قصوروار کون؟

قصوروار کون؟
قصوروار کون؟

  

پاکستان، جو دنیا کا دوسرا بڑا مسلم ملک ہے۔جس کا معاشرہ اسلامی طرز پر عمل پیرا ہے۔اسلام نے تمام انسانوں خواہ امیر ہو یا غریب، کالا ہو یا گورا، مرد ہو یا عورت یا کو ئی تیسرا جنس سب کو برابری کو حقوق دئیے ہیں۔یہ سبق شاید ہمیں ابتدائی تعلیم سے دیا جا رہا ہوتا ہے مگر عمل عمر کے آخری حصہ تک بھی نہیں ہوتا۔ ہم نے یہاں تیسرے جنس کو بھی زیرغور لیا ہے۔ جن کو شاید کسی گنتی میں نہیں لیا جاتا۔تیسرا جنس یعنی خواجہ سرا، خواجہ سرا خدا کی وہ مظلوم مخلوق ہیں،جنہیں معاشرے میں کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ خدا کی اس مظلوم مخلوق کو معاشرہ تو بعد کی بات ہے، ان کو تو ان کے اپنے ہی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کی پیدائش کے وقت ماتم کا سماء بن جاتا ہے۔ مار پیٹ اور جنسی تشدد بچپن سے ہی ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ہمارا مہذب معاشرہ انہیں عزت دینا تو دور کی بات ہے انہیں ڈھنگ کے نام تک سے پکارنے کا روادار نہیں۔ زنانہ، چھکہ، ہجڑا یا پونے آٹھ جیسے دل آزاری والے الفاظ سے ان کو پکارا جاتاہے۔

سڑک پر تشدد کا شکار ہونے والا یا کسی مضربیماری سے تڑپ کر مرنے والا خواجہ سرا معاشرے کی بے حسی کی ایک بھیانک تصویر ہے، وہ معاشرہ جو بظاہر تو بہت مہذب اور اخلاقیات سے بھر پور ہے مگر اندر سے اتنا ہی کھوکلا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق،پاکستان جنوبی ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس نے خواجہ سرا کمیونٹی کو سب سے پہلے قبول کیا، اور پاکستان کا ان چند مما لک میں شمار ہوتا ہے جہا ں خواجہ سرا کمیونٹی کو این آئی سی مہیا کرنے کا احکام جاری کیا گیا۔امریکہ اور یورپ جیسے ممالک میں ان لوگوں کو عام شہریوں کے مقابلے میں زیادہ حقوق حاصل ہیں، لیکن پاکستان میں یہ بہت عبرت ناک صورتحال کا شکار ہیں۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ خواجہ سرا ہوں میں سے صرف ۴ ہزار خواجہ سراہوں کے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں۔اور اس وجہ سے ان کو بے روزگاری کا سامنا ہے، انہیں پیٹ پالنے کے لئے اکثر اوقات بد اخلاقی کی اس حد تک جانا پڑتا ہے جس کے تصور سے ہی گھن آنے لگتی ہے۔اور شاید اسی وجہ سے زمانہ ان کو فحاشی پھیلانے کا بڑا ذریع سمجھتا ہے، لیکن کیا کبھی یہ سوچا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے مجبور کرنے والے بھی یہی لوگ اور یہی معاشرہ ہے،جو نہ انہیں درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے دیتے اور نہ کسی ادارے میں روزگار فراہم کرتے ہیں۔پاکستان میں خواجہ سراہوں نے اپنے حقوق کے لئے کافی کوششیں کی لیکن ہر بار ناکام رہے اور ساتھ ساتھ تشدد کا بھی شکار رہے۔ رواں سا ل 300سے زائد خواجہ سراہوں کے تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں اور جس میں سے 47کی اموات واقع ہوئیں۔

تشدد کے بڑھتے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے کے پی کے کی حکومت نے اس کمزور طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے 20 کڑوڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ جس میں ان کو سلائی اور کڑھائی جیسے روزگار فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔لیکن خواجہ سرا برادری کے کارکنان حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔کیونکہ یہ لوگ بھی مردوں اورخواتین کی طرح اپنی مرضی کے شعبہ جات کو ا پنا روزگار بنا نا چاہتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ صرف خواجہ سراہوں کو معاشرے پر بوجھ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اس لئے ان کو ایک مخصوص شعبے کی حد تک محدود رکھنے کا اعلان کیا۔

اسی حوالے سے ہم نے نادرہ آفس کے آسسٹنٹ ڈائیریکٹر ضیاء صاحب کی رائے لی، جس میں انکا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے لحاظ سے اور قانونی لحاظ سے بھی یہ ان کا حق ہے کہ ان کو روزگار فراہم کیا جائے، لیکن ان کو چھوٹی پوسٹ پہ تو رکھ سکتے ہیں، مگر کسی بڑی پوسٹ پر نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ و ہ اتنے اہل نہیں ہوتے۔

یہ رائے صرف ایک ضیاء کی نہیں بلکہ اس معاشرے میں موجود 90 فیصد لوگوں کی بھی ہے جو انہیں نا اہل اور کمزور سمجھتے ہیں، اور بقیہ 10فیصد لوگ وہ ہیں جو امید کی کرن ہیں ان کے لئے جو ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں اور ان کی فلاح کے لیئے کام کرتے ہیں۔حکومت اب تک ان کے لئے کوئی بہتر فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے جس کی وجہ سے عوام اور حکومت دونوں ہی مجرم نظرآتے ہیں۔

حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ ان کے لئے بہتر تعلیم اور روزگار فراہم کرے اور جس طرح لڑکیاں اور لڑکوں کے لئے علیحدہ امتحانی مرکز بنائے جاتے ہیں ان کے لئے بھی بنائے جائیں تا کہ یہ بھی باقاعدہ طور پر تعلیم حاصل کر نے کے خواہشمند ہوں، تا کہ یہ مظلوم اور کمزور مخلوق کو معاشرہ باعث شرمندگی کے طور پر نہیں بلکہ مارویہ اور کامی سڈ جیسے خواجہ سراہوں کو باعث فخر طور پر متعارف کروایا جائے۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ