یومِ خواتین پر ایک ذاتی کالم

  یومِ خواتین پر ایک ذاتی کالم
  یومِ خواتین پر ایک ذاتی کالم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 جمعہ کی صبح پنجاب یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کو چکر دے کر پینتالیس منٹ کی کلاس ڈیڑھ گھنٹے تک کھینچ لینے کا ارادہ تھا ۔ شعبہءصحافت میں پہنچتے ہی البتہ ایک طالبہ نے فرمائش کر دی کہ لیکچر سے پہلے آج یومِ خواتین پر کچھ کہیں۔ ”میرا اختیار چلے تو مَیں ہر روز یومِ خواتین منایا کروں کیونکہ عورتوں کے خلاف نادیدہ امتیازی سلوک کو اِسی طرح روکا جا سکتا ہے۔ ”سر، کوئی مثال؟“ ”بھئی یہی دیکھ لیں کہ آپ کے ہر سمسٹر میں ایک ایک سی آر ہے اور ایک ایک جی آر۔ عملی طور پر اِس کا مطلب کیا نکلا؟ یہی کہ آپ کی منتخب کردہ گرلز ریپری زنٹیٹو محض طالبات کی نمائندگی کرتی ہیں، پوری کلاس کا نمائندہ بننے کا حق مرد طالب علموں تک محدود ہے۔ “ لیکچر ختم ہونے پر دو لڑکوں نے میرے ساتھ تصویر اتروانے کی خواہش ظاہر کی۔ اب فوٹو فیس بُک پر لگنے کی دیر تھی کہ لائیک پہ لائیک آنے لگی۔ سوچا کہ اگر مَیں استاد کی بجائے استانی ہوتا تو یومِ خواتین پر لڑکوں کے ساتھ میری تصویر کی مقبولیت کسی بڑے اسکینڈل کو جنم دے سکتی تھی ۔

ممکن ہے اِس خدشے کے پیچھے پانچ سال پہلے کا وہ واقعہ ہو جس میں ایک معزز شعبے سے وابستہ شخصیت کی ایک ذاتی حرکت پر پاکستان کی آسکر انعام یافتہ فلم میکر نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ دراصل خاتون فلم میکر نے کراچی کے ایک معروف ہسپتال میں اپنی بہن کے ایمر جنسی علاج کے بعد ڈیوٹی ڈاکٹر کی طرف سے مریضہ کے لیے فرینڈ ریکویسٹ کا بُرا مانا۔ اُنہوں نے لکھا کہ مذکورہ شخص بالکل اجنبی ہے جس سے علاج معالجے کے سوا کوئی بات نہیں ہوئی ۔ فلم میکر کے الفاظ تھے ”جو کچھ ہوا وہ پیشہ ورانہ ضابطہءاخلاق اور معالج و مریض کے باہمی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ چنانچہ ایک عورت کی محسوسات کے مطابق ، اِسے ناجائز دخل اندازی اور ہراساں کرنے کی کارروائی سمجھا گیا ، جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا ۔“ اِس پر سوشل میڈیا میں دوطرفہ شور مچ گیا تھا۔ 

 قانونی ذہن کے لوگ واقعے کی جزئیات میں اُتر کر کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرتے رہے۔ جیسے یہی سوال کہ وطن ِ عزیز میں خواتین کو صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور خوف و ہراس سے بچانے کے لیے حالیہ برسوں میں جو قوانین متعارف کرائے گئے ، کیا متعلقہ ڈاکٹر صاحب کا طرزِ عمل اُن کے منافی تھا ؟ اِس کے علاوہ یہ جائزہ لینے کی کوشش بھی ہوئی کہ الیکٹرانک یا سائبر کرائم قوانین کے تحت جن فنی اور اخلاقی تقاضوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، آیا انہیں ملحوظِ خاطر رکھا گیا کہ نہیں؟ ایک تیسرا زاویہ کسی سماجی یا کاروباری تنظیم ، نیم سرکاری انجمن یا کلب کے اپنے اصول و ضوابط کا ہوا کرتا ہے ، جو اُس ادارے کے اراکین کے لئے قانون کا درجہ رکھتے ہیں ۔ لاہور جمخانہ، ڈیفنس کلب اور سول آفیسرز مَیس کا ڈریس کوڈ اِسی ذیل میں آئیں گے۔ یہاں اِس سے مراد فیس بُک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ کے ضوابط ہیں۔

 بحث کے شرکا میں سے چند ایک نے ساری کہانی کو اِنہی زاویوں سے دیکھا اور فیصلہ کیا کہ کوئی بھی شخص سوشل میڈیا پر کھلے عام تعارف و تصویر کے ساتھ موجود کسی اور کو دوستی کی درخواست بھیج دے تو وہ قانون شکنی کا مرتکب نہیں ہو تا ۔ (جو مرد و خواتین اپنے تعارفی کوائف مقفل کر کے آپ کی دوستی کے لیے بے چین ہو جائیں، اُن کا کیس مختلف ہے۔) بعض ناقدین نے فوجداری مقدمات میں برتی جانے والی احتیاطوں کے پیش ِ نظر ’ملزم‘ کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا مگر ساتھ ہی اخلاقی حدود و قیود کی بات بھی کی ۔ ہمارے یہاں کوئی تنازعہ اُٹھے، بحث کا آغاز اونچا اونچا بولنے سے ہوا کرتا ہے۔ پھر فریقین وفاقی و صوبائی حکومت سازی جیسے جھمیلوں میں پڑ جاتے ہیں۔اِس عمل میں بھی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم خود منزل پر پہنچیں یا نہ پہنچیں مگر ہمارے روایتی حریفوں کا منہ ہر قیمت پہ کالا ہونا چاہئے ۔

 چنانچہ پانچ سال پہلے کی بحث میں یہی کچھ ہوا اور ایسے تیکھے اشارے ملے کہ خاتون فلم میکر ’ایلیٹ فیمنزم‘ یا اُس اعلی طبقہ کی نمائندگی کرتی ہیں جو آزادیءنسواں کی بات فیشن کے طور پر کرتا آیا ہے ۔ یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ اُنہیں کسی سے جو شکایت تھی اُس کا اظہار سوشل میڈیا کی بجائے نجی طور پر کیا جا سکتا تھا ۔ مزید نمونہءکلام ملاحظہ کیجئے : ”بھلا یہ سارا ڈرامہ رچا کر کسی کو نوکری سے نکلوانے کی کیا ضرورت تھی ؟“ ”کیا یہ جتانا ضروری تھا کہ ہم آسکر انعام یافتہ ہیں؟“ ”جب آپ کی پوسٹیں پبلک ہیں تو مطلب یہ نکلا کہ اِن پر ہر کوئی تبصرہ کر سکتا ہے ، سو ڈاکٹر کو الزام نہ دیجئے بلکہ بہن سے کہیے کہ وہ دانشمندی سے کام لیں۔“ آخری جملے کا ترجمہ کرتے ہوئے مَیں نے شائستگی سے کام لیا، وگرنہ ڈر تھا کہ دوسروں کی لڑائی چھڑاتے چھڑاتے کہِیں خود بھی ہتکِ عزت کے الزام میں دھر نہ لیا جاﺅں ۔

 درحقیقت کوئی بھی معاشرہ ہو ، اقدار کا نظام صرف ملکی قوانین کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ علاقائی رسوم و رواج ، پیداواری عمل کی قائم کردہ طبقہ بندیاں، دین و مذہب کے تقاضے (یا وہ جنہیں تقاضا سمجھ لیا جائے ) اجتماعی چال چلن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں ۔ خود مجھ پر آزادیءنسواں کے موضوع پر آسکر انعام یافتہ پاکستانی فلم میکر کے کام سے زیادہ اُن فلموں کا اثر ہے جو بچپن سے لے کر آج تک دیکھ رہا ہوں ۔ اِس سیریل کی ’کیریکٹر ایکٹر‘ ہماری صلح کُن طبیعت کی دادی ہیں جو خاندان بھر میں بی جی کے نام سے انتظامی ، اخلاقی اور روحانی اختیارات کا منبع سمجھی گئیں۔ پھر بھی اِس سوال کے جواب میں کہ آپ کی کبھی کسی سے لڑائی کیوں نہیں ہوئی، یہ کہے بغیر نہ رہ سکیں کہ ”بَلو ، ہم تو سمندر ہیں ۔ خاوند نے کچھ کہا تو سُن لیا ، بیٹے نے کچھ کہا وہ سُن لیا ، بیٹی نے کہا وہ بھی سُن لیا۔ “ اِس موقع پر بی جی نے اکلوتی بہو کا نام نہیں لیا تھا ۔ شاید اِس لیے کہ پورے گھر میں یہی ایک سمبندھ اُنہوں نے مرضی سے چُنا تھا۔ کیا پتا باقی سب رشتے محض حالات کا جبر ہوں۔ 

 چند سال پہلے تک ہمارے بڑے شہروں میں بھی نکاح فارم کی اُن شقوں کو قلم زد کر دیا جاتا تھا جن میں دلہن کے حقوق کی ضمانت دی جاتی ہے۔ بس دونوں طرف کے بزرگ چھوہاروں کے جلو میں یوں نمائشی تبسم سجائے پھرتے رہتے جیسے وہ سب کے سب اپنی ہی بہو اور بیٹی کے خلاف ایک خاموش تمدنی سازش کے تانے بانے بُن رہے ہوں ۔ یہ احساس اول اول اُس وقت ہوا جب میری بہن نے رخصتی سے کئی گھنٹے پہلے دھیمے سُروں میں رونا شروع کر دیا تھا ۔ اطلاع مِلنے پر مَیں خواتین والے کمرے میں گیا اور کان میں آہستہ سے کہا ”مرضی نہیں تو اکڑ جاﺅ ۔“ دلہن کی ہنسی نکل گئی ۔ اب تِین سال ہوئے اُسی بہن کے بیٹے سے ، جو بیرونِ ملک پی ایچ ڈی کر رہا تھا،دھیرے سے پوچھا کہ جب کبھی شادی کا آزادانہ فیصلہ کر لیا تو اِس کی اطلاع والدین کو کیا ’واٹس ایپ‘ پر دو گے؟ ۔ ہنستا ہوا جواب ملا ”مِسڈ کال “ ۔ حالات بدل رہے ہیں اور پڑھے لکھے خاندانوں میں اب ہماری لڑکیاں بھی یہ جواب دے سکتی ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -