پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجیدسے سعودی سیاسی و میڈیا تجزیہ کار اور چیئرمین روزنامہ البلاد خالد المعینہ کی ملاقات

پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجیدسے سعودی سیاسی و میڈیا تجزیہ کار اور چیئرمین ...
پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجیدسے سعودی سیاسی و میڈیا تجزیہ کار اور چیئرمین روزنامہ البلاد خالد المعینہ کی ملاقات

  



جدہ ( محمد اکرم اسد) پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجیدسے سعودی سیاسی و میڈیا تجزیہ کار اور چیئرمین روزنامہ البلاد خالد المعینہ نے ملاقات کی۔ خالد المعینہ روزنامہ عرب نیوز اور روزنامہ سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ان چیف رہ چکے ہیں. ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے دوران دونوں نے باہمی دلچسپی کے امور خصوصا پاک سعودی میڈیا تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان کے قونصل جنرل ، خالد مجید نے قونصلیٹ میں خالد المعینہ کاخیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین رابطوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تقویت بخشی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک سعودی تعلقات کی جڑیں ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہیں۔ انہوں نے میڈیا تعلقات کو مستحکم کرنے اور دونوں ممالک کی میڈیا انڈسٹریز کے مابین خبروں کے تبادلے کے بارے میں المعینہ کے خیالات کا خیرمقدم کیا۔ خالدمجید نے سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے سعودی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام زائرین کرام اور شہریوں کی عمومی صحت کے تحفظ کے لئے سعودی حکومت کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ جو کہ ایک احسن قدم ہے۔

خالد المعینہ نے بتایا کہ روایتی پرنٹ میڈیا اب ڈیجیٹل کائنات میں تبدیل ہوچکی ہے۔ یہ ہر شخص کے ہاتھوں میں ایک طاقتور آلہ بن گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کی نوجوان نسل کو اس تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ ذمہ داری سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی پاک تعلقات ہر طرح سے غیر معمولی رہے ہیں اور دونوں برادر ممالک کے مابین میڈیا تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی میڈیا کے مابین باہمی تعاون کے کام ہو رہے ہیں اور ان تعلقات کو مزید تقویت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ المعینہ نے کراچی یونیورسٹی میں طالب علم کی حیثیت سے اپنےخوشگوار پرانے دنوں کو بھی یاد کیا۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نےخالد المعینہ کو 2008 میں، بطور ایڈیٹر ان چیف عرب نیوز، پاک سعودی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔

مزید : عرب دنیا