سعودی عرب میں بغاوت پھیلنے ،ولی عہد محمد بن سلمان پرحملے اور بغاوت کی وجہ سے طواف بند کرنے کی خبروں میں کتنی صداقت ہے؟حقیقت سامنے آ گئی

سعودی عرب میں بغاوت پھیلنے ،ولی عہد محمد بن سلمان پرحملے اور بغاوت کی وجہ سے ...
سعودی عرب میں بغاوت پھیلنے ،ولی عہد محمد بن سلمان پرحملے اور بغاوت کی وجہ سے طواف بند کرنے کی خبروں میں کتنی صداقت ہے؟حقیقت سامنے آ گئی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب میں بغاوت پھیلنے کی خبریں چند روز سےمیڈیامیں گردش کررہی ہیں،خانہ کعبہ میں دو روز کےلئےطواف بند کرنے کی بنیادی وجہ بھی’’مبینہ بغاوت‘‘کوقراردیاجارہاہےجبکہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی علالت اورولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان پرحملےاورزخمی ہونے کی خبروں پر مسلم اُمہ میں پھیلے ہوئےاضطراب پرسعودی عرب کے ایک روزہ دورے پر واپسی کے بعد سعودی امور کے ماہر اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محمود اشرفی نے وہاں کے حالات کی ایسی اصل حقیقیت بیان کر دی ہےجسے جان کر افواہ سازوں اور بے بنیاد پراپیگنڈا کرنے والوں کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ مسلمانوں کے چہرے بھی خوشی سے کھل اٹھیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ شب سعودی عرب کے ایک روزہ دورے اور اہم سعودی شیوخ، اور حکومتی زعماء سے ملنے کے بعد پاکستان واپسی پر علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں سعودی عرب کے حالات اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی افواہوں کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ چند روز سے مملکت حرمین کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں،پہلے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبد العزیز اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ،جب اس افواہ کو پذیرائی نہ ملی تو یہ افواہ پھیلائی گئی کہ وہ بہت شدید بیمار اور آئی سی یو میں داخل ہیں ،پھر اُن کی ایک ویڈیو اور تصویر سامنے آئی جس میں وہ سفراء سے حلف لے رہے ہیں تو پھر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ولی عہد  محمد بن سلمان پر حملہ ہوا ہے اور  وہ زخمی ہیں ، جب اس کو بھی پذیرائی نہ ملی تو کہا گیا کہ وہ کرونا کے مرض کا شکار ہیں جب یہ بھی بات نہ چلی تو پھر کہا گیا کہ سعودی عرب کے حالات بہت خراب ہیں اور وہاں پر بغاوت ہو گئی ہے اور سعودی عرب کے وزیر داخلہ ،ان کے والد ،چچا اور خاندان کے دیگر افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ رات یہ افواہ بھی غلط ثابت ہو گئی اور سعودی عرب کےوزیر خارجہ امیر عبد العزیز بن سعود ہمیں تبوک میں اپنی فورسز کے ساتھ دورے پر نظر آئے ۔مختلف افواہیں پھیلائی گئی حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ بیت اللہ کی جو تطہیر اور کرونا وائرس کے حوالے سے مختلف حفاظتی اقدامات کو بغاوت سے جوڑا گیا حالانکہ صورت حال کو سعودی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے حقائق کے مطابق دیکھیں تو  کرونا وائرس کو ایک پلاننگ کے تحت اور منظم انداز میں سعودی عرب میں پھیلانے کی کوشش کی گئی ،اس سازش کی جب سعودی حکام کو معلومات ملیں تو اس کے نتیجے میں سعودی حکومت نےفوری طور پر حجاج ،زائرین اور معتمرین کی سہولت اور صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ اقدامات اٹھائے جن میں معتمرین کو کہا گیا کہ وہ مت آئیں حتیٰ کہ جو سعودی شہریوں سے بھی کہا گیا کہ وہ عمرہ نہ کریں ،تسلسل سے خود خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز ،ولی عہد محمد بن سلمان اور ریاست حرمین الشریفین کے سربراہ امام عبد الرحمان السدیس خود اس سارے عمل کی نگرانی اور سرپرستی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مطاف کو تھوڑی دیر کے لئے بند کیا جاتا ہے اس میں سپرے اور حفاظتی ویکسئن کا استعمال کیا جا رہا ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے، جو کچھ پھیلایا جا رہا ہے دراصل  وہ ایک منظم منصوبہ ہےجس کا مقصد سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنا ہے ،سعودی عرب کے اندر بھی وہ حالات پیدا کرنا ہیں جو شام،عراق ، یمن،لیبیا  میں ہیں،ان افواہوں کا مقصد بھی اسلامی دنیا میں غیر یقینی کی کیفیت اور مسلمانوں میں اضطراب پیدا کرنا ہے ،سعودی عرب کے حالات بالکل ٹھیک اور نارمل ہیں، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز  کی قیادت میں سعودی  حکومت بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے،سعودی نوجوانوں کے ہیرو کے طور پر محمد بن سلمان کو دیکھا جا رہا ہے،نناوے فیصد سے بھی زیادہ سعودی عوام اپنی حکومت کے ساتھ ہے اورعلماء بھی اُن کے ساتھ ہیں ۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اگر خدانخواستہ وہاں پر کوئی ایسا کام ہو کہ جو عوام اور وہاں کے علماء کو پسند نہ ہو اس پر بات نہیں ہوتی،اُس پر بھی بات ہوتی ہے، جن لوگوں کو سعودی عرب کی تاریخ معلوم نہیں اور حقائق سے ناواقف ہیں ،وہ اس طرح کی باتیں کر رہیں کہ جن کو سن کر ہنسی آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقت حال میں اختلافات ہوتے ہیں جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن کوئی ایسا اختلاف جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے اندر بغاوت ہو جائے جس میں قتل و قتال ہو ،جس میں بڑے پیمانے پر کوئی اضطراب پیدا ہو جائے ؟ایسی کوئی صورتحال سعودی عرب  میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج شام تک بہت سی چیزیں واضح اور کلیئر ہو گئی ہیں کہ سعودی عرب ،وہاں کے نظام،وہاں کی حکومت ،خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں تسلسل کے ساتھ نظام حکومت چلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حرمین الشریفین سے مسلمانوں کی محبت کی کوئی مثال ہی نہیں مل سکتی ،الحمد اللہ سعودی عرب میں ہونے والے اقدامات کرونا وائرس کے حوالے سے حفاظتی اقدامات ہیں،سعودی حکومت  اس لئے بھی یہ حفاظتی اقدامات اٹھا رہی ہے کیونکہ رمضان کی آمد آمد ہے،پھر حج ہے ،اس لئے اس سے پہلے پہلے اس وباء کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور خدانخواستہ یہ وباء ان مقدس شہروں میں زائرین اور حجاج کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ اپنے غصے اورخواہشات کو خبر بنانے والے یہ بات یاد رکھیں کہ ارضِ حرمین  الشریفین کی سلامتی ،استحکام اور دفاع ہر مسلمان کی آرزو ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان اس کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے،سعودی عرب میں ایساکوئی سلسلہ نہیں ہےکہ جسکی وجہ سے امتِ مسلمہ اس  اضطراب میں آئے کہ خدانخواستہ وہاں پر کوئی بے اطمنانی ،بد امنی اور عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے؟وہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ،سعودی عرب کی عوام کا اپنی قیادت پر اور قیادت کا اپنی عوام پر اعتماد اور محبت کا رشتہ ہے جو قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا ۔

مزید : قومی /عرب دنیا