امیر عبدالقادر الجزائری کی داستان حیات: چند توضیحات(2)

امیر عبدالقادر الجزائری کی داستان حیات: چند توضیحات(2)

  

 امیرعبدالقادرالجزائری کی اس حکمت عملی سے اختلاف کرنے والے اختلاف کر سکتے ہیں اور ہر قیمت پر لڑتے رہنے کو ”عزیمت“ کا عنوان دے کر جہاد کی آئیڈیل صورت بھی قرار دے سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ اسلامی تاریخ میں اس طرز عمل کے نمونے بھی موجود ہیں جو امیر الجزائری نے اختیار کیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں پے در پے شکست سے دوچار ہونے کے بعد جب اپنے ساتھیوں کو بحفاظت میدان جنگ سے نکال کر واپس مدینہ منورہ لے آئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کی تحسین فرمائی تھی۔ خود ہمارے ہاں 1857ءکے جنگ آزادی میں شکست کے بعد بعض اکابر نے جلا وطنی اختیار کر لی تھی اور دوسروں نے جنگ سے کنارہ کش ہو کر تعلیم وتدریس کے میدان کا انتخاب کر لیا تھا، اس کے بعد سے، تحریک ریشمی رومال کے استثنا کے ساتھ، دیوبندی تحریک نے بالعموم انگریزی حکومت کے ساتھ تصادم کے بجائے پرامن سیاسی جدوجہد کا طریقہ ہی اختیار کیے رکھا ہے۔

یہ محض معروضی صورت حال میں مناسب حکمت عملی کے انتخاب کا مسئلہ ہے جس میں وہی فریق بہتر فیصلہ کر سکتا ہے جو ا±س صورت حال میں کھڑا ہو۔ یہ کوئی ایسا جرم نہیں کہ اس پر زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے امیر عبد القادر کو نہ صرف ”یہود کا گماشتہ“ قرار دے دیا جائے، بلکہ ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی کوشش کی جائے۔

مفتی صاحب کی طرف سے امیر کو ”یہود کا گماشتہ“ قرار دینے کی بنیاد اس نکتے پر ہے کہ انھوں نے ایک دور میں فری میسن تنظیم کی رکنیت قبول کر لی تھی۔ یہ بات درست ہے اور کوئی ڈھکی چھپی نہیں، بلکہ معلوم ومعروف بات ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امیر نے یہ رکنیت جس حسن تاثر اور جس اعلیٰ جذبے کے تحت قبول کی تھی، بعد میں اس کے حوالے سے عدم اطمینان ہونے پر انھوں نے اس سے علیحدگی بھی اختیار کر لی تھی۔ افسوس ہے کہ مفتی صاحب نے جان کائزر کی کتاب سے وہ اقتباسات تو نقل کر دیے ہیں جو فری میسن سے وابستگی کی تفصیلات بتاتے ہیں، لیکن انہی صفحات پر موجود یہ اطلاع انھوں نے کمال دیانت سے حذف کر دی ہے کہ انھوں نے اس تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ پھر یہ کہ فری میسن سے وابستگی ان کی زندگی کے بالکل آخری دور میں دمشق کے قیام کے دوران کا واقعہ ہے، جبکہ فرانس کے خلاف جہاد اور پھر صلح کے معاملات اس سے کئی دہائیاں پہلے گزر چکے تھے جب امیر کو فری میسن کے بارے میں سرے سے کوئی خبر ہی نہیں تھی، اس لئے جہاد سے دست برداری کے معاملے میں ان کے طرز عمل کو ان کے ”یہودی گماشتہ“ہونے سے وابستہ کرنا کسی بھی منطق کی رو سے درست نہیں ہو سکتا۔

مفتی صاحب نے امیر عبد القادر کو ”ماڈرن جہاد“ کا نمائندہ ثابت کرنے کے لئے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ ان کی تعریف وتوصیف میں اہل مغرب رطب اللسان ہیں، ان کے نام پر امریکہ کی ریاست لووا میں ایک قصبے کو موسوم کیا گیا ہے اور وہاں کے پبلک سکولوں میں طلبہ کو امیر کی شخصیت سے واقف کرانے کے لئے ایک مستقل، تعلیمی پروگرام چل رہا ہے۔ مفتی صاحب کا سوال یہ ہے کہ آخر ایک ”سچے مجاہد“ کے ساتھ اہل مغرب اس طرح کا تعلق خاطر کیونکر رکھ سکتے ہیں؟

یہ سوال اہل مغرب کے ہاں امیر کی مقبولیت کے اصل پس منظر کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ اہل مغرب کے ہاں امیر کی تکریم وتعظیم کا سبب ان کا ”مجاہد“ ہونا نہیں، بلکہ ایک تو ان کا وہ اخلاقی طرز عمل ہے جو انھوں نے فرانسیسی قیدیوں کی دیکھ بھال اور ان کے جسمانی ومذہبی حقوق کے احترام کے حوالے سے اختیار کیا اور دوسرا بلکہ اصلی سبب ان کا اور ان کے ساتھیوں کا وہ جرات مندانہ کردار ہے جو انھوں نے 1860ءمیں دمشق میں مسلم مسیحی فسادات کے موقع پر بے گناہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم سے، جو ان سب کو تہہ تیغ کر دینا چاہتا تھا، بچانے کے لئے ادا کیا تھا۔ درحقیقت امیر کا یہی وہ کردار ہے جس نے اس وقت کے نمایاں ترین مغربی قائدین اور اخبارات وجرائد کو ان کی تعریف میں یک زبان کر دیا اور انہیں مغرب میں اعلیٰ مذہبی اخلاقیات کے ایک مجسم نمونے کے طور پر جانا جانے لگا۔ امریکہ کی ریاست Iowa میں ایک قصبے کو ان کے نام پر موسوم کرنے اور طلبہ کو ان کی شخصیت سے متعارف کرانے کا پس منظر یہی ہے۔ میرے نزدیک اس پہلو سے امیر کی شخصیت نہ صرف آج کے مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے، بلکہ اہل مغرب کے سامنے اسلام کے تصور جہاد کے درست تعارف کے لئے بھی ایک گراں قدر اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے۔ افسوس ہے کہ ہم دعوتی ذہن کے تحت ان جیسی شخصیت کی قدر وقیمت محسوس کرنے کے بجائے نفسیاتی شدت احساس کے زیر اثر انہیں مجروح کرنے اور ان کے مقابلے میں فکری واخلاقی بونوں کا امیج بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مفتی صاحب نے امیر الجزائری پر ”حد سے بڑھی ہوئی شہوت پرستی“ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ یہاں بھی ، افسوس ہے کہ انھوں نے سخت غیر اخلاقی طرز عمل اختیار کیا ہے۔ انھوں نے جان کائزر کی کتاب سے امیر سے میل ملاقات رکھنے والی ایک مغربی خاتون جین ڈگبی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ امیر کے حرم میں پانچ بیویاں تھیں، لیکن حاشیے میں مصنف کا یہ نوٹ نظر انداز کر دیا ہے کہ جین ڈگبی کی اس اطلاع کی کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق نہیں ہوتی اور یہ کہ جین کا یہ بیان محض قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے۔ مفتی صاحب نے مزید ستم یہ کیا ہے کہ خود جین ڈگبی کو، جو امیر کی مجلسوں میں شریک ہونے اور ان سے قریبی سماجی تعلقات رکھنے والے بہت سے مغربی افراد میں سے ایک تھی، امیر کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث دکھانے کی کوشش کی ہے۔ میرے لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ استنتاج ایک منفی زاویہ نظر سے بعض معلومات کو پڑھنے کا نتیجہ ہے یا اس میں بالقصد اتہام طرازی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ حقیقت حال جو بھی ہو، بہرحال یہ ایک نہایت افسوس ناک طرز تحریر ہے، جسے مَیں کسی تردد کے بغیر سطحی اور پراپیگنڈا صحافت کا ایک نمونہ قرار دوں گا۔ قارئین، کتاب کے متعلقہ حصوں کے مطالعے سے خود معلوم کر سکتے ہیں کہ نہ تو مصنف کے پیش نظر امیر اور جین ڈگبی کے مابین ناجائز تعلقات کی نشان دہی ہوئی ہے اور نہ درج کردہ معلومات سے استدلال کے کسی بھی اصول کے تحت یہ نتیجہ یا اس کی طرف کوئی اشارہ ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔ فرض کریں، امیر کی زندگی میں اس قسم کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو بھی ایسی کسی بات کا کتاب میں درج ہونا خود مفتی صاحب کے مفروضے کی رو سے بھی ناقابل فہم ہے، کیونکہ اگر یہ کتاب کسی سازش کے تحت مسلمانوں میں ”جعلی“ مجاہد کو ”حقیقی“ اسلام کے نمائندے کے طور پر متعارف کروانے کے لئے لکھی گئی ہے تو اس کا مصنف اتنا بے وقوف تو نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں میں اخلاقیات کے تصور سے بالکل ناواقف ہو اور امیر کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو کتاب میں بیان کر دے، جس سے کتاب کا سارا مقصد ہی سرے سے فوت ہو جاتا ہو۔ انسان بعض اوقات سازشی مفروضوں کے گھوڑے پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ کامن سینس کو بھی پس پشت ڈال اور بالکل سامنے کی چیزوں کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مفتی صاحب کو اس اتہام طرازی کے لئے روز قیامت کو اللہ تعالیٰ اور امیر عبد القادر کے سامنے جواب دہی نہ کرنی پڑے۔

آخری گزارش کے طور پر یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ کسی بھی شخص کے آرا¿ وافکار یا حکمت عملی سے اختلاف کوئی ناپسندیدہ بات نہیں، لیکن اختلاف کا حسن یہی ہے کہ آپ اخلاقی اصولوں اور آداب اختلاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے تنقید کریں۔ تحریر میں سطحی اور گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر تے ہوئے سنسنی کی فضا پیدا کر کے وقتی طور پر تو قارئین میں مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اس طرز تحریر سے وجود میں آنے والے لٹریچر کی عمر اس دنیا میں بھی زیادہ نہیں ہوتی اور آخرت تو ہے ہی اسی لئے کہ وہ دنیا میں لوگوں کی نظروں میں”مزین“ کر دیئے جانے والے اعمال کی قلعی کھول کر رکھ دے۔!! اللہم احسن عاقبتنا فی الامور کلہا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرة۔(ختم شد) ٭

مزید :

کالم -