وطن سے ہزاروں میل دور، وطن کی مٹی کی خوشبو

وطن سے ہزاروں میل دور، وطن کی مٹی کی خوشبو
وطن سے ہزاروں میل دور، وطن کی مٹی کی خوشبو

  



دبئی (طاہر منیر طاہر) پاکستان سے ہزاروں میل دور عرب کے صحرا میں واقعے شہر دبئی میں ایک گھر ایسا بھی ہے جہاں پاکستان سے مٹی لا کر بچھائی گئی ہے۔ دبئی میں گزشتہ تین دہائیوں سے مقیم ایک پاکستانی ملک منیر اعوان نے اپنے خوبصورت گھر کا ایک حصہ کچا ّآ نگن بنا رکھا ہے جسے اُنہوں نے ”ویڑا“ کا نام دیا ہے۔

دبئی کے پوش علاقے میں واقع جدید طرز کے اس گھر جسے ملک منیر اعوان نے گیسٹ ہاﺅس کا نام بھی دے رکھا ہے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف آپ کو یہ خوبصورت ”ویڑا“ دکھائی دے جو گاﺅں کے ایک کسی ایک پرانے گھر کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس جگہ پر پاکستان سے کئی ٹرک مٹی لا کر بچھائی گئی ہے۔ دیواروں پر مٹی اور توڑی ملا کر لیپ کیا گیا ہے جبکہ زمین پر بھی خالص دیسی طرز کے گھر کی طرح مٹی کا لیپ کیا گیا ہے۔ دیواروں میں طاقچے بنائے گئے ہیں ۔

پرانی الماریاں ، دروازے اور کھڑکیاں نصب کی گئی ہیں۔ حال ہی میں راجستھان سے ایک پرانا دروازہ منگوا کر یہاں نصب کیا گیا ہے۔ گھر کے کچے آنگن جگہ جگہ مٹی کے تیل والی لالٹین لگائی گئی ہے جبکہ دیگر قابل ذکر چیزوں میں بیل گاڑی کا پہیہ ، حقہ، دیسی چولہا مٹی کا بنا ہوا، لوہے کا دودھ والا برتن، سیڑھی، اوکھلی، چار پائیاں، موڑھے، پیڑھی، پرانی طرز کی کرسیاں، میز، جھاجھر، پانی کا مٹکہ، کٹوریاں، مٹی کی ہانڈی ، کنال، پرانی استری کوئلہ والی، مٹی کے پیالے، گلاس، دیگر برتن اور دیہی گھروں میں استعمال ہونے والی متعدد اشیاءبھی رکھی گئی ہیں۔

ویڑا کے ساتھ مخالف سمت میں منی زو بنایا گیا ہے جس میں مرغے، بطخیں، خرگوش اور دیگر جانور رکھے گئے ہیں۔ یہاں ایک جمبو سائز کا سیاہ رنگ کا مرغا بھی موجود ہے جس کا بتایا گیا کہ اس کا گوشت بھی کالا ہے جبکہ ملک منیر اعوان نے 72 سالہ کچھوا بھی پال رکھا ہے۔

دبئی میں پاکستانی طرز کے دیسی آنگن ”ویڑا“ کا نظارہ کرنے کے لئے ملک منیر اعوان نے دبئی میں قائم پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاکستان جرنلسٹس فورم کو اپنے گیسٹ ہاﺅس پر مدعو کیا ۔ جہاں اُنہوں نے اپنے ساتھی نیاز علی جدون اور صاحبزادے ہارون گل کے ساتھ صحافیوں کی ٹیم کو خوش آمدید کہا۔ پاکستان جرنلسٹس فورم دبئی و متحدہ عرب امارات کے صدر اشفاق احمد کی سربراہی میں PJFکے دیگر ساتھی سہیل خاور، سبط عارف، خالد محمود گوندل، راجہ عرفان، راجہ اسد خالد، طاہر منیر طاہر، راجہ محمد نصیر، شیخ محمد پرویز، احمد قریشی، اشفاق احمد اے آر وائی اور عارف شاہد اس موقع پر موجود تھے۔

میزبان ملک منیر اعوان نے تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ تیس سال سے دبئی میں مقیم ہیں گزشتہ تیس سال کے عرصہ میں بہت کم پاکستان جا کر رہنا نصیب ہوا ہے۔ امارات میں بسلسلہ روز گار ان کا زیادہ وقت میں گزرا ۔ وطن کی یاد ہر دم آتی تھی اور وطن کی مٹی کی خوشبو وہاں کھینچتی تھی۔ وہ خود تو وہاں نہ جا سکے البتہ پاکستان سے مٹی اُنہوں نے یہاں منگوا لی اور گھر کے آنگن میں بچھا دی جبکہ گھر کے اس کو نہ کو دیہی اور دیسی ماحول بھی دیدیا۔

ملک منیر اعوان نے بتایا کہ وہ یہاں بیٹھ کر اپنے آپ کو پاکستان میں ہی محسوس کرتے ہیں اور وطن کی مٹی پر بیٹھ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان جرنلسٹس فورم کے ارکان نے بھی ہر چیز کو پوری دلچسپی کے ساتھ دیکھا بہت سی پرانی چیزیں ایسی بھی جن کے نام کسی کو نہیں آتے تھے ۔ باہمی گفت وشنید کے دوران ملک منیر اعوان نے بتایا کہ بہت سے مقامی شیوخ بھی اس جگہ کو وزٹ کر چکے ہیں اور بے حد خوش ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وطن کی قدر وطن سے دور آ کر ہی محسوس ہوتی ہے خاص طور وہ لوگ جو طویل عرصہ پاکستان سے باہر رہے ہیں وہ تو پاکستان ، اپنے گھر ، گاﺅں ، گلیوں ،اور پرانے دوستوں کو بے حد مس کرتے ہیں۔

ویڑا میں رکھی گئی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے ملک منیر اعوان نے بتایا کہ یہاں رکھی گئی تمام چیزیں اصلی ہیں ۔ جس کا اندازہ ان کی ساخت اور حالت دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ چیزیں جمع کرنے میں انہیں خاصا وقت لگا ہے جبکہ اب بھی وہ مزید پرانی چیزیں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ویڑا میں دیسی ساخت کا نلکا جبکہ ایک طرف کنواں بھی موجود ہے۔ سورج ڈھلتے ہی دیسی ساخت کی مٹی کے تیل والی لالٹینوں اور قندیلوں کو روشن کر دیا گیا جس سے گاﺅں کا منظر مزید اُبھر کر سامنے آگیا۔ دبئی جیسے جدید ترین شہر میں جہاں روشنیوں اور قمقموں کی چکا چوند آنکھوں منیرہ کر دیتی ہے ۔ وہاں جدید ساخت کے گھر کے آنگن میں دیسی ساخت کے اس ویڑے کا نظارا ہی عجیب تھا جسے دیکھ کر ہر کسی کو پاکستان اور دیہی علاقے یاد آ گئی۔

PJFکے وزٹرز نے اس قدر دلچسپ نظارا فراہم کرنے پر ملک منیر اعوان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی کاوش کو خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ میزبان کی طرف سے تازہ اور لائیو باربی کیو کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ دیسی انداز میں سموسے اور جلیبیاں بھی ڈنر کے ساتھ مہمانوں کو پیش کی گئیں۔

مزید : عرب دنیا /تارکین پاکستان