آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد نئے ٹیکسوں کا انتظار

آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد نئے ٹیکسوں کا انتظار

نئے مالی سال کا بجٹ اب 11جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں حکومت نے بیشتر شرائط تسلیم کر لی ہیں تاہم ٹیکس، جی ڈی پی کے1.7 فیصد کے حساب سے لگانے کے معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ البتہ آئی ایم ایف اس مطالبے پر قائم ہے اور اگر یہ مطالبہ بھی مان لیا گیا تو بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے، آئی ایم ایف کی جانب سے 700ارب روپے کے ٹیکس استثنا ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ استثنا ختم کئے گئے تو پھر اتنے ہی ٹیکس بڑھ جائیں گے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف حکام معاشی اور مالی پالیسیوں کے بارے میں ایک ڈرافٹ تیار کر رہے ہیں، جو تین سالہ معاہدے کی بنیاد تصور ہو گا۔

پاکستان آئی ایم ایف سے پہلے بھی پیکیج لیتا رہا ہے اور عموماً بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت ٹیکس نیٹ بڑھانے کی شرائط پہلے بھی عائد کی جاتی رہی ہیں اور مانی بھی جاتی رہی ہیں،لیکن اب کی بار پیکیج کا معاملہ شاید اِس لئے زیادہ متنازع ہو گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ماضی میں بار بار آئی ایم ایف سے قرض کی نہ صرف مخالفت کرتے رہے ہیں،بلکہ اپنی تقریروں میں جوشِ جذبات میں یہ بھی کہہ گزرے تھے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرضے واپس نہیں کرے گا، پھر انہوں نے یک دم ایک لمبی جسُت لگائی کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خود کشی کرلیں گے، لیکن اب نہ صرف آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ ہوا ہے، بلکہ بعض ایسے اقدامات بھی کئے گئے ہیں،جن پر اپوزیشن نکتہ چینی کر رہی ہے، اور یہ کئی لحاظ سے محل ِ نظر بھی ہیں تو حیرتوں کے نئے باب وا ہوگئے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی سربراہی آئی ایم ایف کے مصر میں متعین مستقل نمائندے کے سپرد کر دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ تو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وزیر خزانہ اسد عمر کو سٹیٹ بینک کے نئے نامزد گورنر ہی نے ہٹوایا ہے۔ حکومت نے اِس مسئلے پر کوئی وضاحت نہیں کی، اسی طرح پارلیمینٹ کے سامنے آئی ایم ایف سے طے ہونے والی شرائط پیش کی جا سکتی تھیں۔ اب بھی اپوزیشن کے اس مطالبہ پر غور کر لینا چاہئے کہ معاہدہ کی شرائط اسمبلی میں پیش کی جائیں۔

حکومت یہ موقف اختیار کر سکتی ہے کہ ماضی میں آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والا کوئی معاہدہ کبھی پارلیمینٹ میں پیش نہیں کیا گیا،لیکن موجودہ حکومت تو ماضی کی حکومتوں کی ناقد اور نکتہ چین ہے وہ سابق پالیسیوں کی حمایت کیسے کر سکتی ہے؟ اِس لئے اگر ماضی کی کوئی حکومت ایسے کسی معاہدے کو پارلیمینٹ میں نہیں لائی تو کیا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی اس غلط روش کا اتباع کرے۔ یہ تو نیا پاکستان ہے اور نئے پاکستان میں پرانے نہیں،نئے سنہری اصول اور ضابطے لاگو ہونے چاہئیں، سابق حکمرانو ں کے طور طریقوں کو ترک کر دینا ضروری ہے،اِس لئے حکومت کو اس معاملے میں ایک قدم آگے بڑھ کر اپوزیشن کا یہ مطالبہ مان لینا چاہئے۔

صنعتی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم ہو اور صنعتوں کو بجلی مسلسل ملتی رہے۔ صنعت کار تو بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں،لیکن جب بجلی پر ہر قسم کی سبسڈی ختم ہو جائے گی تو حکومت300ارب سے زیادہ رقم اس مد میں وصول کر ے گی۔ گردشی قرضے ختم کرنے کے لئے حکومت قیمتوں میں اضافے کو ضروری قرار دیتی ہے اور بعض حکومتی بزر جمہر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے یہ تک کہہ گزرتے ہیں کہ فلاں ملک میں بجلی کے ریٹ پاکستان سے زیاد ہیں،اس مقصد کے لئے اگر ترقی یافتہ ممالک کی مثال دی جائے گی، تو اس کا اطلاق پاکستان پر اِس لئے نہیں ہوتا کہ ان ممالک میں اُجرتوں کا ڈھانچہ مختلف ہے اور کم از کم اُجرت 13سے15 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان میں جو کم از کم اُجرت مقرر ہے،بہت سے شعبوں میں اس کی بھی پابندی نہیں کی جاتی اور مہنگائی کی جو لہر موجودہ حکومت کے دور میں پیدا ہوئی ہے وہ سب کچھ بہالے گئی ہے۔ بیروزگاری کا دائرہ پھیل گیا ہے اور تنخواہ دار طبقے کی قوت خرید اتنی کم ہوگئی ہے کہ وہ مہنگی اشیائے ضرورت تو خرید ہی نہیں سکتا۔ اشیائے خوراک خریدنا بھی اس کے لئے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ایسے میں جب بجلی مہنگی ہوگی تو غریبوں کے لئے بلوں کی ادائیگی ہی مشکل ہوگی۔ باقی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی۔

700ارب روپے کے متوقع نئے ٹیکسوں کے بعد صورتحال اور بھی گھمبیر ہونے کا امکان ہے پہلے سے جن اشیاء پر بھاری ٹیکس عائد ہے ان پر ٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس ہر غریب اور امیر کو مساوی ادا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ جن ملکوں سے ہم نے جی ایس ٹی کا یہ تصور درآمد کیا ہے وہاں اشیائے خوراک، کپڑے اور ضرورت کی بعض دوسری بنیادی اشیاء پر جنرل سیلز ٹیکس نافذ نہیں ہوتا۔ امریکہ کی بہت سی ریاستوں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جہاں نہ صرف اشیائے خوراک ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں بلکہ حکومت غریب طبقے کے لئے مستقل طور پر ”فوڈ سٹیمپس“ بھی جاری کرتی ہے جو بازار میں کرنسی نوٹوں کی جگہ اشیائے خوردنی خریدنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔

پاکستان میں اگر سبسڈی کے نام پر حکومت کوئی سکیم جاری بھی کرتی ہے تو اس کا فائدہ مستحق لوگوں تک نہیں پہنچتا۔ رمضان المبارک کے لئے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو دوارب کی سبسڈی دی گئی ہے جس کا مقصد غریبوں کو مناسب نرخوں پر اشیائے ضرورت مہیا کرنا ہے۔ کارپوریشن کی طرف سے اخبارات میں اشتہار تو شائع ہوتے رہے کہ 19اشیا رعایتی نرخوں پر دستاب ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یوٹیلیٹی سٹورز کے خالی ریکس کی تصاویر بھی اس کا منہ چڑاتی رہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن اشیا کے اشتہار دیئے گئے ان میں سے بیشتر سٹوروں پر موجود ہی نہیں۔ رمضان میں چینی بنیادی ضرورت ہے اگر یہی سٹوروں پر دستیاب نہیں ہوگی تو پھر تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان سٹوروں پر اور کیا دستیاب ہوگا۔ ایسے میں جب یہ خبریں آتی ہیں کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کر لی گئی ہیں اور اس کے بغیر چارہ بھی نہیں اور آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کی ”خوشخبریاں“ سنا کر لوگوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ پھر بھی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ غریبوں کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے تو ایسے دعوے کے لئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ