ہاتھ پھیلاتی معصومیت

ہاتھ پھیلاتی معصومیت
ہاتھ پھیلاتی معصومیت

  



آج شہر کا موسم بہت خوبصورت تھا۔بارش  کے بعد کالے بادلوں نے ابھی تک آسمان کو گھیرا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوا نے موسم کو مزید چار چاند لگا دیئے تھے۔ دن بھر کی مزدوری کے بعد اللہ اللہ کر کے چھٹی کا وقت آپہنچا۔آج موڈ بنا کہ ریس کورس جا کر تھوڑی واک ہی کر لی جائے،چنانچہ ہیڈفونز پر اپنے پسندیدہ گانے لگائے اور چل پڑے۔ میں اپنی تصوراتی دنیا میں مگن تھی کہ سگنل پر گاڑی رکی،اپنی آس پاس کی گاڑیوں کی جانب نظر دوڑائی اور ماحول کا جائزہ لیا،ابھی میں اپنے خیالوں میں مگن ہی تھی کہ کسی نے زورسے گاڑی کا شیشہ پیٹنا شروع کردیا،اس اچانک مچی ہلچل پر مجھے شدید غصہ آیا مگر جب باہر نظر پڑی تو ناجانے کیوں میرا سخت لہجہ اور اونچی آواز کہیں دب کر رہ گئی۔ایک خوبصورت اور معصوم بچی میرے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی۔اس کے بدن پر موجود گندے کپڑے اور مٹی سے جکڑے ہوئے بال بھی اس کے چہرے کی معصومیت کو ماند نہیں کر پا رہے تھے۔ اس کی عمر لگ بھگ چھ سال ہوگی مگر کمزوری سے وہ اپنی عمر سے مذید کم نظر آرہی تھی۔ میں نے ایک نظر اس کو دیکھنے کے بعد ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے احساس ہوا وہ اکیلی  نہیں ہے وہاں۔ اس کے جیسے مزید بچے بھی ہیں،ایک دو عورتیں اور کچھ مرد بھی ہیں جو کسی نہ کسی بہانے بھیک مانگنے میں مصروف ہیں۔ کوئی کلرنگ بکس بیچ رہا ہے تو کوئی پھول۔ کسی نے گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے والے وائیپرز اٹھائے ہیں تو کوئی کلپس اور پین بیچنے کے بہانے بھیک مانگنے میں مصروف ہے ۔ مجھے یہ اندازہ لگانے میں ذرا دیر نہ لگی کہ یہ پورا خاندان یہاں موجود ہے۔ میں ابھی اندازے لگا ہی رہی تھی کہ میری پچھلی گاڑی نے ہارن بجانا شروع کر دیا جس سے مجھے سگنل کے کھل جانے کا اندازہ ہوا۔

خیر میں ریس کورس تو موسم کا لطف لینے پہنچی تھی مگر ذہن پر  وہ سگنل والی بچی سوار ہو چکی تھی۔ چاہتے ہوئے بھی میں اپنا دھیان اس پر سے ہٹا نہیں پا رہی تھی۔ ایسا کیوں؟ ایسا کب سے؟ ایسا کب تک؟ اس کا اور اس جیسے ہزاروں بچے بچیوں کا کیا مستقبل ہے؟ کیا ان کی جان اور ان کی عزتیں سڑکوں پر محفوظ ہیں؟ ایسے کئی سوال میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔

یہ سچ ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے مگر کیا اس گداگری کے پیشے اور مافیا کی شکل اختیار کرنے میں اسی خیرات کا ہاتھ ہے؟

پاکستان میں تقریبا ہر گلی،چوراہے،بازار،اور درگاہوں پر ہزاروں گداگر اور بھکاری نظر آتے ہیں جن میں بیشتر بچے ہیں،جو یا تو اپنے گھروں سے مفرور ہیں یا جو کچھ ظالموں کے ہاتھوں مغوی ہوتے ہیں۔ان میں زیادہ تر بچے نشے جیسی بری لت کے بھی عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

گداگری کے پیشے میں آج کل ہر طرح کے اور ہر عمر کے لوگ ملوث ہیں،بچے،جوان،عورتیں اور بڑے،آیا ساری نسل ایک سگنل پر کھڑی ہو کرعوام کو لوٹنے میں مصروف نظر آتی ہے۔

یہاں آپ کو ایک اور آنکھوں دیکھا حال سناتی ہوں۔ چھٹی کے روز فیملی کے ساتھ جلو جانے کا پلان بنایا،کرکٹ کھیلی ،خوب ہلہ گلہ کیا۔جب کچھ کھانے کے لیئے کیفے ٹیریا پہنچے تو وہی روایتی بن بلائے مہمان بہنچ گئے۔میں بلیوں یا مکھیوں کی بات نہیں کر رہی یہاں بات ہو رہی ہے ہمارے قومی گداگروں کی مگر ایک عجیب ہی مذاق چل پڑا۔ ابھی ایک کو پیسے دے کے جان چھڑائی ہی تھی کہ وہاں موجود تمام گدا گر باری باری اپنا حصہ لینے پہنچ گئے خیر جتنا اگنور کر سکتے تھے کیا،کچھ دیر بعد وہاں سے کچھ مار پٹائی اور بچے کے رونے کی آوازوں نے وہاں موجود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔پتا چلا کہ بھکاری بچے نے اپنے حاصل ہوئے پیسوں سے کچھ  خرید کرکھا لیا جس کی وجہ سے اس کی ماں اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی۔ میں نے اپنی بہن کے کہنے پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ہیلپ لائن پر کال کی اور اس بچے کی ماں کے خلاف شکایت درج کرائی۔ چائلڈ پروٹیکشن کی ٹیم بروقت پہنچی اور بچے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ میں ابھی گھر پہنچی ہی تھی کہ مجھے ادارے کی طرف سے فون آیا کہ اس بچے کا باپ پچیس ہزار روپے جرمانہ ادا کر کے بچے کو واپس اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ کال پر آفیسر نے مجھے یہ بھی بتایا کہ دوران تفتیش بچے نے بتایا ہے کہ وہ اور اس کے تین بہن بھائی تین تین گھنٹے کی شفٹس میں کام کرتے ہیں اور یہ ایک ایک شفٹ میں پانچ سے سات ہراز روپے کما لیتے ہیں۔یہ میرے لیئے بہت حیرت کی بات تھی کہ صرف تین گھنٹے میں کوئی پانچ سے سات ہزار روپے کیسے کما لیتا ۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے افسر نے مجھے بتایا کہ ان کو روزانہ کی بنیاد پر ایسی کالز آتی ہیں مگر ادارہ بے بس ہو جاتا ہے جب بغیر کسی سزا کے جرمانہ کی بنیاد پر ان بچوں کو اسی تاریکی میں واپس بھیجنا پڑتا ہے۔ اب یہاں سرکاری ادارے کمزور ہیں یا یہ مافیا زیادہ طاقتور ہے اس کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

 اس واقعہ کے بعد ایک بات تو واضح ہے کہ گداگری ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے گداگری کے اس پیشے میں اکثریت بچوّں کی ہے جن میں نومولود بچے بھی شامل ہیں جن کو اکژ بھکاری عورتیں گود میں اٹھا کر سگنلز پر بھیک مانگ رہی ہوتی ہیں۔

 اگر دیکھا جائے تو ان بھکاریوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے بھی ہم لوگ ہی ہیں، اگر لوگ ان کو دینا چھوڑ دیں اور حوصلہ شکنی کریں تو یہ محنت کر کے ہی کھانے کمانے پہ اکتفا کریں گے۔ اگر حکومت کوئی مناسب اقدامات نہیں کرسکتی تو عام لوگوں کو چاہیئے کہ ان گدا گروں کی صداؤں پہ کان نا دھریں اور اس پیشے کی جتنی ممکن ہو مذمت کریں اور خاص طور پر بچوں کو تو کبھی بھی مت دیں کیونکہ یہ بچے بھیک کے نہیں کتابوں کے مستحق ہیں۔

  

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ