گردوں کے ا مراض …… بچاؤکیلئے کیا کریں؟

گردوں کے ا مراض …… بچاؤکیلئے کیا کریں؟
گردوں کے ا مراض …… بچاؤکیلئے کیا کریں؟

  

گردوں کا انسانی جسم میں کیا کردار ہے اور یہ کس طرح متاثر ہوتے ہیں، ان کی بیماریوں کی وجوہات کیا ہیں۔ آج ہم اس پر بات کریں گے۔ چونکہ میرا اپنا تعلق میڈیکل فیلڈ سے ہے اور میں خود ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہوں تو سوچا اپنے قارئین کی توجہ وقت کے سب سے اہم مسئلے پر مبذول کراؤں۔ آج کل پاکستان میں گردوں کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں، مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15سے 20فیصد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ میری شیخ زید ہسپتال کے پروفیسر ڈ اکٹر وقار احمد سے بہت تفصیلی گفتگو ہوئی۔ گردے انسانی جسم کا اہم عضو ہیں۔جو جسم سے غیر ضروری فاسد مادوں کو پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں اور نمکیات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ خون سے فالتو پانی نکالتے ہیں۔

روزانہ تقریبا 200لٹر خون کو فلٹر کرتے ہیں۔ خون میں سرخ خلیے پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ خون کی ویلیو کو برقرار رکھتے ہیں۔ گردوں کے خراب ہونے کی وجوہات میں شوگر، بلڈ پریشر، پیشاب میں پروٹین کا آنا، آلودہ پانی اور کم پانی کا استعمال، ناقص اور زیادہ مرغن غذائیں، ورزش نہ کرنا، ماحولیاتی آلودگی، فصلوں پر کھادیں اور کیمیاوی ادویات کا استعمال، گردوں کے ٹیسٹ نہ کروانا شامل ہیں جبکہ آنکھوں کے نیچے اور پاؤں پر سوجن کا ہونا، کمزوری کا محسوس کرنا اور جسم کا درد ہونا، متلی کا احساس ہونا اور الٹی کا آنا، سانس کا پھولنا اور رات کو سوتے ہوئے گھبراہٹ سے آنکھ کا کھلنا گردوں کے مرض میں مبتلا ہونے کی علامات ہوسکتی ہیں۔

دنیا میں ہر سال 50 ہزار سے زائد افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو کر اس دنیا فانی سے کوچ کرجاتے ہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ گردہ عطیہ کرنے والوں کی کمی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد گردے کے امراض کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن یہ ایک ایسی بیماری ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق گردوں کے امراض سے بچنے کے لیے پانی کا زائد استعمال، سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ضروری ہے۔جب گردے اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام نہیں دے پاتے تو اس کے نتیجے میں زہریلا مواد جسم سے پیشاب کے راستے خارج نہیں ہوپاتا اور خون میں موجود رہتا ہے۔اس مواد کی سطح بڑھنے سے سونا مشکل ہوجاتا ہے اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی طرح گردوں کے مریضوں میں نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل کا عارضہ بھی سامنے آسکتا ہے اور اگر کوئی فرد اچانک خراٹے لینے لگے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔گردوں کی کارکردگی میں کمی آنے سے الیکٹرولائٹ عدم توازن کا شکار ہوجاتے ہیں، مثال کے طور پر کیلشیئم کی سطح میں کمی اور فاسفورس کا کنٹرول سے باہر ہونا مسلز اکڑنے کا باعث بنتے ہیں۔اگر گردے درست کام کررہے ہوں تو وہ جسم میں وٹامن ڈی کو ہڈیوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ ایک ہارمون ای پی او بنانے کا کام بھی کرتے ہیں، یہ ہارمون خون کے سرخ خلیات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اگر گردے مسائل کا شکار ہوں تو ای پی او کی مقدار کم بنتی ہے جس سے خون کے سرخ خلیات میں کمی آتی ہے جو جسم اور دماغ کو اچانک تھکاوٹ، سردرد اور جسمانی کمزوری کا شکار کردیتا ہے۔خیال رہے گردوں کے امراض میں اینیمیا کا مرض عام ہوتا ہے۔ اگر گردوں کو نقصان پہنچے تو جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔ جو دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تیزی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔گردے جس میں جمع ہونے والے فاسد مادے کی صفائی کا کام کرتے ہیں، خون کے سرخ خلیات کی سطح بڑھانے اور جسم میں منرل کی سطح مناسب رکھتے ہیں۔ خشک اور خارش زدہ جلد اس بات کی نشانی ہے کہ گردے منرلز اور غذائی اجزاکا درست توازن نہیں رکھ پارہے۔ اگر آپ کی جلد خشک اور خارش زدہ ہورہی ہے تو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے اور خارش کے لیے کوئی دوا لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے۔

اگر جسم میں کافی مقدار میں فاسد مادے جمع ہوجائیں تو دل متلانے یا قے کا تجربہ اکثر ہونے لگتا ہے، درحقیقت یہ جسم اپنے اندر جمع ہونے والے مواد سے نجات کی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے، دل متلانے کے نتیجے میں کھانے کی خواہش ختم ہونے لگتی ہے، اگر ایسا کچھ عرصے تک ہوتا رہے تو وزن میں بہت تیزی سے کمی آتی ہے۔جب کچرا خون میں جمع ہونے لگتا ہے تو کھانے کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے اور منہ میں دھات یا میٹالک ذائقہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح سانس میں بو پیدا ہونا بھی دوران خون میں بہت زیادہ زہریلا مواد جمع ہونے کی علامت ہے۔ مزید برآں ایسا ہونے پر گوشت کھانے یا کھانے کی ہی خواہش کم یا ختم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں غیرمتوقع کمی آتی ہے۔ ویسے منہ کا ذائقہ بدلنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور عام علاج سے مسئلہ دور ہوجاتا ہے، تاہم اگر یہ علاج کے باوجود برقرار رہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

گردوں کا علاج پاکستان میں بہت مہنگا ہے اور یہ غریب آدمی کے بس میں نہیں کہ وہ اتنا مہنگا علاج برداشت کر سکے اس لئے وہ گردوں کو تکلیف کو ہی برداشت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہیں ہم نے لاہور میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے منسوب ایک ہسپتال بنایا ہے۔ جس کی مین بلڈنگ کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ وہاں او پی ڈی فعال ہے اور اب تک لاکھوں مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں پر بین الاقوامی معیار کا ڈائیلسز سنٹر بھی بنایا گیا ہے جہاں پر روزانہ کی بنیاد پر گردوں کے مریضوں کا ناصرف ڈائیلسز کئے جاتے ہیں بلکہ تمام ٹیسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ مفت ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔11مارچ کو ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال میں گردوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ جس میں ماہر امراض گردہ مرض سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں گے اور مفت لیب ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -