منشیات فروش کو گرفتار کرنے پر ایکسائز افسر کو طالبان کے نام پر دھمکیاں

  منشیات فروش کو گرفتار کرنے پر ایکسائز افسر کو طالبان کے نام پر دھمکیاں

  



کراچی(رپورٹ ندیم آرائیں)کراچی کے علاقے کورنگی میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کی منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کارروائی دو ملزمان گرفتار کر کے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔مبینہ طور پر بلوچستان اور افغانستان کے طالبان کمانڈروں کی جانب سے فون پر اے ای ٹی او محمد وسیم خواجہ کو ملزمان کے خلاف کارروائی پر سنگین نتائج بھگتنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر محمد وسیم خواجہ نے ایس ایچ او تھانہ کلفٹن کو ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی۔تفصیلات کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر محمد وسیم خواجہ کی سربراہی میں ٹیم نے کورنگی کراسنگ کے نزد کارروائی کرکے ایک کرولا کار نمبر AUX-606 سے بھاری مقدار میں چرس برآمد کرکے دو ملزمان کو گرفتار کیا جن کی شناخت نقیب اللہ اور عبد الوھاب کے ناموں سے ہوئی۔ کارروائی کے بعد ملزمان کے دو ساتھی محمد وسیم خواجہ کے دفتر میں آئے، ایک نے اپنا تعارف ایڈووکیٹ قدرت اللہ اور دوسرے نے ملزم نقیب اللہ کے بھائی کی حیثیت سے کروایا۔ وسیم خواجہ کے مطابق قدرت اللہ نے مجھے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ جب قدرت اللہ نامی شخص سے وکیل ہونے کا کوئی ثبوت یا وزٹنگ کارڈ طلب کیا تو وہ نہیں دے پایا اور دونوں اشخاص دھمکیاں دیتے ہوئے روانہ ہوگئے۔ اے ای ٹی او محمد وسیم نے مبینہ وکیل اور ملزم کے بھائی کی تصاویر بھی درخواست کے ساتھ متعلقہ تھانے میں دے دی ہیں۔اس واقعے کے دوسرے دن محمد وسیم خواجہ کو بلوچستان اور افغانستان کے نمبروں سے کالیں کرکے گالم گلوچ کرنے کے ساتھ سنگین نتائج بھگتنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ محمد وسیم کے مطابق فون کرنے والوں نے اپنے آپ کو طالبان کمانڈر ظاہر کیا۔اپنا تعارف ایڈووکیٹ قدرت اللہ کے نام سے کروانے والے شخص کے بارے میں جب معلوم کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ وکیل نہیں ہے۔گرفتار ملزم نقیب اللہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بدنام زمانہ منشیات فروش اور اسمگلر ریاض کا قریبی رشتے دار ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے شہر کے شیریں جناح کالونی، کیماڑی، کلفٹن کے ہندو پاڑے اور پوش علاقوں میں منشیات فروشی کے کام میں ملوث ہے۔گرفتار ملزم نقیب اللہ کلفٹن بلاک ایک میں ایک رہائشی پروجیکٹ میں بطور سپر وائزر کام کر رہا تھا اور معلوم ہوا ہے کہ اس رہائش پروجیکٹ کا مینٹیننس انچارج حاجی رزاق نامی شخص بھی اس کے ساتھ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہے جو کارروائی والے دن سے روپوش ہوگیا ہے جبکہ جعلی وکیل بن کر ایکسائز افسر محمد وسیم خواجہ کو دھمکیاں والے شخص قدرت اللہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ گروہ کے سرغنہ حاجی رزاق کا بیٹا ہے اور اس کا وکالت کے پیشے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے

مزید : صفحہ آخر