سیاست کا ابھرتا ہوا نام چودھری حسین الہٰی ، لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردینے والی شخصیت کا تفصیلی انٹرویو

سیاست کا ابھرتا ہوا نام چودھری حسین الہٰی ، لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا ...
سیاست کا ابھرتا ہوا نام چودھری حسین الہٰی ، لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردینے والی شخصیت کا تفصیلی انٹرویو

  



پاکستان کی سیاست میں چودھری ظہور الٰہی شہید کی خاندانی روایات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ چودھری ظہور الٰہی نے سیاست میں جو اخلاقیات متعارف کروائیں، آج اس خاندان کی تیسری نسل بھی من و عن اس پر عمل کرتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور فلاح و بہبود پر عمل پیرا ہے۔چودھری حسین الٰہی اپنے والد محترم چودھری وجاہت حسین اور دادا چودھری ظہور الٰہی کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے حلقے کے عوام کی جس انداز میں خدمت کر رہے ہیں، نفسانفسی کے اس دور میں اس کی مثال ملنا مشکل ہی نہیں، بلکہ نا ممکن ہے۔ اس خاندان نے گزشتہ نصف صدی سے پاکستان میں ہمیشہ دائیں بازو کی سیاست کی اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے، انہیں چند لفظوں میں سمونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس خاندان نے ہر دور میں کلمہ  حق کہا، یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، یہاں تک کہ ان کے مخالفین بھی، انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آج جب سابقہ ادوار میں ہونے والی کرپشن اور اقربا پروری کے چرچے زبان زد عام ہیں، ایسے میں بھی چودھری برادران کا دامن صاف و شفاف ہے، اس خاندان کے دورِ حکومت 2002ءسے 2007ءتک ملک بھر میں جو ترقیاتی کام ہوئے، ملک اور قوم کی بھلائی کے لئے جو اقدامات کئے گئے،وہ اندھیرے میں روشنی کی مانند دکھائی دیتے ہیں،ان کے وہ سیاسی مخالفین جو 2013ءسے2018ءتک ملک کے حکمران رہے، وہ بھی تمام تر ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود، ان کے کردار پر انگلی نہ اُٹھاسکے۔

چودھری ظہور الٰہی کے خاندان نے خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنے اپنے دورِ حکمرانی میں عوامی خدمت کی جو مثالیں قائم کیں، یہ اسی کا ثمر ہے کہ آج ان کے خاندان کی تیسری نسل سیاست کے میدان میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ چودھری وجاہت حسین کے صاحبزادے چودھری حسین الٰہی 2018ءکے انتخابات میں اپنے آبائی حلقے سے بھاری اکثریت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔چودھری حسین الٰہی نے نہ صرف اپنی سیٹ جیتی ،بلکہ قومی اسمبلی کے حلقے کے نیچے صوبائی اسمبلی کی دونوں سیٹوں پر بھی انہی کے نامزد کئے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ 2018ءکے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان بھر میں صرف دو حلقے ایسے ہیں، جس میں قومی اور اس کے نیچے صوبائی کی دونوں سیٹوں پر پاکستان مسلم لیگ(ق) کے دونوں امیدوار بھاری اکثریت سے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ بالخصوص ایسے حالات میں، جبکہ اُنہیں ہرانے کے لئے ان کے سیاسی مخالفین نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ ان دو حلقوں میں سے ایک چودھری حسین الٰہی اور دوسرا طارق بشیر چیمہ کا ہے۔ طارق بشیر چیمہ نے جس بہادری اور دلیری سے سیاست کے میدان میں اپنے مخالفوں کی نیندیں حرام کیں، وہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے۔

چودھری حسین الٰہی جب ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو ان کی عمر اس وقت صرف 25 سال تھی، اتنی چھوٹی عمر میں انتخابات میں حصہ لینا اور اپنے حلقے سے بھاری اکثریت سے صرف خود ہی نہیں، بلکہ اپنے حلقے کے نیچے صوبائی کی دونوں نشستیں بھی جیتنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ چودھری حسین الٰہی عزم و ہمت کے پیکر، بلند حوصلہ اور جرات مند شخصیت کے مالک ہیں، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور امریکہ کی بہترین یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، چودھری حسین الٰہی کا کہنا ہے کہ ”2013ءکی انتخابی مہم میں“ مَیں نے پہلی دفعہ باقاعدہ حصہ لیا، اس وقت میری عمر صرف 20 سال تھی، اس وقت مَیں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلا الیکشن اس حلقے میں مَیں خود لڑوں گا۔ میرا سیاست میں آنے کا ارادہ تو تھا، لیکن اتنی جلدی آ جاﺅں گا، اس طرف ابھی دھیان نہیں گیا تھا“۔

چودھری حسین الٰہی ایک قابل نوجوان ہیں، ہر موضوع پر وہ کھل کر گفتگو کرتے ہیں اور مخاطب کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک کامیاب نوجوان میں ہونی چاہئیں،ایسی ہی خوبیوں کے مالک گوجرانوالہ کی نوجوان شخصیت ڈاکٹر زین علی بھٹی بھی ہیں، 2015ءمیں ان کا انٹرویو کیا اور ان کے خیالات جان کر بخوبی اندازہ ہوتا تھا کہ اس نوجوان کو اگر کوئی صحیح پلیٹ فارم میسر آ گیا تو یہ سیاسی میدان میں بہت آگے جائے گا۔ ڈاکٹر زین علی بھٹی ان دِنوں پاکستان مسلم لیگ(ق) کے پلیٹ فارم سے ہی اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کئے ہوئے ہیں اور بطور پارٹی ترجمان پنجاب خدمات انجام دے رہے ہیں، اسی طرح چودھری انصر اقبال بریار ہیں، انصر اقبال 2002ءکے انتخابات میں ڈسکہ سے مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی طبیعت کے مالک ہیں، ان کے بڑے بھائی چودھری محمد سلیم بریار آج کل پاکستان مسلم لیگ(ق) پنجاب کے سینئر نائب صدر ہیں۔ چودھری حسین الٰہی کو چاہئے کہ وہ ایسے نوجوانوں کی ایک ٹیم بنائیں اور بھرپور انداز میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو بھی چاہئے کہ جس طرح انہوں نے 2013ءکے بعد نوجوانوں کو تحریک انصاف کی سرگرمیوں کا محور بنایا تھا، لیکن اب شائد ملکی مصروفیات کے باعث، وہ اس طرف توجہ نہیں دے پا رہے، انہیں چاہئے کہ چودھری حسین الٰہی جیسی سوچ اور جذبوں کے مالک نوجوانوں سے کام لیں، ایسے ہی نوجوانوں کے متعلق بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ ”نوجوان قومی چمن کے سدا بہار پھول ہیں“ لہٰذا اس چمن کو خوشبوﺅں سے مہکانے کے لئے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چودھری حسین الٰہی میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں،جو ایک کامیاب سیاست دان میں ہونی چاہئیں اور کیوں نہ ہوں آخر کہ سیاست کی ابجد سے ، وہ اس دور میں متعارف ہوئے جب ابھی انہوں نے چلنا اور بولنا سیکھا ہی تھا۔ چودھری حسین الٰہی سے گزشتہ دِنوں ان کی رہائش گاہ گلبرگ میں ایک طویل نشست ہوئی، اس موقع پر چودھری حسین الٰہی کے بہنوئی علی ساجدچٹھہ بھی موجود تھے۔ علی ساجد چٹھہ بھی اپنی سحر انگیز شخصیت اور اعلیٰ تعلیمی ذوق کے باعث مدمقابل کو اپنے لفظوں کے جال میں اسیر کرنے کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔ اس موقع پر چودھری حسین الٰہی کا تفصیلی انٹرویو کیا گیا، جس کی روداد نذرِ قارئین ہے:۔

س:اپنی ابتدائی زندگی کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ج: گریڈ بارہ تک کی تعلیم مَیں نے امریکن سکول لاہور سے حاصل کی، بی اے پولیٹیکل سائنس میں کیا پھر ڈگری تک کی تعلیم انٹرنیشنل ریلیشنز میں نارتھ ایسٹرن (Northeastern) یونیورسٹی بوسٹن امریکہ سے حاصل کی۔امریکہ میں ابھی تعلیم حاصل کر ہی رہا تھا کہ 2013ءکا الیکشن آ گیا،مَیں نے اس الیکشن میں باقاعدہ طور پر پہلی بار دلچسپی لی اور حلقے کے عوام سے متعارف ہوا، اس وقت میری عمر صرف 20 سال تھی، 2013ءکے بعد سے مَیں حلقے کے عوام سے مسلسل رابطے میں رہا، اسی دوران تعلیم مکمل کرنے امریکہ چلا گیا، 2016ءمیں بلدیاتی الیکشن ہوا، بلدیاتی الیکشن میں، ہم نے اپنے علاقے میں واضح اکثریت حاصل کی، بالخصوص میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن میں ہمارا پینل کامیاب ہوا، ہاشم خان میئر اور حاجی ریاض ڈپٹی میئر منتخب ہوئے، یہ وہ دور تھا، جب پنجاب میں ہمارے سیاسی مخالفین کا طوطی بولتا تھا اور انہیں بلدیاتی انتخابات میں شکست دینا ممکن ہی نہیں تھا، لیکن یہ ہماری اپنے حلقے کے عوام سے محبت اور ان کا ہم سے پیار اور خلوص کا جو رشتہ تھا، یہ سب اسی کا نتیجہ تھا۔ اس شاندار کامیابی پر ہم اپنے حلقے کے عوام کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ ہمیں عزت دی اور پھر 2018ءکے انتخابات میں مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا۔

س:آپ نے تو انتخابات میں پی ٹی آئی کے اتحادی کے طور پر حصہ لیا؟

ج: جی ہاں! حصہ تو ہم نے پی ٹی آئی کے اتحادی کے طور پر لیا تھا، لیکن یہ حلقہ میرے والد محترم کا آبائی حلقہ تھا، جہاں سے میرے والد محترم چودھری وجاہت حسین تین مرتبہ بھاری اکثریت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے تھے۔

س:آپ نے تو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انتخابات میں حصہ لیا ہوگا؟

ج:انتخابات میں حصہ لینے کی میری خواہش تو تھی،مَیں اس حوالے سوچا بھی کرتا تھا، لیکن 2018ءکے انتخابات میں باقاعدہ سوچ سمجھ کر حصہ نہیں لیا تھا، بلکہ اچانک پروگرام بنا کہ اس حلقے این اے 68 سے مَیں نے الیکشن لڑنا ہے،مَیں اس وقت ذہنی طور پر بالکل تیار نہیں تھا، میری عمر بھی کم تھی، تجربہ بھی نہیں تھا کہ براہِ راست ایم این اے کا الیکشن لڑتا، لیکن اللہ تعالیٰ اور اپنے حلقے کے عوام کا شکر گزار ہوں،جنہوں نے مجھے ان حالات میں بھی بھاری اکثریت سے جتوایا، جبکہ مخالفین ہمیں ہرانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کئے ہوئے تھے۔

س:سیاست میں آکر کیا محسوس کیا؟

ج:موجودہ دور میں حالات بہت مشکل ہیں، عوامی خدمت کا جو جذبہ تھا، وہ خاندان کی طرف سے وراثت میں ملا تھا، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت اور محبت یہ تو ہماری خاندانی تربیت کا حصہ تھا۔مَیں جن حالات میں اپنے حلقے سے کامیاب ہوا، اس سے قبل ہمارے سیاسی مخالفین نے پانچ نہیں،بلکہ10سال تک پنجاب میں حکومت کی تھی،انہوں نے ہمارے علاقے ضلع گجرات میں ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ نہیں دی تھی، جس سے میرا حلقہ زمانہ ءقدیم کا منظر پیش کرتا تھا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، سرکاری تعلیمی ادارے پسماندگی کا شاہکار تھے اور سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا تو اللہ ہی حافظ تھا، بہرحال ایک عزم اور ولولے کے ساتھ اپنے حلقے کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دی۔ تعلیمی اداروں اور بنیادی مراکز صحت کی بحالی اولین ترجیحات تھیں۔ مَیںنے اپنے حلقے میں ہیلتھ اور ایجوکیشن کو فوکس کیا،ان دونوں محکموں میں جو کمیاں کوتاہیاں تھیں، اُنہیں دور کرنے کی طرف توجہ مبذول کی۔ مختلف سرکاری تعلیمی اداروں، ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں کا دورہ کیا، وہاں کے مسائل کا جائزہ لیا، حلقے میں تعمیر و ترقی کے منصوبے ترجیہی بنیادوں پر مکمل کرنے کے اقدامات کئے، ان پر ان حالات میں عمل ہو رہا ہے،جس وقت ملکی حالات بہت خراب ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو جن حالات میں حکومت ملی،اس وقت ملک میں معاشی بد حالی عروج کو پہنچ چکی تھی، لیکن پھر بھی ہم نے ہمت نہیں ہاری،مَیں نے بالخصوص اپنے حلقے میں پولیس اصلاحات کی طرف ذاتی توجہ دی، سب سے پہلے پولیس کو سیاسی دباﺅ سے آزاد کیا، اور اپنے ووٹروں، سپورٹروں کو ہدایت کی کہ کسی بھی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، آپس کے اختلافات بڑھ جائیں تو انہیں آپس میں راضی نامے سے حل کر لیں،بات کو اس حد تک نہ بڑھائیں کہ تھانہ کچہری میں جانا پڑے، تھانہ کی سطح پر کام کو سو فیصد میرٹ پر کرنے کے لئے اقدامات کئے۔ سیاسی مخالفین کو پولیس کے ذریعے مرعوب کرنے کی روایت ختم کی، میرا پورا حلقہ میری فیملی کی طرح ہے، گھر میں اگر اختلاف ہو تو اسے گھر میں ہی آپس میں مل بیٹھ کر حل کیا جاتا ہے۔ گھر کے معاملات چوک چوراہوں میں حل نہیں کئے جاتے۔ ایسے ہی جذبات میرے اپنے حلقے کے عوام کے لئے ہیں، مَیں سمجھتا ہوں کہ مجھ پر گھر والوں سے زیادہ، حلقے کے عوام کا حق ہے کہ جس حد تک بھی ممکن ہو، ان کی خدمت اور مسائل حل کروں۔ مَیں نے اپنے حلقے میں جرائم کے خاتمے کے لئے پولیس کو فری ہینڈ دیا،مَیں سمجھتا ہوں کہ پولیس سیاسی دباﺅ سے آزاد ہو کر کام کرے گی تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوںگے۔ مَیں اپنے سیاسی مخالفین کا زیادہ احترام کرتا ہوں، کیونکہ ان کے دِلوں کی نفرت کو، میں اپنی محبت سے ختم کرنے کا خواہشمند ہوں،مَیں اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہو رہا ہوں۔

س:حلقے کے مسائل کے حوالے سے کچھ بتائیں کہ انہیں حل کرنے کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

ج:اپنے حلقے میں سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر سے قبل وہاں سیوریج اور پانی کے نکاس کی طرف زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہوں۔ پانی کا نکاس بہتر ہوگا تو سڑکیں اور گلیاں بھی بہتر ہو جائیں گی، لیکن پانی کا صحیح نکاسی نہیں ہوگا تو بہترین گلیاں سڑکیں بھی رفتہ رفتہ ٹوٹ پھوٹ جائیں گی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ گلیوں سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ان کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے فنڈز اسی وقت مختص کرنے چاہئےں،جس وقت یہ منصوبہ آپ شروع کرتے ہیں۔ ہم جلد بازی میں دکھاوے کے لئے سڑکیں اور گلیاں تعمیر تو کروا دیتے ہیں لیکن چھ ماہ، سال بعد ہی وہ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جس کے باعث اگلے سال پھر ترقیاتی کاموں کا ایک بڑا حصہ اِن کی تعمیر و مرمت پر لگتا ہے۔ لہٰذا ایک بار ہی منصوبہ بندی کے تحت ترقیاتی کام کروائے جائیں تاکہ اس کے بہتر اور دیرپا نتائج برآمد ہوں۔

2002ءمیں جب پاکستان میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت تھی، چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب تھے ، اس دور میں پنجاب سمیت پورے ملک میں جو ترقیاتی کام ہوئے،ہمارے مخالفین نہ چاہنے کے باوجود بھی انہیں جاری رکھنے پر مجبور ہو گئے۔ ریسکیو 1122، سٹی ٹریفک پولیس، محفوظ پنجاب کے حوالے سے ہائی وے پٹرولنگ پولیس اور اس طرح کے سینکڑوں اقدامات ہیں، جن کی بدولت ملک ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہوا، ہمارے دور میں گجرات یونیورسٹی بنی جو تعلیم کے شعبے میں ایک بڑا منصوبہ ہے، یہ پنجاب کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی میں دور دراز کے دیہات سے طلبہ کو لانے لیجانے کے لئے خصوصی بسیں چلائی گئی ہیں، بالخصوص طالبات کے لئے علیحدہ سے بسیںچلائی گئی ہیں جو گوجرانوالہ تک اور قریب ترین دیہات اور شہروں سے طالبات کو لے کر بروقت یونیورسٹی انہیں پہنچاتی اور چھٹی کے وقت انہیں، اُن کے گھروںکے قریب چھوڑتی ہیں۔

س: آپ پی ٹی آئی کے اتحادی ہیں، ملکی حالات بجائے بہتر ہونے کے خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں، اس سے آپ کی جماعت پر حرف تو آ رہا ہے؟ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟

ج: ہاشمی صاحب! آپ نے بہت اچھا سوال کیا، بات یہ ہے کہ جن حالات میں پی ٹی آئی کو حکومت ملی،اس وقت ملک صحیح معنوں میں کنگال ہو چکا تھا،ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، تمام ادارے تباہی کے دہانے پر تھے، بات دراصل یہ ہے کہ سابق حکومت جو ہماری مخالف تھی،اس کو یقین ہو چکا تھا کہ وہ اگلا الیکشن کسی صورت جیت نہیں سکے گی، لہٰذ اس نے بے دردی سے ملک کو تباہ کیا،جب آپ کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہو تو آپ کیا کریں گے،اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ملک بتدریج بہت تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے، ترقی اور خوشحالی کے راستے میں ہمیشہ رکاوٹیں آتی ہیںجو قومیں، یہ رکاوٹیں عبور کر لیتی ہیں تو پھر خوشحالی ان کا مقدربنتی ہے۔اِن شاءاللہ جلد وہ وقت آئے گا۔

س: ملک میں صنعتیں اور کارخانے بند پڑے ہیں، بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہیں،ایسے میں بہتری کے آثار دکھائی دیں گے؟

ج: صنعتیں اور کارخانے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بند کئے گئے ہیں، لوگوں کو روزگار سے جان بوجھ کر نکالا جا رہا ہے، ملک میں ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں، جو وقتی ہیں، اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

س:ٹیکس اصلاحات، ٹیکس ریٹرن،ایف بی آر میںاصلاحات وغیرہ، دعوے تو بہت کئے گئے، مگر بظاہر تو کچھ دکھائی نہیں دے رہا؟

ج: اصل میں کچھ سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس سے پہلے ملکی معیشت کو بہتر کیا جا رہا ہے،ایف بی آر میں بھی جلد اصلاحات نظر آئیں گی، دیکھیں ملک پر قرضوں کا جو بوجھ ہے اس سے چھٹکارہ پانے کے لئے سخت فیصلے نہ کئے گئے تو پھر تباہی اس سے زیادہ آئے گی، بہت سے کام ہو رہے ہیں،ابھی یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کی گئی، ایک بڑی تعداد میں غریب لوگوں کو انصاف صحت کارڈ فراہم کئے گئے،غریبوں کی فلاح کے لئے احساس اور نوجوانوں کے لئے کفالت پروگرام شروع کئے گئے،سستے گھروں کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں،بہت سے منصوبے ہیں، یہ راتوں رات تو مکمل نہیں ہونے تھے،لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ عوام کی فلاح و بہبود کے اور بھی بہت سے کام کئے جا سکتے ہیں، موجود حکومت سے عوام کی جو توقعات ہیں وہ ہر صورت میں پوری ہوں گی۔

س: کیا آپ اسمبلی فلور پر ہونے والے اجلاسوں سے مطمئن ہیں؟

ج: بڑا مشکل سوال کر دیا، سچ پوچھیں تو اسمبلی فلور پر جو کام ہونا چاہئے،اپوزیشن بُرے طریقے سے تحریک انصاف کی حکومت کو اس سے روک رہی ہے، اجلاس بلایا کسی مقصد کے لئے جاتا ہے، وہاں اپوزیشن گفتگو کوئی اور شروع کر دیتی ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ اسمبلی فلور پر صرف عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے قوانین اور پالیسیاں بننی چاہئیں، ان پر بحث ہونی چاہئے، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو ایمانداری کے ساتھ اس میں حصہ لینا چاہئے، اس حوالے سے تجاویز آنی چاہئیں اور جو بہتر تجاویز ہوں ان پر عمل بھی ہونا چاہئے۔مَیں سمجھتا ہوں ایف بی آر اور ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے اسمبلی فلور پر تفصیلی بحث ہونی چاہئے، یہ ملک ہم سب کا ہے، اپوزیشن کو چاہئے ملکی فلاح و بہبود کے کاموںمیں وہ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قانون سازی کے عمل میں حصہ لے، ممبرانِ اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں میں ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لئے باقاعدہ ٹارگٹ دیئے جائیں، حکومتی اور اپوزیشن اراکین اپنے اپنے حلقوں سے مختلف مدوں میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کریں جس طرح نادرا کی گاڑیاں شہر شہر اور گاﺅں گاﺅں جا کر لوگوں کے شناختی کارڈ بناتی ہیں، اس طرح ایف بی آر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی کے حلقوںمیں ٹیکس وصولی کے جو ٹارگٹ دیئے جائیں، وہاں جاکر وہ ٹارگٹ حاصل کریں تاکہ ملک بہتری اور خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔

س: آپ کو اگر اپنے حلقے سے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا جائے تو اسے کیسے پورا کریںگے؟

ج: اگر میرے حلقے میں آج ایک فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں تو مَیں ایک سال میں اسے 10فیصد تک، اسی طرح آئندہ چند برسوں میں بتدریج اس میں اضافہ کروںگا۔بات دراصل یہ ہے کہ ہم ٹیکس وصول کرنے کے لئے تھانیدار کا کردار تو ادا کرتے ہیں، لیکن ٹیکس دینے والوں کو جو مراعات ملنی چاہئیں اس کی بات نہیں کرتے، جو آج ٹیکس دے رہا ہے، ہمارا سسٹم ایسا ہے کہ اسی کو مزید نچوڑا جا رہا ہے ،جب حالات بد سے بد تر ہو رہے ہوں تو لوگوں کو باعزت طریقے سے پہلے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، انہیں مراعات دی جائےں اور پھر بتدریج ان پر ٹیکس بڑھایا جائے، اس کے مطابق انہیں مراعات بھی دی جائیں، ٹیکس دینے والوں کو عزت و احترام دیا جائے گا تو وہ خوش دلی سے ٹیکس دیں گے،اس کے بعد ہی ملک خوشحالی سے ہمکنار ہو گا،اسی طرح نئے کاروبار کے ساتھ ساتھ سمال بزنس کرنے والی ان کاروباری شخصیات کو بلا سود قرضے دیئے جائیں،جنہیں اپنے کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور یونین کونسل کی سطح تک کے حلقوں کو فوکس کیا جائے، کیونکہ کاروبار میں نقصان اٹھانے والے فائدہ حاصل کریں گے تو بہتر طریقے سے ٹیکس دیں گے، چھوٹی کاروباری شخصیات خوشحال ہوں گی تو اس کے ثمرات ملک بھر میں دکھائی دیں گے۔

 

مزید : بلاگ /علاقائی /پنجاب /لاہور