موجودہ بجٹ کی اہمیت

موجودہ بجٹ کی اہمیت
موجودہ بجٹ کی اہمیت

  

بجٹ ہمیشہ اہم ہوتا ہے، اس کے ذریعے حکومت آئندہ سال کے ترقیاتی پروگراموں کے لئے فنڈز مختص اور تکمیل کا ٹائم فریم مقرر کرتی ہے.صنعتکاری کے فروغ کے لئے اقدامات۔برآمدات کا ہدف مقرر اور اسے پورا کرنے کے لئے طریق کار کا تعین کرتی ہے ، ریونیو ٹارگٹ مقرر کرنے کے علاوہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے شیڈول میں ضروری رد و بدل کیا جاتا ہے،اس طرح ملک میں کاروباری سرگرمیاں فروغ پانے یا سکڑنے کا انحصار بجٹ میں دیئے گئے، موافق و نا موافق اقدامات پر ہوتا ہے ۔ موجودہ بجٹ سابقہ بجٹوں کی نسبت کافی اہم ہے، اس لئے کہ حکومت سے باہر بعض جماعتوں نے موجودہ حکومت کا پورا عرصہ قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرنے میں ضائع کیا ہے۔ حکومت اپنے ترقیاتی ایجنڈ ے کو الیکشن سے پہلے مکمل کرنے میں کوشاں ہے تاکہ اپنے وعدوں کی تکمیل میں انتخابی مہم کے دوران سرخرو ہو سکے۔اپوزیشن کی دعویدار جماعتیں ترقیاتی کاموں اور خوشحالی کے بڑے منصوبوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں حکومت کی ناکامیوں کا ڈھنڈورا پیٹ کر ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ ایوانہائے صنعت و تجارت اور صنعتی وتجارتی ایسوسی ایشنیں اپوزیشن میں موجود بیشتر جماعتوں کے تلخ دور دیکھ چکی ہیں، جب تین اور چار گھنٹوں کے بعد ایک گھنٹے کے لئے بجلی ملتی تھی۔ جب فیکٹریاں بند رہنے لگی تھیں ، جب صنعتکار دیگر ملکوں میں شفٹ ہونے لگے تھے۔ مارکیٹوں میں ہو کا عالم طاری رہتا تھا۔

جب صنعتکاروں اور کاروباری طبقہ کی چیخ و پکار کے باوجود اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کا ایک یونٹ بھی لگانے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ، جب کرپشن آلود رینٹل پاور اسٹیشن منگوائے گئے اور صارفین کو قائل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں کہ طویل دورانیہ کی لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لئے باہر سے منگوائے گئے پاور اسٹیشنوں کی بجلی خریدنے پر تیار ہو جائیں۔جب صنعتی یونٹوں کے سامنے درخت لگانے کے نام پر انتظامیہ کو لوٹا گیا۔جب گیمز کے نام پر کروڑوں روپے ہڑ پ کئے گئے۔ خدا خدا کرکے 2013 ء کا الیکشن آیا اور کاروباری طبقہ کو تاریک دور سے نکلنے کی روشنی ملی۔ کاروباری طبقہ میاں محمد نواز شریف کی موجودہ حکومت اور پنجاب میں میاں محمد شہباز شریف کی حکومت کو غنیمت سمجھتا ہے۔اس کی بیشتر کاروباری پالیسیاں بزنس دوست ہوتی ہیں۔ حکومت نے صنعتوں کے لئے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دی ہے۔بجٹ کی تیاری میں ایوانہائے صنعت و تجارت کی سفارشات کو کافی حد تک پذیرائی دی جاتی ہے۔کاروباری طبقہ کے مطالبہ پر حکومت نے اداروں پر چھاپے مارنا اور بزنس کمیونٹی کو پریشان کرنا سختی سے منع کر دیا ہے، 2013ء کے الیکشن میں بھرپور کامیابی کے فوری بعد میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے خارجہ سرمایہ کاری لانے، بجلی کی پیداوار بڑھانے اور اندرون ملک صنعتوں کو چلانے کے لئے دن رات کام شروع کیا۔ ایک اپوزیشن جماعت نے پہلا بڑا معرکہ یہ مارا کہ الیکشن میں دھاندلی کے نام پر اسلام آباد میں دھرنا دیا۔جہاں کنٹینر پر کھڑے ہو کر پارٹی سربراہ ہر روز امپائر کی انگلی اٹھنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ملک بھر بالخصوص اسلام آباد کی مارکیٹوں پر شدید مندے کی کیفیت طاری رہی۔ اس کے بعد حکومت یکے بعد دیگر ے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کا افتتاح اور دوست ملکوں کے ساتھ اشتراک کار کے لئے بات چیت کرتی رہی ۔

اپوزیشن جماعتیں اصلاح احوال کے لئے تعاون دینے کی بجائے ترقی و فلاح کے حکومتی کاموں میں کیڑے تلاش کرتی کاروباری ماحول خراب کرتی رہیں۔ سی پیک کو معلق و موخر کرانے اور اسلام آباد کو یرغمال بنانے کے لئے سازشوں کا جال پھیلایا اور پورا زور لگایا۔ناکامیوں کے بعد پانامہ لیکس کے ذریعے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان پر کیچڑ اچھالنے کا موقع تلاش کر لیا۔ پہلے مرحلہ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا .سچ کو آنچ نہیں اُمید ہے کہ وزیر اعظم آئندہ بھی سرخرو ہوں گے۔سیاست دانوں کی پیدا کردہ مشکلات کے باوجود کاروباری طبقہ نے حتی الامکان کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی ہیں تاکہ اہل وطن کے لئے تلاش معاش کے راستے کھلے رہیں اور حکومتی مشینری کو رواں دواں رکھنے کے لئے ریونیو فراہم ہوتا رہے۔اپوزیشن جماعتوں کے پاس اب کوئی ایسا ایشو موجود نہیں، جس پر سوار ہو کر سرپٹ دوڑتی ہوئی الیکشن میں داخل ہو سکیں ۔ خواہ مخواہ انتشار پیدا کرنے کی حرکتوں کو کاروباری طبقہ سخت ناپسند کرتا ہے، اس لئے کہ افراتفری کے ماحول میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔بزنس کمیونٹی خاموش ہے، لیکن خاموشی کی زبان سے سیاست دانوں کے لئے اس کا پیغام ہے کہ تین سال تک ملک میں افرا تفری پیدا کرکے کاروباری ماحول کو کافی نقصان پہنچا یا۔اب ملک پر رحم کریں اور اسے ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے دیں . سیاست دان صرف اپنا مثبت پروگرام عوام تک ضرور پہنچائیں کوئی ایسا پروگرام نہ بنائیں جو کاروباری سرگرمیوں میں تعطل پیدا کرنے کا باعث بنے۔

حکومت کے لئے کاروباری طبقہ کا پیغام یہ ہے کہ موجودہ بجٹ چونکہ الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے آ رہا ہے .چھوٹی چھوٹی کمزوریوں کو اچھالنے اور منفی پروپیگنڈ ے کے لئے بعض عناصر ہمہ وقت تاڑمیں رہتے ہیں، اس لئے بجٹ میں ایسے اقدامات کریں کہ کاروباری طبقہ حکومت کے مزید قریب آئے۔ حکومت اور کاروباری طبقہ دونوں ملکی معیشت میں بہتری لانا اور عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، اس لئے باہمی مشاور ت کے عمل میں تسلسل و تواتر پیدا کریں . ٹیکسوں کی تعداد اور حجم میں اضافہ ہرگز نہ کیا جائے۔ ایسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا اہتمام کیا جائے، جن کی شمولیت سے ریونیو میں اضافہ اور حکومت کے ساتھ بزنس کمیونٹی کے روابط میں کسی قسم کی تلخی پیدا نہ ہو۔ سستی ترین بجلی کے حصول میں آبی ذرائع موثر ترین ثابت ہوسکتے ہیں، اس لئے موجودہ بجٹ میں حکومت بھاشا اور کالا باغ ڈیم کو فراموش نہ کرے ۔ زیر تعمیر و تکمیل بجلی منصوبوں کی کڑی نگرانی کا بندوبست کیا جائے تاکہ موجودہ سال کے آخر اور آئندہ سال کے پہلے تین مہینوں میں ان سے وافر بجلی ملنے لگے۔ اس کے نرخوں میں کمی پر بھی توجہ دی جائے، .بجلی کی کمیابی اور گرانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے، تمام علاقوں سے بلوں کی پوری وصولی نہیں ہو رہی۔ موجودہ بجٹ میں ایسے اقدامات ضرور کئے جائیں کہ سب لوگ بجلی کا بل دیں۔اس میں ایم این اے ایم پی اے اور بلدیاتی نمائندوں کی خدمات سے ضرور استفاد کیا جائے۔ جن علاقوں سے پورے بل وصول ہوتے ہیں، ان کے لئے حکومت ریلیف پیکیج کا اعلان کرے تاکہ بلوں کی ادائیگی کا رجحان بڑھے . چند ماہ قبل اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایکو ممالک کی کانفرنس میں کافی حوصلہ افزا فیصلے ہوئے تھے۔موجودہ بجٹ کے ذریعے ایکو ممالک کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ان ملکوں کے ساتھ تجارتی وفود کے تبادلوں کا اہتمام بھی باہمی کاروباری حجم بڑھانے میں کافی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی اور ایران کے ساتھ برادرانہ رشتوں میں تازگی پیدا کرکے تجارتی تعلقات میں گرم جوشی پیدا کی جائے ۔

مزید :

کالم -