یہ ہوتی ہے ”پلاننگ“

یہ ہوتی ہے ”پلاننگ“
یہ ہوتی ہے ”پلاننگ“
کیپشن: tariq mateen

  

کیا آپ کو فیملی پلاننگ کا مطلب معلوم ہے ؟ اگرآپ محکمہ بہبود آبادی پاکستان کی جانب سے جاری کردہ مفہوم جانتے ہیں تو آپ فیملی پلاننگ کا مطلب نہیں جانتے ۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ فیملی پلاننگ یہی ہے کہ اولاد میں اضافہ اپنے وسائل کو مد نظر رکھ کر کیا جائے ۔ ملکی مفاد کہتا ہے کہ آبادی میں اضافہ مسائل میں اضافہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ زچہ و بچہ کی صحت جیسے سنگین مسائل پر نظر رکھی جائے وغیرہ وغیرہ ۔گھٹتے ہوئے قدرتی وسائل کو بڑھتی ہوئی آبادی سے خطرہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ تعلیم ، صحت ، روزگار، رہائش اور خوراک وغیرہ وغیرہ ۔

پاکستان کی پیدائش کے تین سال بعد ہم تین کروڑ ستر لاکھ وغیرہ تھے ۔ ہمارا دنیا وغیرہ میں آبادی کے لحاظ سے تیرہواں نمبر تھا ۔ہم ایشیا وغیرہ میں ان اولین ملکوں میں سے تھے جنہوں نے ڈونرز وغیرہ کی مدد سے فیملی پلاننگ وغیرہ شروع کی ۔اقوام متحدہ جیسے ادارے وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم جلد پانچویں نمبر پر آجائیں گے ۔اگر یہ آپ کے نزدیک مسئلہ ہے تو میرے نزدیک یہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں ، کیونکہ میرے نزدیک فیملی پلاننگ کی تعریف وغیرہ اس سے کہیں سنگین اور جامع ہے جو یہ وزارتیں وغیرہ فرمایا کرتی ہیں ۔

میرے نزدیک فیملی پلاننگ وہ ہے جو میاں صاحبان نے کی ہے ۔میاں شریف صاحب نے فیملی پلاننگ کی اور ” اپنا لوہامنواتے ہوئے“ اپنے بچوں کو بڑے بڑوں میں اٹھنا بیٹھنا سکھایا اور بچوں نے اڑنا سیکھ لیا ۔ پھر میاں برادران نے فیملی پلاننگ کی اور اب ماشاءاللہ حمزہ کے بال و پر نکل آئے ہیں ۔ شہر کی سڑکوں پر یوتھ فیسٹیول وغیرہ کے فلیکس وغیرہ لگتے ہیں تو ان پر شہباز شریف صاحب کے ساتھ حمزہ میاں بلکہ میاں حمزہ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ ہوتی ہے پلاننگ عوام کے پیسے کی انہار میں حمزہ کی ڈبکیاں وغیرہ ۔ اس فیملی کو ہم پر مسلط کرنے کے لئے لگے ”بچے دو ہی اچھے “۔

اس سے بھی آگے آپ کو نظر آتی ہے بھٹو فیملی جس نے قربانیاں دیں ،مگر کیا یہ قربانیاں صرف سیاسی ہی نہیں تھیں ؟کیا ان کا مقصد سب سے پہلے حصول اقتدار نہیں تھا ؟ اس فیملی کی پلاننگ بھی عشروں پر پھیلی ہوئی ہے ۔اور اب ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے ۔ یہ سیاسی لوگ اپنے بچوں کی بہت فکر کرتے ہیں جس میں جراثیم نظر آئے اپنے جیسے، اسے سینت کے رکھا ۔ شملہ سے فرانس تک ہر دورے میںساتھ ساتھ رکھا اور جس میں نہیں نظر آئے اسے بیرون ملک سیٹل کروادیا ۔ نظر دوڑائیں آپ کو نیویارک ،واشنگٹن ، لندن اور خلیجی ممالک میں ان کے ملٹی ملین ڈالر کے بزنس نظر آئیں گے ۔ ان ہی کے جوتوں کی مٹی کو نقش قدم مان کر ان کے چیلوں نے بھی وہی کام کئے ۔جاموٹوں ، ممدوٹوں ، لغاریوں، مزاریوں ، ٹوانوں ، دولتانوں ، کھروں، گیلانیوں ، حروں، بگٹیوں، جمالیوں ، مینگلوں ، ہوتیوں ، خانوں ، شیرازیوں ، زرداریوں ، ملکوں ، مخدوموں ، سرداروں ، خواجوں ، راجوں ، چودھریوں اور نہ جانے کتنے گھروں کے گھروں میں پڑے شہریوں کی گردنوں پر سوار ان فیملی پلاننگ کے ماسٹر مائنڈ آقاو¿ں نے کروڑوں کمیوں کو یہ بتایا ہے کہ نالی کے کیڑے میں اور ”مثالی “کے کیڑے میں فرق ہمیشہ قائم رہے گا ۔ سردار ذوالفقار کھوسہ ہوگا پھر اس کے بیٹے ہوں گے پھر بیٹوں کی اولادیں پھر اولادوں کی اولادیں ۔ پہلے باچا خان پھر ولی خان پھر اسفند یار خان پھر امیر حیدرہوتی ہوگا ، مخدوم امین فہیم سے پہلے مخدوم طالب المولیٰ اور ان کے بعد پھر ایک چشم و چراغ کا اندھیرا باقی ہے ۔

کہیں گیلانی زادے ہیں تو کہیں کھر ہیں ، باپ رکن اسمبلی پھر بیٹا رکن اسمبلی اور اگر اولاد نہیں نہ چاہتے ہوئے بھی کسی بھانجے بھانجی یا بھتیجے بھتیجی کو لاد کر جائیں گے ۔ تہذیب اور معاشرت کیا بتاتی ہے ہمیشہ سے مثال دی جاتی ہے پڑھا لکھا خاندان ، کاروباری خاندان ، مذہبی گھرانہ اور چلیں پٹیالہ گھرانہ بھی ۔لیکن یہ ہیں سیاسی خاندان ۔ان کی پلاننگ ان کے وسائل پر نہیں ملکی وسائل پر ہوتی ہے ۔ انہوں نے ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ ایسا ٹھیکہ جس کا ٹینڈر ہر الیکشن میں ان کے نام نکلتا ہے یہ جمہوری آمریت کے نتیجے ہیں اور جب ابن الوقتی درکار ہو تو یہ آمریت کو اپنا باپ بنالیتے ہیں ۔ آپ کو ہر اسمبلی میں ڈکٹیٹر زادے ملیں گے جو اگلی بار توبہ کرکے اپنی پوستین کسی جمہوری موٹر وے کے ٹھیکیدار کی ہتھیلی کو پیش کردیتے ہیں کہ سہلائیے سرکارسہلائیے ۔

یہ ” میراثی “ ہیں اس لئے کہ فیملی پلاننگ ان کی میراث ہے اور ہمارے جیسے ملکوں وغیرہ میں یہ سب ہوا ہی کرتا ہے ۔ کہیں کوئی شاہ ابن شاہ ابن شاہ بیٹھا ہے اور ایلفی لگا کر بیٹھا ہے اور کہیں کوئی گاندھی ہر آندھی کے سامنے ڈٹا ہوا ہے ۔ کہیں کوئی نام کی حسینہ بیٹھی ہے تو کہیں کوئی پتری ، کہیں کوئی رالہ موجود ہیں۔ کوئی بتائے کہ ایک پرچون فروش کے گھر سے احمدی نژاد اٹھ کر کیسے سسٹم کو چیلنج کرگیا ۔ اس کے بعد ایک پنسار کے گھر سے حسن روحانی کیسے آگیا ۔ہمارے حکمرانوں کے پسندیدہ رجب طیب اردواں نے اپنے بچپن میں تل والے نان اور لیموں پانی بیچا تھا اپنے ضمیر کونہیں۔ کیوں کہ جہاں چاہ وہاں راہ مگر ہمارے ہاں جہاں خزانہ وہیں ٹھکانہ ۔ مثالیں آپ کو فیملی پلاننگ کرنے والوں کی بھی مل جائیں گی لیکن پھر ان کے اثاثے دیکھ لیں اور ہمارے فیملی پلاننگ ایکسپرٹس کے اثاثے دیکھ لیں ۔اقتدار میںآتے ہیں تو خزانہ خالی ہونے کا رونا روتے ہیں اور جاتے ہیں تو ہم ان کے پھولے ہوئے پیٹ کو روتے ہیں ۔ کسی نے اپنے بچے کو کھیلنے کو سندھ یا پنجاب دے دیا تو کسی نے یوتھ پروگرام دے دیا ۔ کسی نے اپنے بیٹوں کو ہیوی بائیکس کا کاربار کرواکے دیا اور اس کے بعد موٹروے پر ہیوی بائیکس چلانے کی اجازت دے دی ۔

ان کی فیملی پاکستان نہیں ہے ،اگر ایسا ہوتا یہ لوگ اپنی فیملی کو پاکستان میں تعلیم دلواتے ۔ سب نے آکسفورڈ اور ہارورڈ میں معاشقے لڑائے ہیں اور ہمارے تعلیمی اداروں سے نفرت کی ہے ۔اس سے بڑا ڈھکوسلہ کیا ہوگا کہ ان کی دانش یہاں اسکول بناتی ہے اور ان کا دانش وہاں کے اسکول میں پڑھتا ہے ۔  ٭

مزید :

کالم -