جامعہ خالد بن ولیدؓ میں تحفظِ حرمین شریفین کانفرنس

جامعہ خالد بن ولیدؓ میں تحفظِ حرمین شریفین کانفرنس
جامعہ خالد بن ولیدؓ میں تحفظِ حرمین شریفین کانفرنس

  

پاکستان کے دینی مدارس تعلیم کے ساتھ اسلامی فہم و شعور اُجاگر کرنے اور تربیت کا ذریعہ ہیں، کئی لائبریریاں مختلف علوم و فنون کی کتابوں اور قدیم مخطوطات سے آراستہ ہیں۔ ان میں سے بھارت کی خدا بخش لائبریری پٹنہ اور پاکستان کی گوٹھ پیر جھنڈا لائبریری اور مسعود ریسرچ لائبریری جھنڈیر ضلع وہاڑی کی شہرت ایک عرصہ سے سُن رہا تھا، لیکن ان کے مشاہدے کا موقع نہ ملا تھا۔

اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا کرے علامہ ظفر احمد قاسم پرنسپل جامعہ خالد بن ولیدؓ مقام ٹھینگی ضلع وہاڑی کو جنہوں نے اس دُعا گو فقیر کو اپنے جامعہ اور مسعود لائبریری جھنڈیر کے مشاہدے کی متعدد بار دعوت دی، لیکن عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث تعمیلِ ارشاد میں کوتاہی اور تاخیر کا ارتکاب ہوتا رہا، تا آنکہ گزشتہ دِنوں علامہ قاسم صاحب کا مسجد الحرام سے ٹیلی فون آیا اور اپنی دعوتِ کا اعادہ کیا تو مَیں نے ’’صدائے حرمِ مقدس‘‘ پر لبیک کہا اور ان کی سفر عمرہ کی سعادت سے واپسی پر5اپریل 2015ء کو مولانا عبدالرحمن ظفر کی رفاقت میں عازم وہاڑی ہو گیا۔ مولانا عبدالرحمن ظفر ایک محقق عالم دین اور ادبی ذوق کی شخصیت ہیں، چنانچہ ہم گیارہ بجے فیصل آباد سے روانہ ہو کر نمازِ عصر کے وقت وہاڑی سے آگے ملتان روڈ پر جامعہ خالد بن ولیدؓ کے دروازے پر پہنچے تو سینکڑوں طالب علم سراپا ادب و احترام بنے دو رویہ قطار میں استقبال کے لئے کھڑے تھے، جونہی ہماری کار حدودِ جامعہ میں داخل ہوئی، تو گلاب کی سرخ پتیاں موسلادھار بارش کی مانند نچھاور ہونے لگیں۔ جامعہ کے اساتذہ کرام کا شوقِ مصافحہ و ملاقات دیدنی تھاکہ نمازِ مغرب کا وقت ہو گیا۔

نماز کے بعد جامعہ کی عظیم الشان نہایت خوبصورت اور پُرشکوہ مسجد کے کشادہ صحن میں ’’تحفظ حرمین شریفین‘‘ کے زیر عنوان عظیم اجتماع کا اہتمام تھا، بچوں کی عربی لہجے کے مطابق وجد آفریں تلاوت قرآن کریم کے بعد ایک لڑکے نے سوز میں ڈوبی ہوئی آواز میں نعتِ رسول اللہ ؐ پڑھی۔ بعد ازاں جامعہ کے دورۂ حدیث کے طالب علم مولانا شکیل احمد نے عربی زبان میں فی البدیہہ سپاسنامہ پیش کیا، اس کے لب لہجے سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا کوئی عرب جوہر خطابت کا مظاہرہ کر رہا ہے، پھر علامہ ظفر احمد قاسم نے اس ہیچمدان کے تعارفی کلمات میں اپنے اسلاف کی دینی، ملکی اور تعلیمی خدمات کا موثر پیرایئے میں تذکرے کے بعد مجھے خطاب کی دعوت دی، مَیں نے علمی اورعملی اعتبار سے اپنی تہی دامنی کے اعتراف کے ساتھ علامہ قاسم صاحب کی ذرہ نوازی کا شکریہ ادا کیا اور جامعہ کے طلباء کی جانب سے گلاب کی پتیاں نچھاور کرنے کی صورت میں ان کے جذبۂ احترام و اکرام کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ یہ پتیاں آپ حضرات نے مجھ پر نہیں، بلکہ میرے شیوخ و اسلاف پر نچھاور کی ہیں، کیونکہ مَیں تو ان کا خوشہ چیں اور ان کی نگاہِ فیض رساں کامتمنی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان اسلاف اور بزرگوں کے ساتھ ہماری عقیدت و احترام کا سلسلہ قائم رکھے اور ہم ان کی عظمت و وقار میں اضافے کے لئے سرگرم عمل رہیں۔جہاں تک آج کے اس اجتماع کی غرض و غایت کا تعلق ہے وہ ہے ’’تحفظِ حرمین شریفین‘‘ اور اُمت مسلمہ کی ذمہ داریاں، اس سلسلے میں ہر وقت یہ پہلو ملحوظ رہنا چاہئے کہ بقول علامہ اقبال ؒ :

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفویؐ سے شرار بو لہبی

حق اور باطل کی کشمکش سے کوئی دور بھی خالی نہیں رہا ہے، آج سعودی عرب اور یمن کی باہمی چپقلش بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہے، آج اسلام دشمن قوتیں ایک خطرناک سازش کے تحت مسلم ممالک کو لڑا کر ایک تو اپنا اسلحہ فروخت کرنے کی فضا بنا کے تیسری عالمگیر جنگ مسلم ممالک میں لڑنے کا پروگرام بنا رہی ہیں۔ ثانیاً یہ کہ اُمت مسلمہ کی ترقی و خوشحالی کو وہ برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، چنانچہ یہی وہ یمن ہے جہاں حضرت رسول اللہ ؐ کی ولادت سے قبل ابرہہ ہاتھیوں کے خوفناک لشکر کے ساتھ بیت اللہ کو مسمار کر کے حجر اسود اپنے تعمیر کردہ گرجے میں نصب کرنے کے مذموم ارادے سے حملہ آور ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابابیل پرندوں کے ذریعے چھوٹے سنگریزوں کی بمباری سے اس کا بھرگس نکال دیا اور ابرہہ مع لشکر ہلاک ہو گیا تھا، یمن کے شہر صنعا میں باب الیمن کے اندر اس کا ’’قصر غمدان‘‘ آج بھی عبرتِ نشان بنا ہوا ہے۔ یہی وہ یمن ہے جسے محسن انسانیت حضرت محمد ؐ نے ’’ارض الامن و الایمان‘‘ قرار دیا تھا اور اس کے سائن بورڈ جگہ جگہ نصب دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ یمن ہے جس کے ایک باشندے حضرت اویس قرنی ؒ کو خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ و السلام نے دو خلفاء راشدین حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت علیؓ کی معرفت انہیں اپنا سلام بھیجا اور دُعا کا ارشاد فرمایا تھا۔ اِسی یمن میں حضرت رسول اللہ ؐ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو اپنا نمائندہ حکمراں بنا کر بھیجا تھا، اسی یمن میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی ’’زبید‘‘ میں اور صوبہ حضرموت میں حضرت ھود علیہ السلام کی قبریں ہیں اِسی میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور کی ملکہ سبا کا ’’معبد الشمس‘‘(سورج پوجنے کی جگہ) اور تخت تھا، جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک جن کی وساطت سے اپنے ہاں شام میں منگوایا تھا۔

یمن کے شہر مآرب کے قریب وہ ’’سدّ‘‘(ڈیم) واقع ہے، جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے، اِسی یمن کے علاقے ’’نجران‘‘ کے پادریوں نے محسن انسانیت حضرت محمد ؐ کی خدمت میں حاضری دی اور جنہیں مسجد نبوی ؐ میں ٹھہرایا گیا اور اپنے دینِ عیسائیت کے مطابق عبادت کی اجازت دی تھی، غرضیکہ یمن میں قدم قدم پر اسلامی نقوش ثبت ہیں آج اسلام دشمن طاقتیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ان نقوش کو مٹانے پر کمر بستہ ہیں اور جن حوثیوں کی پیٹھ ٹھوک کر اور جدید ترین اسلحہ سے لیس کر کے ’’حرمین شریفین‘‘ کا تقدس پامال کرنے کے مذموم عزائم رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں، بلکہ دُنیائے اسلام کے کروڑوں مسلمانوں کے نازک جذبات اور عقیدت و احترام کا مسئلہ ہے اگر خدانخواستہ یمن کی وساطت سے سرزمین مقدس سعودی عرب پر حملے کی جسارت کی گئی، تو یہ اس دُنیا کی آخری عالمگیر جنگ ہو گی اور مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے لئے ، جس ملک کو شہہ دی جا رہی ہے اس کا اور اس کے حامیوں کا صفحۂ ہستی سے نام و نشان مٹ جائے گا، اِسی ’’حوثیوں‘‘ کے گروہ ’’قرامطہ‘‘ نے مکہ معظمہ پر حملہ کر کے جو تباہی مچائی اور 22سال تک حجر اسود ’’القطیف‘‘ میں رکھ کر بیت اللہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور مسلمانانِ عالم کے مذہبی جذبات مجروح کئے تھے، اُمت مسلمہ اس سانحے کو دہرانے کی ہر گز اجازت نہ دے گی، نیز اُمت مسلمہ کو بھی اپنے ماضی کے ان تلخ واقعات کو ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہئے اور متحد و متفق ہو کر اسلام دشمن طاقتوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دینے چاہئیں، خوفِ طوالت کے باعث خطاب کے مندر جات مختصراً بیان کر دیئے گئے ہیں، دیگر واقعات کسی دوسری اشاعت میں پیش ہوں گے(انشا اللہ)۔

نمازِ فجر کے بعد سہانے وقت میں جامعہ خالد بن ولیدؓ کے دیدہ زیب ماحول کے نظارہ کا موقع ملا۔ یہ ایک گلشن سدا بہار کی مانند ہے، قطار میں استادہ کھجور کے درخت مدینہ منورہ یاد کرا رہے ہیں،جامعہ کی مسجد اور عمارتیں فن ِ تعمیر کا اچھوتا نمونہ ہیں، جنوبی پنجاب میں یہ مدرسہ ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے ایک ماڈل اور شاہکار ہے، اس کی بنیاد حرم مکہ معظمہ کے امام الشیخ علی عبداللہ جابر نے رکھی اور اس کا نقشہ جانشین شیخ التفسیر مولانا عبید اللہ انور ؒ نے پیش کیا تھا۔ اس جامعہ میں جدید و قدیم درس اور تربیت کا خصوصی اہتمام ہے، طلبہ اور طالبات کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے جامعہ خالد بن ولید ؓ کی مختلف مقامات پر سات شاخیں سرگرم تعلیم ہیں۔ بعد ازاں دورۂ حدیث شریف کے طلباء کے اصرار پر بخاری شریف کی ایک حدیث شریف کا درس دیا گیا اور اپنے اساتذہ کرام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ ، علامہ شمس الحق افغانی ؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ ، مفتی محمد شفیع ؒ ، مولانا محمد مسلم دیو بندی ؒ ، مولانا عبدالجبار اعظمی ؒ اور دیگر اسلاف رحمہم اللہ کے حوالے سے تعلیم دی گئی، پھر میلسی کے قریب واقع جھنڈیر کے مقام پر مسعود لائبریری دیکھنے کے لئے نامور ادیب اور شاعر مفتی سعید احمد خطیب مسجد الامین فیصل آباد اور مولانا عبدالرحمن ظفر کی رفاقت میں گئے۔ یہ نادر ونایاب کتب پر مشتمل لائبریری ’’جنگل میں منگل‘‘ کا مصداق ہے، میاں مسعود اور میاں محمود برادران نے اپنے رقبے میں کئی ایکڑ میں لائبریری تعمیر کر کے مثالی کارنامہ انجام دیا ہے، اس میں نامور اہل ِ علم کے کتب خانے خرید کر کے شامل کئے گئے ہیں، آغا شورش کاشمیری، حاجی علی ارشد اور دیگر حضرات کے نادر کتب خانے بھی اس میں آ گئے ہیں، راقم الحروف اور دیگر مصنفین کی کتب اور قدیم قلمی نسخے، مخطوطے قرآن کریم کے نادر مطبوعہ اور قلمی نسخے، مجلات و رسائل بھی زینت لائبریری ہیں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے طلباء کو اس لائبریری کا بھی مشاہدہ کرانا چاہئے۔

میاں مسعود احمد صاحب نے مہمانوں کے قیام و طعام کا بھی اہتمام کیا ہے، مختلف موضوعات کے ریسرچ سکالروں کو اس سے ضرور استفادہ کرنا چاہئے۔ کاش یہ لائبریری بڑی سڑک پر اور کسی بڑے شہر میں واقع ہوتی تو بہت سے تشنگاںِ علوم و فنون بڑی تعداد میں سیراب ہو سکتے ۔بہر نوع اس لائبریری کی دیدہ زیب اور کشادہ بلڈنگیں، اردگرد پھولوں کی کیاریاں، خوشنما روشیں، ثمر دار پودے اس کے حسن کو دوبالا کرنے کا موجب ہیں، لائبریری کی وسیع و عریض دو بلڈنگیں ہیں ان میں کتابوں کے انڈیکس، الماریاں نہایت سلیقے سے قطار اندر قطار سجائی گئی ہیں، جو میاں مسعود احمد اور میاں محمود احمد کے حُسنِ ذوق اور شائستگی کے آئینہ دار ہیں، پورے پنجاب میں یہ واحد زمیندار ہیں،جو جنگل میں علم و ادراک کی شمع جلاکر پورے علاقے کو تابناک اور منور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید :

کالم -