بلی کے گلے میں گھنٹی

بلی کے گلے میں گھنٹی
 بلی کے گلے میں گھنٹی

  

پاناما لیکس کے فیصلے نے شکست خوردہ اپوزیشن کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ وہ تین فاضل جج صاحبان کے فیصلے کو تسلیم بھی کرتے ہیں، لیکن دو جج حضرات کے فیصلے کو اپنی فتح کا نشان بنائے ہوئے ہیں، حالانکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ دُنیا بھر میں فیصلوں پر اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں، مگر جو شور یہاں برپا ہے، کہیں نہیں ہوتا۔۔۔ اس کے باوجود اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے صادق اور امین نہ رہنے کا واویلا بھی کر رہی ہیں اور ان کے حکومت اور اقتدار میں نہ رہنے کے اخلاقی جواز کی تشہیر کر کے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں تاکہ ان پر سیاسی دباؤ بڑھایا جائے اور وہ رضاکارانہ طور پر حکومت سے الگ ہو کر نئے انتخابات کا اعلان کریں، جس کا کوئی آئینی جواز نہیں۔ آئین کے تحت انتخابات میں ابھی پورے ایک سال کا عرصہ موجود ہے۔

حکومت ترقیاتی کاموں کو پورا کروانے میں مصروف ہے اور اپوزیشن نئی سیاسی صف بندی کے ساتھ اتحادوں کی تشکیل کی کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔۔۔اس وقت سب کی توجہ پنجاب پر مرکوز ہے، جہاں شہباز شریف ترقیاتی کاموں اور عوامی خدمات میں سب کو قبل از وقت پریشان کئے ہوئے ہیں۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو اپنا اکثر وقت لاہور میں گزارتے، پارٹی کی تنظیم نو کرنے کے ساتھ پرانے جیالوں اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششوں میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ مخدوم فیصل صالح حیات کو واپس بلا کرپرویز مشرف کا ساتھ دینے والے پیپلز پارٹی کے محب وطن کو واپس لانے کا ٹاسک بھی دے دیا گیا ہے تو اس کے ساتھ براہِ راست آبائی نشستوں والے امیدواروں کے ساتھ بھی رابطے شروع ہیں۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو، شہباز شریف کو براہِ راست للکار کر پنجاب کو فتح کرنے اور چاروں صوبوں میں اپنی حکومتیں بنانے کی خوشخبری سنا کر پارٹی کے جیالوں اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سیاسی حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں سندھ میں مسلم لیگ(ن) کی سرگرمیوں اور گورنر سندھ کے سیاسی رہنماؤں سے رابطوں نے پریشان کر رکھا ہے۔ مزید یہ کہ تحریک انصاف کے عمران خان کی سندھ میں پیشرفت سابق وزیراعلیٰ اور وفاقی وزیر لیاقت جتوئی اور ان کے ساتھیوں کی پارٹی میں شمولیت نے بھی پیپلز پارٹی سندھ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ممتاز بھٹو کی تحریک انصاف میں شمولیت بھی پیپلز پارٹی کے لئے مزید پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی کی قیادت پنجاب کو ہدف بنائے ہوئے ہے۔ ایسی ہی صورتِ حال تحریک انصاف کی بھی ہے۔ تحریک انصاف کی پختونخوا میں حکومت ہے،لیکن وہ اپنی کارکردگی سے عوام کو متاثر نہیں کر سکی۔ اس کی بھی تمام توجہ پنجاب پر ہے، کیونکہ اس کی موجودہ سیاسی پوزیشن بھی پنجاب کی نشستوں کی وجہ سے ہے۔ اس کی خواہش اور کوشش ہے کہ نہ صرف پنجاب کی موجودہ پوزیشن برقرار رکھی جائے،بلکہ اس میں دو گنا تک اضافہ کیا جائے۔ کیا ایسا ممکن ہوگا؟۔۔۔ یہ سوال قبل از وقت ہے۔۔۔ یہ نئے انتخابات کی باتیں ہیں، لیکن اس وقت حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کوئی بھی ضمنی الیکشن جیت نہیں سکی۔ اس کی پوزیشن پہلے سے بھی کمزور ہوئی ہے، اس کا تمام انحصار پنجاب پر ہے،جہاں اسے شہباز شریف جیسے سیاسی کھلاڑی سے واسطہ ہے۔

ان دو بڑی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ (ق) جیسی جماعت اور قیادت بھی ہے، جسے انتخابی اور ڈرائنگ روم سیاست کا ماہر قرار دیا جاتاہے۔ اس نے تین دینی سیاسی جماعتوں کو اپنا ہم نوا بنا لیا ہے اور جماعت اسلامی کے ساتھ بھی رابطہ مضبوط کر رکھا ہے، جو پختونخوا میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ،گزشتہ دِنوں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی نظام کو وزیراعلیٰ نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ہم بلدیاتی نظام کے حقوق کے لئے عدالت میں پٹیشن دائر کریں گے جو اصل میں کراچی بلدیہ پر قبضے اور پیپلز پارٹی کے خلاف احتجاج کی ایک خواہش ہے، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب میں ہریالی اور خوشحالی کا دعویٰ محض دکھاوا ہے۔ پنجاب میں محرومیاں ختم کر کے خوشحالی ہم لائیں گے۔ تبدیلی صرف ایم کیو ایم پاکستان ہی لا سکتی ہے۔ گویا وہ بھی پنجاب میں کسی نہ کسی اتحاد کا حصہ بن کر اپنے تھوڑے سے ووٹ بینک کو، جو مخصوص انتخابی حلقوں میں ہے،وسیع تر مفاد میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔پنجاب کا یہ سیاسی منظر نامہ نئی صف بندیوں اور نئے اتحادوں کے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے،جس کو نئے انتخابات کی تیاری بھی کہا جا سکتا ہے،لیکن اس کا بنیادی مقصد پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی دیرینہ بالا دستی، طویل اننگز کا خاتمہ اور شہباز شریف کو بولڈ کرنا ہے۔ انتخابات کے لئے سیاسی چوہے بلوں سے باہر آ گئے ہیں اور وہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بلی کے باہر نکلتے ہی سب اپنے اپنے بلوں کی طرف پلٹ جائیں گے اور اپنی اپنی جان بچانے میں ہی تحفظ سمجھیں گے، کیونکہ شہباز شریف محض بلی نہیں، جو شیر کی خالہ ہوتی ہے، وہ خود شیر پنجاب ہیں اور انہوں نے اپنے ترقیاتی کاموں، حسن کارکردگی اور سیاسی سرگرمیوں سے یہ ثابت بھی کیا ہے اور پوری دُنیا سے اس کو تسلیم بھی کروایا ہے۔ شیر کا شکار چوہوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام کوئی ماہر اور تجربہ کار شکاری ہی کر سکتا ہے ،جو اس وقت سیاسی میدان میں کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا۔

مزید :

کالم -