امیدوں کا محور

امیدوں کا محور
امیدوں کا محور

  

میرے بھولے پاکستانیو! ہمارا ملک جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس کے پیچھے ایک مخصوص لابی ہے جو دیمک کی طرح اس ملک کو کھانے پر لگی ہوئی ہے اور عرصہ دراز سے مزید کھانے کے چکروں میں ہے۔ اس لابی کا مکمل صفایا تب ہی کیا جا سکتا ہے جب ہم ایک قوم اور ایک جان ہو کر اس کا مقابلہ کریں گے ورنہ اس ملک کی جڑیں مزید کھوکھلی ہوتی چلی جائیں گی اور آنے والی نسلیں بھی اس کا شکار ہو جائیں گی اور اس مخصوص لابی کا نام کرپشن ہے جس کے پیچھے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں اور کیوں نہ پڑیں جس شخص نے کبھی ٹیم میں رہتے ہوئے بطور کھلاڑی یاکپتان کبھی کوئی غلط بات برداشت نہ کی ہو وہ کیسے ملک کو کھوکھلا کرنے والے لوگوں کو برداشت کرے گا۔ عمران خان کی مسلسل کرپشن کے خلاف جدوجہد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ثابت قدم رہتے ہوئے اس ملک کے حاضر وزیراعظم کو نہ صرف نااہل کروانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ان کے ساتھیوں کو بھی اس صورت حال سے دوچار کروایا جس کی سزا میاں صاحبان اور ان کے ساتھی بھگت رہے ہیں۔

یہ عمران خان کا اعلیٰ ظرف ہے کہ ان کی خواتین ورکر کے خلاف نازیبا گفتگو کی گئی اور عمران خان یا ان کے کھلاڑیوں نے انہی لوگوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے الزامات لگائے۔ نہ ان کی خواتین ورکر کے لئے کچھ کہا اور نہ ان کی ذاتیات کو نشانہ بنایا۔ تو میرے بھائیو! ہم سب کو معلوم ہے کہ ادارے کتنے مضبوط ہیں اور کون سے ادارے میں کتنی کرپشن کی جا رہی ہے۔ لوگ کس طرح چھوٹے سے چھوٹے کام کے بڑے سے بڑی رقم بنا کر ہتھیا کر کس طرح بیرون ملک و اندرون ملک اپنے نام، اپنے پیاروں کے نام، رشتہ داروں کے نام، دوستوں کے نام، بچوں کے نام، بیگم کے نام کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کی جا رہی ہے۔ کس کا نام ای سی ایل میں شامل ہے اور کس کا نہیں، کون ہے جو عدالت سے استثناء مانگ رہا ہے اور کون ہے جو اپنی نااہلی کو غلط ثابت کرنے پر لگا ہوا ہے۔ شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم، ایان علی کی کرپشن کی باتیں تو سننے کو ملتی ہی تھیں جو اب فواد حسن فواد بھی اس لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں۔

وہ وقت دور نہیں جب فواد حسن فواد سمیت ان تمام لوگوں کو اپنے کئے کی سزا کاٹنی پڑے گی اور ملک کا لوٹا ہوا پیسہ ملک کے اکاؤنٹس میں ہی شامل ہوگا۔

پاکستان ہمارا آزاد ملک ہے مگر ہم 70 سال گزرنے کے باوجود بھی غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، بڑے بڑے اداروں کے سرکاری ملازم ہوں یا کاروباری حضرات، ملازمت سے وابستہ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلائیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ عوام اس الیکشن میں قائد پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی پارٹی کے تمام ٹکٹ ہولڈر کو کامیاب کروائیں تاکہ ملک میں جاری بے یقینی کی صورت حال کا خاتمہ کر کے عوام کو ذہنی اور معاشی طور پر مضبوط کیا جا سکے، کیونکہ عالمی میڈیا ہو یا ملکی میڈیا اس وقت پاکستان کی امیدوں کا محور عمران خان ہے اور عمران خان نے جس طرح ملک کو چوروں، لٹیروں سے نجات دلانے میں اہم کردر ادا کیا ہے اسی طرح اب ہم لوگوں کی باری ہے کہ عمران خان کا بھرپور ساتھ دے کر پاکستان کے روشن مستقبل کی امید رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -