عورتوں سے وراثت اورتعلیم کا حق کوئی چھین نہیں سکتا،سعودی عرب کے حوالے سےپروپیگنڈا کی کوئی حقیقت نہیں:علامہ طاہر اشرفی

عورتوں سے وراثت اورتعلیم کا حق کوئی چھین نہیں سکتا،سعودی عرب کے حوالے ...
عورتوں سے وراثت اورتعلیم کا حق کوئی چھین نہیں سکتا،سعودی عرب کے حوالے سےپروپیگنڈا کی کوئی حقیقت نہیں:علامہ طاہر اشرفی

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملکی نظام کی اصلاح کےلیےہرفرد کو اپناکرداراداکرناہوگا،نسل نو کی اصلاح اور ان کےایمان کی حفاظت بڑا چیلنج،علماء و مشائخ کواس محاذ پر بھی لڑنا پڑے گا،اسلام امن ، سلامتی اور اعتدال کا دین ہے،نظام خلافت راشدہؓ تمام طبقات کے حقوق کا محافظ ہے،29 مارچ کو پانچویں عالمی پیغام اسلام کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی،عورتوں کو وراثت اورتعلیم کا حق شریعت اسلامیہ نے دیا ، جسے کوئی چھین نہیں سکتا،مدارس عربیہ کا وزارت تعلیم سے منسلک ہونا درست سمت قدم ہے،افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کی عسکری سیاسی اور مذہبی قیادت کی کوششیں قابل قدر ہیں۔

یہ بات نظام خلافت راشدہؓ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہی ، کانفرنس کی صدارت چیئرمین پاکستان علماء کونسل و متحدہ علماء بورڈ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی ،کانفرنس سے مولانا محمد رفیق جامی ،مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ،مولاناڈاکٹر سرفراز اعوان ، مفتی سعید ارشد الحسینی ، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا شفیع قاسمی، مولانا اسید الرحمٰن سعید، مولانا محمد اسلم صدیقی ، مولانا زبیر عابد، مولانا شکیل قاسمی ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا محمد اسلم صدیقی ، مولانا عبدالقیوم فاروقی، و دیگرنےخطاب کرتےہوئےکہا کہ مدینہ منورہ طرز کی ریاست کاقیام صرف حکومت نہیں ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے،پاکستان میں عدل اور نظام احتساب کے لیے تمام طقبات کو متحد ہونا ہے۔ قائدین نے کہا کہ اسلام دشمن قوتیں افواہ سازی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور وہ امت مسلمہ میں مایوسی پھیلانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں،مملکت سعودی عرب کے حوالے سے ان افواہ ساز فیکٹریوں نے جو پروپیگنڈا کیا ، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خلافت راشدہؓ  کا نظام نافذ ہوجائے تو تمام مسائل اور مایوسیوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے، یہی وہ نظام ہے جس میں کوئی غریب بھوکا نہیں سوتا ، مظلوم کی داد رسی ہوتی ہے،انصاف گھر کی دہلیز پر ملتاہے،پاکستان آج انہی مسائل کاشکارہے،یہاں دولت چندہاتھوں میں قیدہو کررہ گئی ہے،غریب اورامیرکےدرمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں، مظلوم کی داد رسی کا کوئی نظام موجود نہیں،لوگوں کو انصاف کےلیےدھکے کھانےپڑتےہیں،جب خلافت راشدہؓ کا نظام آئے گاتو اِن تمام قباحتوں سے نجات مل جائے گی،ملک کےطول و عرض میں خوشحالی کا پھریرالہرائےگا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں علماو مشائخ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج نسل نو کے ایمان کی حفاظت ہے، نسل نو کومغربی یلغار ، تکفیراور تشدد پھیلانے والے گروہوں سے بچانا علماء امت کی ذمہ داری ہے،چند لوگ آزادی اور حقوق کےنام پر اللہ کی قائم کردہ حدود و قیود کو پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں ، انہیں نظریہ پاکستان کی کوئی پروا ہے نہ ہی مشرقی اقدار کی،عورت مارچ کے نام پر جو اودھم مچایا گیا وہ ساری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا،کسی اسلامی معاشرے میں ان چیزوں کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ امن معاہدہ امن کی کنجی ہے، اب یہاں سے ایک بار پھر افغانیوں کے کڑے امتحان کا وقت شروع ہورہا ہےانہیں دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ایک بار پھر افغانستان مدینہ طرز کی حقیقی ریاست بنے،بہت سی قوتیں اس امن معاہدے سے ناخوش ہیں اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لیے سازشیں کر رہی ہیں،افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی امن کیلئے مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے،افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ خطہ میں امن اور استحکام کا سبب بنے گا،اس معاہدے کے بعد اب اسرائیل اور ہندوستان کو مان لینا چاہیے کہ طاقت کی بنا پر قوموں کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دینی مدارس اور مساجد کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں، نہ ہی کوئی انہیں قبضہ میں لے رہا ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دینی مدارس کی رجسٹریشن وزارت صنعت کے بجائے وزارت تعلیم کے ذریعے ہو رہی ہے، یہ خوش آئند اقدام ہے۔

مزید : قومی