A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر

ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر

مئی 10, 2018 | 12:17:PM

عائشہ نور

اصغرخان کیس کے دوبارہ کھلنے پر میرے  تخیل میں ایک طوفان امڈ آیا۔   نواز شریف کے سیاسی کیریئر کا جائزہ لیا جائے تویہ سمجھنا مشکل نہیں کہ نواز شریف جنرل ضیاء الحق مرحوم کے "سیاسی جانشین " ہیں۔ آمریت کی گود میں بیٹھ کر اپنی سیاست کی ابتداء کرنے والے نوازشریف ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر رہے۔ جب اسلامی جمہوری اتحاد  بنا تو نوازشریف نے امیرالمومنین بننے کےلیے سیاسی محاذ سنبھالا۔  اسلامی جمہوری اتحاد کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل تھی۔ یہ اتحاد بے نظیر بھٹو کی عوامی مقبولیت کا توڑتھا , کیونکہ ضیاء الحق  آمریت کی باقیات کےلیے بے نظیر ناقابلِ قبول تھیں۔  جب بےنظیر نے مبینہ طوپر آزاد خالصتان تحریک کے سرکردہ سکھ رہنماؤں کی فہرستیں بھارت کو سونپ دیں توبھارت آزاد  خالصتان تحریک کو کچلنے میں کامیاب ہوگیا۔ سکھ رہنماؤں کو چن چن کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ یہ بے نظیر بھٹو کی ایک بڑی سیاسی حماقت تھی ۔ جس کے نتیجے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کےلیے بےنظیر حکومت کا وجود ناقابلِ برداشت ہوگیا۔ اس کا بدلہ لینے کےلیے نوازشریف کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ نوازشریف کو رشوت دے کراپنے ساتھ ملالیاگیا ۔ یوں نوازشریف بے نظیر حکومت کو گرانے کےلیے خوب استعمال ہوئے۔ اس کے صلے میں  دومرتبہ بے نظیر بھٹو کو عام انتخابات میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے حالانکہ عوامی طاقت اور ہمدردیاں بے نظیر کے ساتھ تھیں ۔ ماضی میں  نواز شریف ایک  پسندیدہ ترین سیاسی مہرے رہ چکے ہیں۔ آج زمینی حقائق مکمل طور پر بدل چکے ہیں نہ وہ جرنیل رہے نا ضیاء الحق آمریت کی پیداوار ملٹری اسٹیبلشمنٹ رہی ہے ۔

  جب ڈان لیکس کا  واقعہ  ہوا تو لازماً ن لیگی حکومت گرفت میں آنی ہی تھی۔ ڈان لیکس معاملے پر جو کچھ  ہوا , وہ یقیناً ایک سنگین مذاق تھا۔ پھر یوں ہوا کہ پاکستان میں نامعلوم سیارے سے ایک خلائی مخلوق " مشن نواز شریف کو نکالو "کےلیےاتری ۔  خلائی مخلوق نے مبینہ طور پراعلیٰ عدلیہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدلیہ نے نواز شریف کا کڑا احتساب شروع کردیا۔ نواز شریف کے جرائم ثابت ہوتے گئے اور عوام کی امنگیں پوری ہوتی گئیں۔ عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کی پشت پناہی کوئی  کر رہا  ہے یا یہ تصور نواز شریف کے ذہنی دباو کا شاہکار ہے۔ عوام نے تو بس سکھ کا سانس لیا کہ تاریخ میں پہلی بار عدالتیں بدعنوان سیاسی مافیا کا احتساب کر رہی ہیں  جو ایک عرصے سے عوام کا خون نچوڑ رہے تھے۔  نواز شریف کے تخیل کے مطابق مبینہ طورپر  عمران خان بھی خلائی مخلوق کے "انوکھے لاڈلے" مہرے ہیں ۔ عوام کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ کسے کیوں نکالا گیا؟ یا کون کس کا انوکھا لاڈلا ہے؟  مگر ایک بات طے ہے کہ آمریت کی پیداوار نواز شریف نے خود کبھی اسٹیبلشمنٹ کے بغیر سیاست نہیں کی۔ جس کی وجہ سے آج موصوف کو ہر جج , ہر عدالت , ہر سیاسی حریف اور ہر سیاسی جماعت کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نظر آرہی ہے۔ اگر نواز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر میں اصولوں کی سیاست کی ہوتی اور خود کو ایک نظریاتی رہنما ثابت کیا ہوتا توان کے حالات نسبتاً بہتر ہوتے۔  آج نواز شریف دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نظریاتی ہو چکے ہیں ,مطلب ماضی میں وہ ایک مہرہ تھے  اورآج وہ اس کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ۔ آج نواز شریف کے  پاس  "نظریہ کیوں نکالا؟" کے علاوہ کچھ نہ تو کہنے کو بچا ہے اور نہ کچھ کرنے کو وقت بچا ہے۔ آج نوازشریف کو دکھ ہے تو اس بات کا کہ  اسٹیبلشمنٹ ان کا ساتھ دینے کی بجائے ان کے خلاف ہوچکی ہے۔  نواز شریف کا نظریہ "کیوں نکالا ؟ " ہو یا عدلیہ و فوج مخالف انتخابی سیاست کوئی بھی چیز نواز شریف کو اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتی۔ اگرانہوں نے ووٹ کی عزت کا نعرہ دینے سے پہلے ووٹر کو عزت دی ہوتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔

2013کے عام انتخابات میں بھی ن لیگ نے مبینہ طور پر مظفر علی رانجھا کی مدد سے 11مئی 2013کی رات کو عوامی مینڈیٹ چوری کیا۔ اگر ن لیگ کے سیاسی حریفوں کا یہ دعویٰ سچ مان لیا جائے تو تیسرے عام انتخابات بھی نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے جیتے۔ اور یوں نواز شریف نے بلاشرکت غیرے تین مرتبہ عام انتخابات کا مینڈیٹ چوری کرنے کا انوکھا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ ہی وجہ ہے آج  نوازشریف کو ہرمعاملے میں خلائی مخلوق کا ہاتھ نظرآرہا ہے۔ وہ کسی نے کیا خوب مصرع لکھا تھا "آج جو بوئے گا , کاٹے گا کل " ۔

 ۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں