شریفوں پر کرپشن کا الزام اور بیگم کلثوم نواز

شریفوں پر کرپشن کا الزام اور بیگم کلثوم نواز
 شریفوں پر کرپشن کا الزام اور بیگم کلثوم نواز

  


اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی ایک درخواست دائر کی گئی ،اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر اس درخواست میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر گرفتار افراد کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی ۔ملک کی کسی بھی عدالت میں اس فوجی حکومت کے خلاف یہ پہلی درخواست تھی ،اس وقت نجی نیوزچینلز کا وجود نہیں تھا ۔تمام اخبارات نے اس کیس کی کوریج کے لئے خصوصی اہتمام کررکھا تھا اور سینئر صحافی اس مقدمہ کی رپورٹنگ کے لئے عدالت میں موجود ہوتے تھے۔ اس وقت کے چیف جسٹس راشد عزیز خان کی سربراہی میں قائم فل بنچ اس درخواست کی سماعت کررہا تھا۔ حسین نواز کی اہلیہ ،جوپاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں ،تقریباً ہر پیشی پر عدالت میں موجود ہوتی تھیں۔ ایک روز بیگم کلثوم نواز بھی ان کے ہمراہ ہائی کورٹ آئیں۔کمرہ عدالت کا ماحول مثالی نہیں ہوتا تھا ، اے کے ڈوگر کو گلہ رہتا تھا کہ جج صاحبان ان کے دلائل پر پوری توجہ نہیں دیتے اوران سے کوئی سوال نہیں کرتے، اے کے ڈوگر کی وکالت کا اپنا انداز ہے ،ایک روز انہوں نے دلائل کے دوران انتہائی بلند آواز میں ڈیموکریسی کے انگریزی ہجّے کردیئے جس پر بنچ کے ایک فاضل رکن جسٹس ملک محمدقیوم نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان سے کہا کہ آپ نے ہجّے کیوں کئے ہیں ،جس پر اے کے ڈوگر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ "I thought, you were dozing off"(میں سمجھا آپ اونگھ رہے ہیں )۔ اور پھر ایک لطیفہ ہو گیا۔

ایک اخبار نویس نے ’’ڈوز‘‘ کا مطلب شراب کی چسکی لیا اور دوسرے روز ان کے اخبار نے اے کے ڈوگر کے اس انگریزی فقرے کا اردو ترجمہ کچھ اس انداز میں شائع کیا "میں سمجھا آپ ’’پی‘‘ کر بیٹھے ہوئے ہیں "۔ہاں تو بات ہو رہی تھی بیگم کلثوم نواز کی ہائی کورٹ میں آمد کی ۔اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے فل بنچ سے استدعا کی کہ بیگم کلثوم نواز کو روسٹرم پر آنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی اجازت دی جائے ،عدالت نے یہ استدعا منظور کرلی ۔مجھے ابھی تک یاد ہے،بیگم کلثوم نواز روسٹرم پر آئیں اور انہوں نے اپنے زیرحراست بیٹے حسین نواز کے حوالے سے عدالت کو بتایا کہ وہ ان کا درویش بیٹا ہے جسے بلا وجہ قید میں رکھا گیا ہے ۔میں نے دیکھا بیگم کلثوم نواز کے لہجے میں اپنے بیٹے کے لئے ایسا درد اور ممتا کی تڑپ تھی کہ فاضل بنچ کے تمام ارکان اپنی نشستوں پر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔کلثوم نواز نے حسین نواز کے لئے ایک سے زیادہ بار درویش کا لفظ استعمال کیا ۔بیگم کلثوم نواز کے طرز تخاطب میں ایک طرف اپنے خاندان کی بے گناہی کا یقین تھا تو دوسری طرف ایک ممتا کی التجا تھی۔عدالت برخاست ہوئی تو صحافیوں کو بیگم کلثوم نواز سے گفتگو کا موقع مل گیا۔ سعید آسی ، ریاض شاکر، رانا سہیل، ساجد ضیا اور سیدعمران شفقت سمیت وہاں موجود دیگر اخبار نویس گفتگو کے لئے پر ہی تول رہے تھے کہ ایک سینئر صحافی جلیل الرحمن نے جھٹ سے سوال داغ دیا کہ آپ کے شوہر پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

بیگم کلثوم نواز نے نہ صرف اس الزام کی پُرزور تردید کی بلکہ صحافیوں سے کہا کہ آپ لوگ ہماری کرپشن کے کم ازکم کسی ایک واقعہ کی نشاندہی کر دیں۔ وہ صحافی بھائی کرپشن کے اپنے سوال پر معصر رہے تو بیگم کلثوم نواز بھڑک اٹھیں ، ان کے لئے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا لگتا تھا کہ وہ سوال کرنے والی صحافی پر جھپٹ پڑیں گی۔ اخبار نویسوں اور بیگم کلثوم نواز کے درمیان طعنہ نما تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور خبر بن گئی۔ میری یادداشت کی لوح پر یہ منظر پوری طرح محفوظ ہے، کرپشن کے سوال پر بیگم کلثوم نواز کے چہرے پر کرب اور اذیت کے جو تاثرات ابھرے وہ ان سے کہیں گہرے اور دکھ بھرے تھے جو حسین نواز کی حراست کے حوالے سے اپنا موقف بیان کرتے وقت ان کے چہرے پر تھے ۔مجھے لگا کہ انہیں اپنے شوہر کی ساکھ اور عزت اپنے بیٹے کی رہائی سے زیادہ عزیز ہے ، اپنے اس بیٹے کی رہائی سے بھی زیادہ جسے وہ بار بار درویش کہہ رہی تھیں ۔حکومت کی طرف سے نواز شریف کے خلاف اس وقت تک کرپشن کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا تھا۔ ان پر جو مقدمہ بنا تھا وہ جہاز کے اغوا کا تھا یعنی زمین پر بیٹھے شخص نے فضا میں اُڑتا جہاز اغوا کر لیا اور جو جہاز کے کاک پٹ میں بیٹھا تھا اس کا کوئی کردار نہ تھا۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنی حکمرانی کے دوران بارہا اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں دھکادیا گیا تھااگرانہیں دھکا نہ دیا جاتا تو آج بھی نواز شریف وزیراعظم ہوتے،اس کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف کو کرپشن کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس وجہ سے وزارت عظمیٰ سے جبراً ہٹایا گیا تھا کہ انہوں نے پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدہ سے فارغ کردیا تھا۔

آج جب میں پاناما لیکس کے حوالے سے میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے ساتھ ساتھ ان کی صاحبزادی پر سیاسی مخالفین کی تیر اندازیاں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کرپشن کے محض ایک سوال پر دکھ کی تصویر بن جانے والی بیگم کلثوم نواز کا اب کیا حال ہوگا؟کیا اپنے شوہر کے کرپشن سے پاک کردار پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے والی خاتون اپنے بچوں کو لوٹ مار کی اجازت دے سکتی ہے ؟پاناما کیس میں اب جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بن چکی ہے جو سپریم کورٹ کی طرف سے فراہم کردہ سوالات کے جواب تلاش کرے گی ۔وزیراعظم کے سیاسی مخالفین جن میں بڑے بڑے قانون دان بھی شامل ہیں کہہ رہے ہیں کہ قطری خط کو سپریم کورٹ کے پانچوں ججوں نے مسترد کردیا ہے ۔ان کے اس بیان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔عدالت نے خط مسترد نہیں کیا بلکہ جے آئی ٹی کو اس خط کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ پتہ چلایا جائے کہ حمدبن جاسم بن جبرآل ثانی کے عدالت میں پیش کئے جانے والے خط کی کیا حقیقت ہے ۔

یہ خط وزیراعظم کی طرف سے نہیں بلکہ ان کے بچوں کی طرف سے عدالت میں پیش کیا گیا تھا ،اس لئے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ یہ خط وزیراعظم کا بنیادی دفاع تھا اور عدالت نے اسے مسترد کردیا تھا۔یہی عدالت قرار دے چکی ہے کہ اولاد کے جرم کی سزا والدین کو نہیں دی جاسکتی ۔عدالتی حکم کی روشنی میں اب جے آئی ٹی اس بات کا پتہ چلائے گی کہ یہ خط ایک حقیقت ہے یا فسانہ ؟ جے آئی ٹی کو اس بات کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ معلوم کیا جائے کہ گلف سٹیل ملز کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا ،یہ سرمایہ جدہ،قطر اور برطانیہ کیسے منتقل ہوا اور یہ کہ آف شور کمپنیوں کے حقیقی اور بینی فیشل مالکان کون ہیں؟عدالت نے حسین نواز کی طرف سے اپنے والد کو تحفہ کے طور پر دی جانے والی رقوم کی انکوائری کا بھی حکم دیا ہے ۔پاناما لیکس کے حوالے سے ایک ہنگامہ سا بھرپا ہے ۔الزامات کی دھول اڑرہی ہے ،اسی کے اندر کہیں حقیقت چھپی ہے ۔میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کو مکمل طور پر معصوم نہیں سمجھتا ۔میں کبھی کبھی قائل ہوجاتا ہوں کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات درست ہیں لیکن آج سے تقریباً18سال پہلے لاہور ہائی کورٹ میں بیگم کلثوم نواز کو مَیں نے ایک ماں اور ایک بیوی کی حیثیت سے جس طرح اپنے خاندان کے شفاف کردار کے حوالے سے پُراعتماد اور پُریقین دیکھا تھا، اسے یاد کرتا ہوں تو عمومی سوچ کے ساتھ بہنے والی اپنی رائے کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتاہوں ۔

مزید : کالم