رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ……وسعت اورمسائل

رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ……وسعت اورمسائل
رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ……وسعت اورمسائل

  



دنیا میں انسان کی ازل سے ہی آرام دہ رہائش کے حصول کی خواہش نے اسے سرگرم کردار نبھانے کیلئے متحرک بنائے رکھا۔ خوبصورت۔ دلکش اور آرام دہ رہائش گاہوں کے انتخاب سے ہی انسان کی عقل و دانش اور فہم وفراست کا اظہار ہوتا ہے۔ڈاکٹر علامہ اقبال نے بجا فرمایا کہ……کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد

وقت کے ساتھ انسان کی ازلی خواہش نئے تقاضوں میں ڈھلتی چلی گئی۔ نئی ایجادات نے مزید سہولیات کے راستے ہموار کر دیئے۔گھر بنانے اور کرائے پر حاصل کرنے کے کاروبار نے وسعت اختیار کرلی۔ یہ تجارت ساکھ کے اعتبار سے دنیاکی سب سے معتبر صنعت کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ پراپرٹی کے کاروبار میں ایمانداری، اخلاص اورعہدنبھانے کے عمل نے اسے ممتاز مقام بخشا جس کے سبب اب پراپرٹی کا کاروبار ملکی معشیت کو سہارادینے والا موثر ذریعہ ہے۔ جس کے مستند اقتصادی ماہرین معترف ہیں۔ پاکستان میں اس کاروبار میں انے والے زیادہ تر لوگ اپنی ایمانداری کے باعث عمدہ پرفارمنس دیکر ملکی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار نبھا رہے ہیں۔

نئی ٹیکنالوجی سے بلاشبہ پراپرٹی کے بزنس اور صارفین کے لئے بے شمار سہولیات میسر ائی ہیں۔تاہم اسکے ساتھ ہی کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ درحقیقت اسکی بہتری اور خرابی میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقہ کار کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ ماضی میں لوگوں کو برائے فروخت یا کرائے کی جائیداد ڈھونڈنے کیلئے خاصی مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ ان کے لئے اپنے شہر میں ہی مختلف منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت سے جاننا آسان نہیں تھا لیکن اب پراپرٹی کے بزنس میں آسانیاں پیدا کرنے کے ساتھ صارفین کو بھی بے شمار سہولیات میسر ہیں۔ دوسری طرف ٹیکنالوجی کا سب سے منفی اثر اس میں سے انسانی عمل دخل کا کم ہوجانا ہے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے صارفین اور مالکان یا فروخت کنندہ کے مابین مضبوط تعلق بنانا ہوتا ہے۔ جس میں اعتبار اور ساکھ کے حوالے سے نئے معاہدے ہوتے ہیں۔ اصولی طور پر اعتماد،بھروسہ اور ساکھ ہی اس کاروبار کو باوقار بناتے ہیں۔ ہر طرح کے ڈیٹا تک رسائی کی بدولت ایجنٹ یا فروخت کنندہ کوہر طرح کا اعتماد ہوتا ہے۔ اسی طرح صارفین کے پاس خرید کے حوالے سے ہر طرح کی تصدیق کی تمام مروجہ سہولیات ہونی چاہئیں۔ جائیداد کی خرید وفروخت کا معاہدہ کوئی آسان کام نہیں۔ اس میں بہت سے قانونی معاملات کا خیال رکھنا پڑتا ہے جس میں اہم کاغذات پر دستخط۔معائنے اور تشخیص و تصدیق سمیت دیگر کئی ضرور کاغذی کارروائی کو قانون کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانا ناگزیر ہوتا ہے۔ جو اس شعبے کے باصلاحیت پیشہ ور افراد کے اخلاص کے بغیر ممکن نہیں۔

اب ہمارے ہاں جس سب سے بڑی خرابی نے سر اٹھایا ہے وہ دوسرے کے کام میں مداخلت کا عمل ہے۔ مثال کے طور پرہم نے اعتبار کی بنیاد پر جس پورٹل سروس کو اپنی تمام معلومات فراہم کردیں اس کے ملکی ہونے کی وجہ بھی اہم تھی۔ قبل ازیں معروف ساکھ والی ویب سائٹ پورٹل سروس کی پیشکش اسکے غیر ملکی ہونے پر مسترد کردی تھی۔ اب یہی ملکی پورٹل سروس اپنے پراپرٹی کے کام کو ہماری معلومات کے ذریعے وسعت دیکر ہمارے کام میں مداخلت کررہی ہے۔ ساکھ اور اعتبار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی راہ اختیار کی جارہی ہے۔ پاکستان میں کسی بھی تجارتی عمل کا دارومدار باہمی اعتماد پر ہوتا ہے اور جیسے ہی اس رشتے میں دراڑ آتی ہے کاروبار تباہی کی جانب چل پڑتا ہے۔ اس وقت پراپرٹی کے کاوربار کو بچانے کے لئے فوری طور پر تمام سٹیک ہولڈرز کے لئے مروجہ ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔ حکومت کیلئے پراپرٹی کے کاروبار کی ساکھ بچانے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنا ہونگے۔ حالات اعتماد پر پورا نہ اترنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ اس لئے ملکی مفاد کے مد نظر پراپرٹی کے کاروبار سے خرابیوں کو دور رکھنے کی خاطر موثر؛مربوط اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ہوگی، اس سے بہتری کی راہیں استوار ہونگی تو ملکی تعمیر و ترقی کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم