حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں تاخیر سے کیوں شروع ہوتی ہیں؟

حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں تاخیر سے کیوں شروع ہوتی ہیں؟
حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں تاخیر سے کیوں شروع ہوتی ہیں؟

  

نیپال میں زلزلے کی وجہ سے جتنی بھی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں، ان کی تعداد میں کمی ہوسکتی تھی۔اگر ان کو علاج معالجے میں اس قدر وقت نہ لگتا ،تجربات یہ بتاتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں قدرتی آفات سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات کی وجہ حکومتی اداروں یا بین الاقوامی تنظیموں کا فوری مدد نہ کرنا ہے ۔حکومتوں کے پاس ایسے انتظامات نہیں ہوتے کہ وہ ملبے سے لوگوں کو نکال سکیں اور ہسپتالوں تک پہنچا سکیں یہی وہ عمل ہے، جس میں تاخیر کی وجہ سے ہلاکتیں بڑھ جاتی ہیں ،عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایسی قدرتی آفات کے موقع پراگر انسانی مدد وقت پر نہ کی جائے تو مرنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہیں۔بین الاقوامی تنظیمیں ایسے مسئلوں میں کافی بھاگ دوڑ کرکے یہ تصور اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کے لئے کوشاں ہیں ،لیکن حقیقت میں یہ تنظیمیں فوٹوسیشن میں دلچسپی رکھتی ہیں اور بعض اوقات یہ تنظیمیں آفت زدہ لوگوں کے لئے ایسی اشیاء بھیج دیتی ہیں جو کسی قابل نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے آفت زدہ لوگوں کی مشکلات میں کمی کی بجائے ان کی تکالیف میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری حکومتیں بین الاقوامی تنظیموں ،اداروں کا انتظار کرنے کی بجائے خود سے زیادہ سے زیادہ انتظامات کریں،کیونکہ بین الاقوامی تنظیموں کے لوگوں کے نخرے اور اخراجات حد سے زیادہ بڑھے ہوتے ہیں اور اس میں عام آدمی کے لئے ہمدردی کا اظہارواضح نہیں ہوتا، جس کے لئے ہمیں چاہیے کہ ہم خود ہی آپس میں ایک خوشگوار معاشرے کی طرح چلیں۔بین الاقوامی تنظیموں کے انتظامی اخراجات زیادہ ہوتے ہیں،اور ان کی وجہ سے ملکی این جی اوز بھی غیر ضروری معاملات پر خرچے زیادہ اور عوامی کاموں پر خرچے کم کرتی ہیں،بین الاقوامی فلاحی اداروں اور ہماری این جی اوز عام طور پر اس طرح کام کرتی ہیں ،جس کی مثال اونچی دکان پھیکا پکوان،۔یعنی کارکردگی کا ڈرامہ تو بہت بڑاہوگا، لیکن عملی طور پر اصلاح یا انسانی ہمدردی کا مظاہرہ محدود ہوگا۔ہمیں ایسی تنظیموں کی بہت ضرورت ہے جو انسانی ہمدردی کے جذبوں سے سرشار ہوکر تیزی سے عوام کے فلاح وبہبود کے منصوبوں پر کام کریں، ایسا ہونے سے ہمارا انحصار غیر ملکی این جی اوزپر سے کم ہوجائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں ملک میں ایسی بہت سی تنظیمیں ہیں جو خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ۔

این ڈی ایم اے جو فیڈرل لیول پر کام کرتی ہیں اور ان کا مقصد ملک میں قدرتی آفات اور مختلف اَن ہونے واقعات میں پھنسے لوگوں کی خدمت کرنا اور عوام کو مدد فراہم کرنا ہے،۔مگرہمیں آج تک یہ سمجھ میں نہیں آسکا کہ اس کا مقصد کیا ہے، جس انداز میں این ڈی ایم اے کام کرتا ہے اس طرح کبھی مسئلے حل نہیں ہوتے،بدنصیبی تو یہ ہے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا بھی نہیں ہے کہ یہ ادارہ عوامی خدمت کے نام پر کیا کررہا ہے ،اربوں کروڑوں کے فنڈز کہاں اور کس کام میں خرچ ہوتے ہیں ؟میری نظر میں مسائل کا حل عملی ، فوری اور بھرپور اقدامات کرنے سے ہوتا ہے ۔ ہم نے پشاور میں آنے والے طوفان بادوباراں کے بعد دیکھاکہ صوبائی اور فیڈرل حکومت دونوں نے ہی سست روی کا مظاہر ہ کیا، پشاور میں لوگوں کی مدد کے لئے میں خود بھی وہاں پہنچا اور بہت سے بلکتے سسکتے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔جو امداد میں وہاں لے کر پہنچا گو کہ وہ میری حیثیت سے بہت زیادہ تھی، مگر وہاں اجڑے اور بارشوں سے تباہ حال لوگوں کی مشکلات کے لئے بہت کم تھی ۔وہاں ابتدائی امداد خیبرپختونخوا کی حکومت سے نہیں ملی، بلکہ وہ امداد مخیر حضرات اور معاشرے میں قائم تنظیموں نے اپنی مددآپ کے تحت پہنچائی ۔ان ہی جذبوں نے لوگوں کو ملبے سے نکالا بھی اور رہائش بھی فراہم کی ۔

بہت سے مخیر حضرات نے راشن ،پکا ہوا کھانا یعنی دیگیں بنواکر تقسیم کیں،مگر افسوس ہمارے حکومتی اداروں کو چوبیس گھنٹے کے بعد جاگ آئی ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بات اس طرح رفع دفع کر دی کہ مَیں کوئی ڈاکٹر تو نہیں جو فوراً ہسپتال پہنچتا۔ ارے بھائی بے شک آپ ڈاکٹر نہیں۔ ہمیں بھی معلوم ہے ،آپ کے لئے یہ عہدہ بہت چھوٹا ہے ،جسے مسیحائی بھی کہا جاتا ہے، آپ اس صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں مگر آپ کو انتظامی امور میں کوتاہیوں کا نوٹس تو لینا چاہیے تھا امدادی کاموں میں تاخیر کی وجہ تو معلوم کرنی چاہیے تھی ہسپتالوں میں زخمیوں کو دیکھنے نہ جاتے مگر یہ تو دیکھ لیتے کہ مریضوں کو کس طرح کی سہولیات دی جارہی ہیں حکومتی مشینری میں اور بھی بہت سی خرابیاں تھیں ،جنہیں آپ دیکھ سکتے تھے ،سوائے تماشہ دیکھنے کے ۔یہ مسئلہ کسی ایک صوبے کی انتظامیہ کے ساتھ نہیں ۔ پشاورسے کراچی واپسی میں دو گھڑی سانس بھی لینے نہیں پایا تھا کہ پتہ چلا کہ دادو میں ایک خوفناک سانحہ پیش آیاہے ،وہ یہ کہ باراتیوں کی بس بید شریف سے دادو کی طرف جارہی تھی کہ کنڈوچھکی لنک روڑ کے مقام سے گزر تے ہوئے اس کی چھت پر گیارہ ہزار کلو واٹ ہائی ٹینشن وائرز گرگئے، جس کی وجہ سے بس میں آگ لگنے سے موقع پر ہی 10افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ بعد میں یہ تعداد15تک جاپہنچی ، جبکہ سینکڑوں افراد ابھی تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔

میں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی طرح یہ بالکل نہیں سوچا کہ میں کوئی ڈاکٹر ہوں ،ایک عام آدمی اور ایک عام شہری کی حیثیت سے فوراً تیاری کی کہ شاید میرے جانے سے ان کے کچھ نہ کچھ مسائل حل ہوجائیں، لہٰذا میں نے اسی وقت کراچی سے دادو کی طرف سفر شروع کردیا اور جن لوگوں کے عزیزواقارب اس خوفناک حادثے کی وجہ سے اس دنیاسے چلے گئے تھے ،ان سے ملاقاتیں کرنے کے ساتھ جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا ،جس سے مجھے علم ہوا کہ یہاں بھی وہی کچھ دہرایا گیاجو کچھ شکار پور لنک روڈ حادثے میں ہوا،وہی انتظامیہ کی لاپرواہی اور حکمرانوں کی بے حسی وہی مسئلہ جو پشاور میں دیکھا اور و ہی سب کچھ 2005ء میں آنے والے زلزلے میں بھی دیکھنے کو ملا۔گزشتہ کئی سال سے سندھ بھر میں قحط ،خشک سالی اور سیلاب جیسے معاملات میں دیکھنے کو مل رہا ہے، ان لاپرواہیوں کے سبب وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جن کو بروقت امداد دینے سے بچایا جاسکتا ہے ،قارئین کرام! میں نے اوپر اپنی تحریر کو اسی انداز میں شروع کیا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد جو وقت ضائع کیا جاتا ہے، اس سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصانات زیادہ ہوتے ہیں،جو اپنی نااہلیوں اور لاپرواہیوں کی وجہ سے انسانیت کا اِن کاؤنٹر کرنے کے مترداف ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی واقعے کے بعد نوٹس لینے یا امدادی کاموں کو شروع کرنے میں عام طور پر بارہ سے چوبیس گھنٹے لیتی ہیں، جوان کی نالائقیوں کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے ۔

مزید :

کالم -