فالج کی وجوہات اور علاج،ڈاکٹر محمد فرید سوری کا لیکچر اور ہمارا لائحہ عمل 

فالج کی وجوہات اور علاج،ڈاکٹر محمد فرید سوری کا لیکچر اور ہمارا لائحہ عمل 
فالج کی وجوہات اور علاج،ڈاکٹر محمد فرید سوری کا لیکچر اور ہمارا لائحہ عمل 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


گزشتہ دنوں ایک قریبی عزیزکو فالج کا اٹیک ہوا اور اس کا دایاں حصہ سن ہوگیا،اس کے بچوں نے اسے شاہدرہ ہسپتال شفٹ کیا، جہاں ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد کے بعد انھیں جنرل ہسپتال شفٹ کرنے کا کہا۔یہ لو گ 1122 کی مدد سے جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی میں ریفر ہوکر آگئے،وہاں ان کا معائنہ کیا گیا اور ان کو 2 روز ایمرجنسی میں رکھ کر میڈیکل وارڈمیں داخل کرلیا گیا، جہاں ان کا مزید علاج جاری ہے اور ان کی صحت بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر ابھی مکمل صحت یابی کی جانب بڑھنے میں انھیں لمبا وقت درکار ہوگا۔……فالج کی بیماری مریض کے لیے زیادہ پریشان کن ہوتی ہے، اس کا سب سے زیادہ اثر اس کی فیملی اور ساتھ رہنے والوں پر پڑتا ہے۔ آپ سوچیں کہ ایک اچھا بھلا چلتا پھرتا انسان اب پانی پینے اور اپنے روزانہ کے معمولات کے لیے بھی کسی شخصی سہارے کا منتظر رہتا ہے کہ کوئی آئے اورا سے کھانا کھلائے، اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے اور اس کے متاثرہ حصوں کی تھراپی کرئے تاکہ اس کو تکلیف کا احساس کم ہوسکے۔


فالج کی بیماری کے آغاز میں وقت کی بڑی اہمیت ہے، اگر آپ کم وقت میں بڑے سرکاری ہسپتال تک پہنچ جائیں تو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تکلیف کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے،اسی حوالے سے آگاہی پر مبنی ایک سیمینار جنرل ہسپتال کی نیوروریڈیالوجی کے زیر اہتمام منعقد ہوا،جس میں بین الاقوامی شہرت کے حامل، ماہر امراض فالج ڈاکٹر محمد فرید سوری نے خصوصی شرکت کی اور سامعین کو فالج کے حوالے سے مفید معلومات، اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ یہ سیمینار ڈاکٹر عمیر رشید کی کاوشوں کا نتیجہ تھا، جس میں پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، امیر الدین، میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر، ڈاکٹر ابوبکر صدیق، پروفیسر انور چودھری، پروفیسر محسن ظہیر،ڈاکٹر حرا جمیل،ڈاکٹر شاہد مختار و دیگر سینئر پروفیسر اور ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اپنی گفتگو میں ڈاکٹر محمد فرید سوری نے کہا کہ فالج (سٹروک) کی بیماری دنیا بھر میں بہت عام ہے جو خون کی شریانیں بند ہونے یا پھٹنے سے ہوتی ہے،اس میں جسم کا کوئی بھی حصّہ اچانک کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس مرض کا تعلق خون کے گاڑھے پَن یا جمنے سے ہے۔ اگر مریض کو فوری طور پر ہسپتال لے جائیں اور طبّی امداد فراہم کردی جائے تو ہلاکت اور معذوری سے محفوظ رہنے کے امکانات خاصے بڑھ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند منٹ مریض کی زندگی بچا سکتے ہیں، کیونکہ فالج کے حملے کے بعد ہر گزرتا سکینڈ بھی نہایت اہم ہوتا ہے،  جوں جوں دماغ کے خلیے (نیوران)ختم ہونے لگتے ہیں، وقت کی اہمیت ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔


 پاکستان جیسے ترقی پذیر اور معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے عوام فالج کے نتیجے میں جسمانی معذوری کے سبب بیروزگاری اور مالی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں، ان کے لئے علاج معالجے کے بھاری اخراجات برداشت کرنا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، جس سے بچاؤ کے لئے لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات کو تبدیل کریں۔ ذہنی آسودگی کے لئے مذہبی فرائض اور اقدار کی مکمل پابندی کریں تاکہ انہیں روحانی سکو ن بھی حاصل ہو جو اس قسم کی بیماری سے بچنے کا موثر طریقہ ہے،جبکہ نمک،سگریٹ نوشی کو ترک کرکے  ورزش کو معمول بنا ئیں تاکہ اس بیماری سے بچا جاسکے۔ ڈاکٹر محمد فرید سوری نے بتایا کہ پاکستان دنیا بَھر میں آبادی کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر ہے، جس کی تقریباً پانچ فی صد آبادی فالج کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمارے یہاں درمیانی عمر کے نوجوانوں، خاص طور پر خواتین میں فالج کی شرح بہت زیادہ ہے،  اگر اب بھی فالج کے بروقت علاج اور بعد ازاں بحالی کے اقدامات پر توجّہ نہ دی گئی، تو خدشہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں فالج زدہ نوجوانوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجائے گا۔ 


اس حوالے سے مزید آگاہی دیتے ہوئے انھوں نے کہا  فالج کی دو بنیادی اقسام Ischemic اور Hemorrhagicہیں۔پہلی قسم میں خون کی نالی میں خون کے گاڑھا ہونے یا جم جانے کی صورت میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اور مطلوبہ مقدار میں دماغ تک خون فراہم نہ ہونے کے سبب جسم کا کوئی بھی حصّہ مفلوج ہوجاتا ہے، جبکہ دوسری قسم میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی شران پھٹ جانے کے نتیجے میں فالج ہوجاتا ہے۔ دنیا بَھر میں فالج کی علامات سے متعلق معلومات عام کرنے کے لیے ایک لفظ”Fast“(فاسٹ) استعمال کیا جاتا ہے،جس میں ایف سے مراد فیس(چہرہ)ہے، کیونکہ اٹیک کی صورت میں اچانک چہرے کی ساخت میں تبدیلی واقع ہونے لگتی ہے یا وہ ایک جانب لٹک جاتا ہے۔ اے سے مراد آرم(بازو) ہے۔ بازو میں کم زوری کا احساس(گویا بالکل طاقت ختم ہوگئی ہو)ہوتا ہے۔ ایس سے مراد اسپیچ(بات چیت)ہے۔ بولنے میں دقّت پیش آنے لگتی ہے۔ الفاظ اور جملوں کی ادائیگی میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ٹی سے مراد ٹائم(وقت)ہے۔ مطلب یہ کہ  فالج کے حملے کے بعد وقت ضائع کیے بغیر فوری طبّی امداد حاصل کریں، کیونکہ اگر وہ وقت گزر گیا، تو پھر دماغ کے نظام میں مستقل خرابی واقع ہوجائے گی، جبکہ محض چند قیمتی منٹ زندگی ہی نہیں، صحت بھی بچا سکتے ہیں۔


ڈاکٹر محمد فرید سوری کے لیکچر کے بعد چیف کنسلٹنٹ نیوروریڈیالوجسٹ جنرل ہسپتال ڈاکٹر عمیر رشید نے کہا کہ برین ہیمبرج کے مریض کو24 گھنٹے کے اندراندراگر ٹریٹ کرلیا جائے تو وہ تیسرے دن عموماً ڈسچارج ہوکرگھر چلا جاتا ہے۔اس پروسیجر پر چار سے دس گیارہ لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں کافی مشکل کاسامنا تھا،لیکن الحمد للہ چند ماہ قبل ہیلتھ کارڈ کی سہولت شروع ہونے سے ہمیں اورمریضوں کوکافی آسانی ہو گئی ہے،اب ہمیں آدھے گھنٹے کے اندر اندر یہ پتہ چل جاتا ہے کہ مریض ہیلتھ کارڈ پر ہے یا نہیں،اگر اس کا صحت کارڈ بنا ہو تو اگلے ہی روز اس کا علاج شروع  ہوجاتا ہے۔ اس طرح ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے غریب مریضوں کے علاج میں بہت زیادہ آسانی ہوگئی ہے حکومت کا یہ ایک بہت اچھّاقدم ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو علاج کے ضمن میں طبی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ……ڈاکٹر محمد فرید سوری کا لیکچر خصوصی نوعیت کا حامل تھا، جس سے میرے جیسے سامع کو بھی اس بیماری اور اس کے علاج کے ضمن میں ایسی باتیں پتہ چلیں جن کا بیان کیا جانا نہایت ضروری ہے۔سب سے اہم بات لفظ فاسٹ کی ہے جس کا مطلب جلد نزدیکی بڑے ہسپتال تک رسائی ہے تاکہ اگر کوئی فالج کا شکار ہوجائے تو اس کو جسمانی معذوری سے بچایا جاسکے۔

مزید :

رائے -کالم -