مظفر گڑھ میں پاک ترک دوستی کی روشن مثال

مظفر گڑھ میں پاک ترک دوستی کی روشن مثال
مظفر گڑھ میں پاک ترک دوستی کی روشن مثال

  

دُنیا کی16 ویں بڑی معیشت اور عالم اسلام کے معتبر ترین ملک ترکی کا نام آتے ہی ہر پاکستانی کے ذہن میں برادر اسلامی ملک کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے ۔ ترکی اور پاکستان کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے تاریخی ، تہذیبی ، ثقافتی اور معاشی تعلقات قائم ہیں ۔پاکستان اور ترکی کے درمیان قائم پر خلوص اور بے غرض دوستی کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ۔ جنگ ہو یا امن ،ہر موقع پر ترکی اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرکے فوراً مدد کو آتے ہیں ۔ پاکستان اور ترکی کے عوام یک جان اور دو قالب ہیں اور دوستی کا یہ رشتہ بھائیوں سے بھی بڑھ کر ہے ۔ 2010ء کے بدترین سیلاب کے دوران ترک صدر اپنی بیٹی کے ہمراہ اپنے پاکستانی بھائیوں کا دکھ بانٹنے پاکستان آئے اور پانیوں میں گھرے عوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے ان کی بھر پور مد د کی حتی کہ ترک خاتون اول انقرہ ، استنبول ، قونیہ اور دیگر شہریوں میں جاکر عطیات اکٹھے کرتی رہیں ۔ پاکستان کے عوام اپنے ترک بھائیوں کے خلوص ، محبت اور بھائی چارے کے جذبے کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے مظفرگڑھ میں ترکی کے تعاون سے 50بستروں پر مشتمل سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکا ہسپتال (Turkish International Cooperation and Cordination Agency)کا افتتاح کیا ۔ ترک صدر نے ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر ہسپتال کی تختی کی نقاب کشائی کی اور ویڈیو لنک کانفرنس سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر ان کے ساتھ انقرہ میں منعقدہ تقریب کے دوران ترکی کے نائب وزیر اعظم، وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور ٹیکا کے صدر بھی موجود تھے ، جبکہ مظفر گڑھ میں وزیراعلی کے ساتھ ترک سفیر ایس بابرگرگن ، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین کی بڑی تعداد نے خصوصی تقریب میں شرکت کی ۔ مظفر گڑھ میں قائم ٹیکا ہسپتال چلانے کے لئے حکومت پنجاب فنڈز مہیا کرتی ہے، جبکہ ایک این جی او ’’ انڈس ‘‘ ہسپتال کے نظام کو چلانے کی ذمہ دار ہے ۔مظفر گڑھ کے علاقے میں ترک خاتون اول کے نام سے منسوب امینہ طیب اردوان سکول بھی پاک ترک دوستی کا جگمگاتا ثبوت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ترک صدر کو امینہ طیب اردوان سکول کا افتتاح کرنے کے لئے پاکستان کے دورے کی خصوصی دعوت دی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف پاک ترک دوستی کے حوالے سے گرمجوشی کے جذبات رکھتے ہیں ۔ ترکی کے تعاون سے لاہور میں شہریوں کی سہولت کے متعدد منصوبے کامیابی سے چلائے جارہے ہیں ۔دریائے چناب کے کنارے جنوبی پنجاب کے اہم شہر مظفر گڑھ میں طیب اردوان ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے پر جوش اور پر عزم تھے۔ انہوں نے ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے قبل تمام شعبوں کاخصوصی طور پر دورہ کیا اور مریضوں سے فرداً فرداً ہسپتا ل کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر تقریب سے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رجب طیب اردوان ٹرسٹ ہسپتال ترک حکومت اور عوام کا پاکستان، پنجاب، بالخصوص جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے عوام کے لئے ایسا انمول تحفہ ہے، جو تمام ضروری جدید طبی سہولیات سے لیس ہے۔ نفع نقصان کے بغیر ہسپتال کا نظام چلایا جا رہا ہے اور دُکھی انسانیت کی خدمت میں یہ ادارہ پیش پیش ہے اور آج ہسپتال میں آرتھوپیڈک کا شعبہ بھی شروع کیا گیاہے، جس سے معذور افراد کو علاج معالجے کی جدید سہولتیں میسر آئیں گی ۔ یہ ہسپتال پاکستان کے تمام ہسپتالوں کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ہسپتال رجب طیب اردوان ہسپتال کے پائے کا ہو۔اس ہسپتال میں نہ تو ہڑتال ہوتی ہے، نہ ہی ٹائر جلائے جاتے ہیں اور نہ یہاں کام بند ہوتا ہے اور یہی چیز اسے دوسرے ہسپتالوں سے ممتاز کرتی ہے۔

خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ دُکھی انسانیت کا ہاتھ تھامنا ہو گا اورشعبہ صحت میں اِسی ہسپتال کے ماڈل کو اپنا کر آگے بڑھنا ہو گا تاکہ احساس ذمہ داری کے ساتھ خدمت انسانیت کا مشن بھی پورا ہواور اس ہسپتال کی خوشبو پاکستان کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں، ڈی ایچ کیوز و ٹی ایچ کیوز اور دیہی و بنیادی مراکز صحت تک پہنچانے کے لئے دن رات محنت کرنا ہوگی ۔وزیراعلیٰ نے 100 بیڈز پر مشتمل رجب طیب اردوان ہسپتال کو 500 بستروں تک بڑھاکر ٹیچنگ ہسپتال بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ اس با ت کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہاں میڈیکل کالج، نرسوں کا تربیتی ادارہ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے بھی بنائے جائیں گے۔ اربوں روپے کے اس منصوبے کے لئے آئندہ مالی سال فنڈز رکھے جائیں گے۔ منصوبے کے لئے جگہ کا انتخاب اور ڈیزائن تیار کیا جا چکا ہے اور یہ تمام منصوبے 2سال میں مکمل کئے جائیں گے۔ رجب طیب اردوان ہسپتال جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ایک ایسا شاندار تحفہ ہے، جس کے آگے پورے پاکستان کے سرکاری ہسپتال شرما جائیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنانا ہمارا مشن ہے اور ہم اس مقصد کے لئے تمام ضروری اقدامات اُٹھا رہے ہیں۔ دُکھی انسانیت ہماری مدد کی منتظر ہے، ہمیں دُکھی انسانیت کی خدمت کے لئے میدان عمل میں آنا ہے۔ رجب طیب اردوان ٹرسٹ ہسپتال دُکھی انسانیت کی خدمت کا شاندار شاہکار ہے۔ اس مثالی ہسپتال کو آئندہ دو سال میں 500 بستروں تک لے جایا جائے گا اور یہ ایسا ہسپتال بنے گا، جہاں کراچی اور لاہور کے مریض بھی علاج کے لئے آئیں گے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ویڈیو لنک کے ذریعے ترکی انقرہ سے خصوصی طور پر خطاب کیا اور ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھیں گے۔ پوری پاکستانی قوم بہادری سے دہشت گردی اور دیگر مسائل کا مقابلہ کر رہی ہے، جس پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت اور تمام سٹیک ہولڈرز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادری سے برسرپیکار ہیں اور بہت جلد پاکستان مسائل سے نکلے گا اور معاشی طور پر مضبوط مُلک بن کر اُبھرے گا ۔ عالمی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مسلم امہ کو بے پناہ مثال کا سامناہے اور ان مسائل کے حل کے لئے پوری امت کو مل کر کام کرناہے۔ ترک صدر نے ترکی میں جبکہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے انگریزی اور اردو میں خطاب کیا ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو مائی ڈیئر برادر کہہ کر اسلام علیکم کہا تو ترک صدر نے جواب میں و علیکم اسلام کہا ۔ تقریب کے دوران شرکاء نے پاکستان اور ترکی کے پرچم اُٹھا رکھے تھے اور اس دوران پاک ترک دوستی زندہ باد کے نعرے بھی لگتے رہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے کسی بھی منصوبے کے افتتاح کے لئے پہلی اور منفرد تقریب تھی اور خاص بات ترک صدر کا ریموٹ کنٹرول کا بٹن دباکر منصوبے کا افتتاح کرنا تھا ۔ ترک صدر کا خطاب نہ صرف تقریب کے شرکاء نے ویڈیولنک کے ذریعے براہ راست سنا، بلکہ چینلوں پر بھی نشر کیاگیا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ترکی کے تعاون سے مظفر گڑھ کے علاقے میں 1274 گھروں پر مشتمل رجب طیب ادروان ہاؤسنگ کمپلیکس بھی مکمل ہوچکا ہے، جہاں 2010 ء کے سیلاب کے دوران بے گھر ہونے والے شہریوں کو گھر فراہم کئے گئے ہیں ۔

مزید :

کالم -