذا دیگر پسماندہ و مضافاتی اضلاع کے ٹیکنیکل ہینڈ لوگ صنعت و تجارت کے شعبہ میں روزگار کے حصول کیلئے فیصل آباد کا رخ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیڈمک کے تحت چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے بننے والے پاکستان کے پہلے ترجیحی اکنامک زون علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کے قیام سے بھی یہاں بڑی صنعتوں کے ساتھ ساتھ سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز کو فروغ حاصل ہو گا۔ا اگرچہ حکومت صنعتی و کاروباری ترقی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاہم اسے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مزید بہتر اقدامات کی گنجائش سے استفادہ کرنا ہو گا۔انہوں نے بتایاکہ اگرچہ حکومتی اقدامات سے ملکی معاشی صورت حا ل میں بہتری آرہی ہے اور سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز کی تعداد 32لاکھ 75ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جو کل جی ڈی پی کا 40فیصد ہے مگر اسے بعض مسائل کا سامنا ہے اسلئے اگر سٹیٹ بینک ان کے مالی مسائل حل کرنے کیلئے ای ایف ایس اور ایل ٹی ایف ایف کی سکیموں کے متعلق عدم آگاہی اور پیچیدہ طریق کار کو آسان بنا دے تو زیادہ سے زیادہ ادارے وافراد اور سٹیک ہولڈر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجہ کی صنعتوں کو قومی معیشت کی ترقی کیلئے انجن قرار دیتے ہوئے ان کیلئے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں ایس ایم ایز کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ یہ سیکٹر بڑے پیمانے پر نوجوانوں کوروزگار بھی مہیا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایس ایم ایز کی تعداد 3.27 ملین ہے جبکہ ملکی برآمدات میں بھی ان کا حصہ 30 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا، سٹیٹ بینک اور فیصل آباد چیمبر کو مل کر ایسے اقدامات کر نا ہوں گے جن کے ذریعے چھوٹی اور درمیانی درجہ کی صنعتوں کیلئے مالی وسائل کا حصول آسان بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایس ایم ای سیکٹر کو ملکی ترقی میں اپنے کردار کے تناسب سے مالی وسائل ملنے چاہئیں اور اس مقصد کیلئے دستیاب قرضوں کا نوے فیصد حصہ ان کیلئے مختص کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایس ایم ای سیکٹر کو درست راستے پر ڈال دیا گیا تو نہ صرف ملک میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہونگے بلکہ برآمدات بڑھا کر اضافی قیمتی زر مبادلہ بھی کمایا جا سکے گا۔

مزید : کامرس