آزادی صحافت سے کیا مراد ہے؟

آزادی صحافت سے کیا مراد ہے؟
آزادی صحافت سے کیا مراد ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ہر سال عالمی یوم صحافت کے موقع پر صحافتی تنظیمیں آزادی صحافت کی افادیت اجاگر کرنے کے علاوہ لکھنے اور بولنے کی راہ میں حائل مشکلات دور کرنے کے مطالبات دہراتی ہیں، لیکن عمیق وابستگی کے باوجود ہماری ریاست اور میڈیا کے درمیان کوئی توازن قائم نہیں ہو سکا۔معاصر عزیز روزنامہ ڈان نے لکھا ہے کہ،بڑے میڈیا ہاؤسیز نے کئی مستقل کالم نگاروں کو آگاہ کیاکہ اب اخبار ان کے کالم شائع نہیں کر پائے گا،اخبار’’دی نیوز‘‘ میں دس سال سے لکھنے والے کالم نگار مشرف زیدی کو اپنا تازہ آرٹیکل ٹویٹر پر پوسٹ کرنا پڑا،بابر ستار ایڈووکیٹ کا آرٹیکل شائع نہ ہوا تو انہوں نے ٹویٹر پر The age of freely controlled media ہیش ٹیگ کیا،متذکرہ اخبار نے اپنی ویب سائٹ سے بعض لکھاریوں کے پرانے مضامین تک ڈیلیٹ کر ڈالے،ڈیلی ڈان کے مطابق پاکستانی پریس اگرچہ سینسر شپ کی پابندیوں سے ناواقف نہیں، اسی میڈیا نے کئی دہائیوں تک فوجی آمریتوں کو جھیلا، تاہم میڈیا گروپوں کے باہمی تنازعات نے غیر جمہوری پابندیوں کے خلاف صحافیوں کی قوت مدافعت کو کمزور کیا۔اس لئے عالمی سطح پر آزاد صحافت کے تحفظ اور کارکن صحافیوں کے خلاف جرائم کو قانون کی قوت قاہرہ سے روکنے کی پکار کے پہلو با پہلو پاکستان میں آزادی صحافت زوال پذیر رہی،صحافیوں کے حقوق پر نظر رکھنے والے فریڈم نیٹ ورک (FN) نے مئی 2017ء سے اپریل 2018 ء کے درمیان پاکستان میں صحافیوں پر 157 سے زاید حملے ریکارڈ کئے،جن میں صرف اسلام آباد میں صحافیوں پر تشدد کے 55 واقعات شامل ہیں۔اخبار نے لکھا کہ عسکریت پسندی کے خطرات کم ہوئے تو وفاقی دارالحکومت صحافیوں کے لئے خطرناک شہر بن گیا۔اگر ہم عسکری تنظیموں اور ریاستی اداروں کی طرف سے صحافیوں پر دباوکے اصل محرکات کو سمجھنے اور آزادی صحافت کی نوعیت اورحدود و قیود کے تعین کی کوشش کریں تو کئی دلچسپ حقائق سامنے آئیں گے۔

بلاشبہ جب تک تحریر و تقریر کی حامل قوتیں فقط علمی واخلاقی بنیادوں پر ریاست کے مقابل کھڑی رہیں اس وقت تک تحریر و تقریز کی آزادی ضرور کوئی معنی رکھتی ہو گی، لیکن جب سے کارپوریٹ میڈیا سیاست کی حرکیات کا ٹول اور کسی نہ کسی صورت اقتدار کا جز بنا تو آزادی صحافت کی ہیت بدل گئی۔انقلاب فرانس سے قبل والٹیر کے عہد میں اہل قلم نے کلیسا کے مذہبی تعصبات اور ریاستی استبدادکے خلاف قلم کے ذریعے موثر مزاحمت کر کے یورپی معاشروں کو مذہبی و سیاسی آزادیاں دلوانے میں اہم کردار ادا کیا،اسی لئے نپولین نے کہا تھا کہ ’’اگر بوربون خاندان آلات تحریر کو کنٹرول کر لیتا تو اگلے سو سال تک اس کی حکومت قائم رہتی‘‘۔۔۔ لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد جب کارپوریٹ میڈیا کی وسیع سلطنتیں وجود میں آئیں تو ان کا ایک سرا ایوان اقتدار کو اور دوسرا عوام کے دل و دماغ سے منسلک ہو کے اظہار رائے کے تمام قرینوں کو کنٹرول کرنے لگا،اب میڈیا خود لاشعوری طور پر شہریوں کی سوچنے اور بولنے کی صلاحیت پر اپنا غیرمرئی تصرف چاہتا ہے۔ان دنوں،ہمارے سماج میں،اسی نوع کی جس آزادی صحافت کا رومانس پروان چڑھ رہا ہے،یوروپ و امریکہ کی صحافت اس رجحان سے بہت آگے نکل کے حقیقت کی دنیا میں داخل ہو چکی ہے،کیا ہمارا میڈیا اپنے قول و عمل میں کسی قانونی جوابدہی یا اخلاقی بندش سے بے نیاز اور خبر کے نتائج سے بے پرواہ ہو کے ہر بات کہنے کا لامحدود حق مانگ رہا ہے؟اگر ایسا ہے تو یہ عملاً ممکن نہیں اور ایسی آزادی ریاست و معاشرے کے علاوہ خود میڈیا کی اپنی بقا کے لئے بھی مہلک ثابت ہو گی۔

آزادی جو دراصل ایک تخیل اور رجحان کانام ہے،کی پہلی شرط اس کی پابندی ہے،چار ہزار سال کے تجربات کے بعد،انسان نے آزادی کو ریاست کی صورت میں منظم کیا،اگر ریاست منتشر ہوئی تو آزادی غائب ہو جائے گی،تاہم آزادیِ صحافت کا فلسفہ اب بھی غیر واضح اور ایسا پیچیدہ تخیّل ہے،دنیا بھر کی صحافتی دانش جس کی حدود و قیود کا تعین نہیں کر سکی۔البتہ مغربی سماج نے طویل کشمکش کے بعد1791ء میں امریکی آئین میں پہلی ترمیم کے ذریعے،سینسرشپ کے بغیر اپنی رائے کو چھاپنے اور سرکولیٹ کرنے کا حق پایا،پچھلے دو سو سال میں مغربی میڈیا نے قانونی فریم ورک کے اندر اپنے لئے ایک مناسب گنجائش پیداکر لی، جس میں وہ خود بھی محفوظ و مامون ہوا اور سوسائٹی بھی اس کی طاقتور لہروں سے بچ گئی، لیکن ہمارا سماج ابھی تک میڈیا کی قوت کو ریگولیٹ نہیں کر سکااور یہاں ہزاروں متضاد خبروں کا سیلاب کنفیوژن بڑھا کے معاشرے کی فکری وحدت کو منتشر کر رہا ہے۔

بلاشبہ انفارمیشن ایک قسم کی طاقت ہے اور اس طاقت کے درست استعمال کا آرٹ جاننے والے ہی آزادی کے مستحق ہو سکتے ہیں، لیکن جب سے صحافت کو ٹرانسفارمیشنل ڈپلومیسی اور رموز حکمرانی کے ٹول کے طور پر استعمال کیا جانے لگا،اس وقت سے آزادی صحافت کا سوال اور اس کے جوابات بدل گئے۔ اب صحافت کی آزادی سے زیادہ معاشرے کے اذہان کو غیر محدود ابلاغ کے منفی اثرات سے بچانا زیادہ اہم ہو گیا ہے،اگرچہ درست انفارمیشن کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے ،لیکن دنیائے انسانیت اطلاعات کے حصول کے لئے جن ذرائع ابلاغ پر انحصار کرتی ہے وہ انہیں تراشیدہ اور حقائق کے منا فی خبروں کی فراہمی کے ذریعے گمراہ بھی کر سکتے ہیں،اس خدشہ کی تصدیق،حال ہی میں دنیا کے سب سے طاقتور اخبار نیویارک ٹائمز کے سابق چیف آف سٹاف جان سونٹن کے نیویارک پریس کلب میں آزادی صحافت بارے پوچھے گئے سوالات کے جواب سے ہوتی ہے،جان سونٹن نے کہا کہ’’دنیا کی تاریخ میںآج تک امریکہ میں آزاد صحافت نام کی کوئی چیز نہیں،یہ بات آپ بھی جانتے ہیں اور مجھے بھی اس کا علم ہے،آپ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنی دیانتدارانہ رائے تحریر کر سکے،اگر آپ ایسا کرتے ہیں توآپ کو پہلے سے ہی علم ہوتا ہے کہ یہ کبھی شائع نہیں ہو گی، مجھے ہر ہفتے اس بات کا معاوضہ ملتا ہے کہ اپنی دیانتدارانہ رائے کو اُس اخبار سے دور رکھوں، جس سے میں منسلک ہوں،آپ سب کو بھی اسی کام کی ایسی ہی تنخواہ ملتی ہے، آپ میں سے کوئی بھی دیانتدرانہ رائے لکھنے کی بے وقوفی کرے گا تو نئی نوکری کے لئے گلیوں کی خاک چھان رہا ہو گا، اگر مجھے کسی ایک معاملہ میں اپنی دیانتدرانہ رائے لکھنے کی اجازت دے دی جائے تو میں اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر اپنا ذریعہ معاش کھو دوں گا، صحافی کا کام ہے سچ کو برباد کرنا، سفید جھوٹ بولنا، گمراہ کرنا،بدنام کرنا، دولت کے قدموں میں دم ہلانا اور اپنے ملک اور قوم کو بیچنا تاکہ روزی کما سکے۔

یہ بات آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی،پھر یہ کیسی بے وقوفی ہے کہ ہم آزاد پریس پر روشنی ڈالیں،ہم پردے کے پیچھے بیٹھے امراء کے اوزار اور مزارع ہیں،ہم پتلیاں ہیں وہ ڈور ہلاتے ہیں اور ہم ناچتے ہیں، ہمارا ٹیلنٹ ہماری ممکنات اور ہماری زندگیاں کچھ دیگر لوگوں کی ملکیت ہیں،ہم ذہنی دانشورانہ طوائفیں ہیں‘‘ایک آزاد معاشرے کے کہنہ مشق صحافی کی زبان سے عیاں ہونے والے ان حقائق کو نظرانداز کر کے ہم جن دیومالائی آزادیوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں وہ خود ہمارے وجود کے اندر بھی پائی نہیں جاتیں،ہم کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ آزادی کا تعین کر سکتے ہیں نہ ہمارے پاس آزادی کو بروئے کار لانے کی پوری استعداد موجود ہے، اس لئے عوامی اخبارات کی ایجاد نے کم تر اذہان کو بلند کرنے کی بجائے بلند فطرت لوگوں کو گرا دیا،جس کے نتیجہ میں سیاست،مذہب،ادب حتیٰ کہ سائنس پر بھی اوسط درجہ کے لوگ چھا گئے،ہمارے اینکر حضرات سب بڑے آدمیوں کو درحقیقت معمولی آدمی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمارے مستند صحافیوں نے اپنی زندگیاں،غیراہم باتوں کو اہم ثابت کرنے میں بسر کر دیں،اسی ذہنی انحطاط نے زندگی میں کلیت ختم کر دی اور معاشرہ خیر و شر کے درمیان خط امتیاز کھنچنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا گیا،معروف امریکی دانشور مالکم ایکس نے کہا تھا کہ اگر تم ہوشیار نہیں ہو تو میڈیا تمہیں مظلوم سے نفرت اور ظالم سے محبت کرنا سکھا دے گا۔

مزید :

رائے -کالم -