ولی کامل حضرت پیر شاہ جیونہ

 ولی کامل حضرت پیر شاہ جیونہ
 ولی کامل حضرت پیر شاہ جیونہ

  

برصغیر میں اسلام کا فروغ صوفیاےءکرام اور مشائخ عظام کی محنتِ شاقہ کا نتیجہ ہے آستانہ عالیہ حضرت شاہ جیونہّ  اس سلسلے میں امتیازی حیثیت رکھتاہے اس آستانے کے تمام بزرگوں کا مقصدِ حیات تبلیغِ اسلام تھا جھنگ شہرسے شمال کی جانب تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پرمشہور قصبہ شاہ جیونہ ہے اور قصبہ سے جنوب کی طرف گھنے درختوں کے وسیع و عریض جنگل میں ولی کامل حضرت شاہ جیونہ ابدی نید سو رہے ہیں لوگ انہیں شاہ جیونہ کے نام سے پکارتے ہیں لیکن انکا اصل نامی گرامی محبوب عالم ہے ساداتِ شاہ جیونہ کے جدِ امجد سیّد جلال الدین سرخ بخاری نے چنگیز خان جیسے سفاک حکمراں کو بھی دعوتِ اسلام دی اور چنگیزخان نے غضب ناک ہو کر مخدوم جلال الدین سرخ بخاری کو آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگ گل زار بن گئی اور مخدوم موصوف بھڑکتے شعلوں میں بھی مسکراتے رہے ( تاریخِ اوچ عبد الرحمن ) آپکی اس کرامت کو دیکھ کر وحشی تاتاری دم بہ خود رہ گئے۔

چنگیز خان نے اسی وقت مردِ فقیر مخدوم جلال الدین سرخ بخاری کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور حلقہء بگوش اسلام ہوا چنگیز خان کے مسلمان ہونے کے متعلق دائرہ معارفِ اسلامیہ میں یوم مرقوم ہے " مشرقی ترکستان میں چنگیز نامہ کی طرح کی جو داستانیں اور روایات لکھی گئی ہیں ان میں اس جہانگیر بادشاہ کو بالکل مسلمان ترک فرماں روایات لکھی گئی ہیں ان میں اس جہانگیربادشاہ کو بالکل مسلمان ترک فرماروا کی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور جو روایات پندرہوں صدی کے شروع میں احمدی اور انواری شاعروں نے نقل کی ہیں ان میں بھی چنگیز خان اور اس کے پوتے ہلاکوخان کی یوں تعریف کی گئی ہے کہ وہ کافر ہوتے ہوےء بھی اسلام کی طرف میلان رکھتے تھے " تاتاریوں جیس وحشی قوم میں اسلام کا ڈنکا بجانا سادات شاہ جیونہ کے جدِ امجد مخدوم جلال الدین سرخ بخاری کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک ایک مثال رہےگا حضرت شاہ جیونہ کا شجرہ نسب سولہ واسطوں سے امام علی علیہ سلام اور آٹھ واسطوں سے سیّد جلال الدین سرخ بخاری سے ملتا ہے آپ سکندر لودھی کے عہد میں 895 بمطابق 1493 میں قنوج میں پیدا ہوئے بلال زبیری لکھتے ہیں کہ جس وقت حضرت شاہ جیونہ اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کے والدِ محترم کو خواب میں بشارت ملی کہ گھر میں تیسرا چراغ روشن ہوگیا ہے۔

آپ نے دیکھا کہ تین چراغ جل رہے ہیں چناں چہ آپ نے فورآ رختِ سفر باندھا اور قنوج واپس آئے گھر پہنچ کر بیٹے کو اٹھایا بیٹے کی پیشانی کو بوسہ دیتے ہوےء فرمایا کہ اس بچے میں روحانیت جلوہ گر ہے آپ نے بچے کا نام محبوب عالم رکھا حضرت شاہ جیونہ کے دادا سیّد زین العابدین اور والد محترم سید شاہ کبیر اپنے عہد کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے آپ نے ان دونوں بزرگوں سے روحانیت کے خزائن حاصل کیےعربی ، فارسی قرآن ، تفسیر حدیث ، فقہ کے علوم اپنے استاد قاضی بہاءالدین سے حاصل کیے اور اسطرح آپ ایک جید عالم بن گئے آپکے فقر ، قلندرانہ طرزِ حیات اور عارفانہ اندازِ فکر کی شہرت دوردور تک پھیل گئی اور اس عہد کے بڑے بڑے علماء و فقراء آپکی زیارت کےلیے آنے لگے حضرت شاہ جیونہ پیدائشی ولی تھے بچپن میں ہی آپ سے حیران کن کرامات ظہور پزیر ہونا شروع ہوگئیں تھیں جن میں سے ایک تو حصول علمِ دین تھا آپکے دادا سیّد زین العابدین فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ جیونہ میں کوئی ایسی روحانی قوت تھی کہ انکو علوم ظاہری و باطنی کے جو بھی درس دیے جاتے وہ ان کو آناًفاناً ازبر ہوجاتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ یہ انکی فطرت ثانیہ بن چکے ہیں۔

آپ ہمیشہ باوضو رہتے نماز میں آپ کا خشوع خضوع ایک ضرب المثل بن گیاتھا ۔آپکی دعا کی تاثیرکا چرچا ہرطرف پھیل گیا ہر نماز کے وقت مسجد میں عورتوں اور مردوں کا ایک حجمِ غفیر آپ سے دعائیں لینے کےلیے موجود ہوتاتھا پروفیسر ڈاکٹر عبدالطیف رقم طراز ہیں کہ " حضرت پیرشاہ جیونہ وہ باکمال بزرگ تھے جنکی بات بات میں علم و فرقان کی حلاوت تھی جنکی ہر حرکت میں تعبد کی شان جلوہ گر تھی جنکے ہر عمل میں عزیمت اور حسن کاری کا بانکپن نمایاں تھا الغرض اس مردِ فقیر کی حیات طیبہ ایمان و ایقان ، علم و عرفان ، مجاہدات و مراقبات عشق و مستی اور خلوص و وفا کا ایسا حسین و جمیل مرقع تھی کہ دل بے اختیار مائل ہوتا احترام و عقیدت کے جذبات خود بہ خود ابھرتے اور انکی عظمت کے نقوش گہرے سے گہرے ہوتے چلے جاتے "

شہنشاہ جلال الدین اکبر کاعہد تھا حضرت پیرشاہ جیونہ نے کچھ عرصہ حیدرآباد دکن میں قیام کیا پھر حضرت خواجہ نصیرالدین چراغ دہلی کے مزارپُرانوار پرحاضری دی وہاں آپکو ارشاد ہوا کہ برصغیر کے مغربی حصّے کارخ کرو چناں چہ آپ لاہور پہنچے یہاں خواب میں اپنے جدامجدحضرت شیر شاہ جلال الدین سرخ بخاری کی زیارت سے مشرف ہوےء اور برصغیر کے مغربی حصے کی طرف جانے کا دوبارہ اشارہ پایا اسلیے آپ نے لاہور سے کوچ کیا اور پیل پدھراڑ (تلہ گنگ ) پہنچے، پیل پدھراڑ کاعلاقہ اُن دنوں بالکل بنجر اور بے آب وگیاہ تھا حضرت پیر شاہ جیونہ مرد فقیر نےوہاں ڈیرا جمالیا اور شب و روز سورة الزمر کی ان آیاتِ مبارکہ کاورد شروع کردیا ترجمہ : " کیا تونے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بناےء پھر اس سے مختلف رنگوں کی کھیتی نکالتا ہے " اور چند ہی دنوں میں سنگلاخِ ذمین سے چشمے پھوٹ نکلے لوگوں کو پانی نصیب ہوا ، کھیتیاں اُگنے لگیں اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگئی ۔

حضرت شاہ جیونہ کی کرامت کا ایک چشمہ آج بھی کنویں کی شکل میں پیل پدھڑاڑ میں موجود ہے اور" پیردا کنواں " کہلاتا ہے عقیدت مند اس چشمے کے پانی کو آب حیات سمجھتے ہیں وہ جی بھرکرپیتے ہیں اور اپنی روحانی و جسمانی بیماریوں کاعلاج کرتے ہیں پیل پدھڑاڑ میں کچھ عرصہ قیام کےبعد آپ نے جھنگ کاقصد کیا جھنگ کی سرزمین آپکےلیے نئی نہیں تھی جھنگ آپکے جدامجد سید جلال دین سرخ بخاری کابسایا ہواشہر تھا حضرت جلال دین بخاری جب بخارا سے چلے راستے میں افغانستان کے علاقے میں جلال آباد کاشہر بسایا اور پھر برصغیر میں جھنگ شہر کی بنیاد رکھی ۔جھنگ کے سیال قبائل حضرت پیرشاہ جیونہ کے جدامجد سیّد جلال دین سرخ بخاری کے مرید تھے حضرت شاہ جیونہ 961 ہجری ( عہد جلال دین اکبر ) میں جھنگ سے بیس میل کے فاصلےپر موجود قصبہ شاہ جیونہ کے علاقے میں وارد ہوےء اور اس علاقے کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کامرکز بنالیا دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک عظیم آبادی بن گئی اور آپ کے نام گرامی پر " شاہ جیونہ " موسوم ہوئی شاہ جیونہ کے علاقے میں اُس وقت " مڑل راجپوت فرمارواں تھے وہ آپکی کرامات دیکھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوےء آپ نے اسطرح دیگر قبائل کے دلوں سے کفر و الحاد کی میل نکال دی اسلیے آپ شاہ جیونہ مل قتال مشہور ہوےء حضرت شاہ جیونہ تلاوت جلام پاک میں ہر وقت مصروف رہتے تھے اٹھتے بیھٹتے ،چلتے پھرتے آیات قرآنی آپ کا وردزبان تھی روزانہ اپنی قیام گاہ سے دریائےچناب کی طرف جاتے تلاوت کلام پاک کرتے جاتے۔

دیہاتی لوگ آپ کی خوش الحانی سے بہت متاثر ہوےء دریاےء چناب کے بیلے میں بھی آپکی تلاوت گونج سنائی دیتی تھی چرند پرند آپکے اردگرد جمع ہوجاتے تھے اور کلام پاک کو سنتے تھے اور مسحور ہوجاتے تھے سورہء مزمل سے آپکو عشق تھا اس سورہء مبارکہ کا ورد آپنے کئی کروڑ دفعہ دریاےء چناب کے ویرانے میں اور وحشی قبائل کے دلوں کو مسخر کیا اسلیے آپ " پیر کروڑیہ " مشہور ہوگئے آپ کئی کئی دن دریاےء چناب کے بیلے میں گزاردیتے مریدانِ باصفا ہروقت آپ کے اردگرد حجمِ غفیرکی شکل میں موجود رہتے اور آپ کے روحانی فیض سے مالامال ہوتے حضرت پیر لدھن امام کے بعد خانوادہ شاہ جیونہ میں معقدوبرگزیدہ ہستیاں پیدا ہوئیں جن میں کئی غوث قطب اور ابدال تھے حضرت سیّد جلال ، حضرت لال شاہ بخاری ، حضرت محمد غوث اوّل ، حضرت مبارک شاہ ،حضرت صالح شاہ اوّل جیسے نامور بزرگان دین ہوئے ۔

ان بزرگوں نے جہاد باللسان و جہاد بالقکم کے ساتھ ساتھ جہاد بالسیف بھی کیا حضرت پیر غوث اوّل اور حضرت پیرمبارک شاہ نے جنگِ آذادی 1857 میں ساندل باد کے مریدانِ باصفا کو آواز دی انہوں نے آستانہ عالیہ حضرت پیرشاہ جیونہ کی آواز پرلبیک کہا اور " یاکروڑیہ یاکروڑیہ " کانعرہ لگاتے ہوےء سربکف میدانِ کارزارمیں کود پڑے اور سجادہ نشین دربار حضرت پیرشاہ جیونہ کی کمان میں انگریزوں کے دانت کھٹے کیے حضرت صالح شاہ اوّل نے جھنگ پر رنجیت سنگھ کے حملے کے وقت سیال سردار احمد خان کی مدد کی کمان اپنےہاتھ میں لی اور موضع باغ کے مقام پر جامِ شہادت نوش کیا یہ 1806 کا واقعہ ہے سیّد احمد بریلوی اور شاداسماعیل شہید نے سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوےء 1830 میں شہادت پائی تھی اس لحاظ سے دونوں حضرات ( شہدا ) ساداتِ شاہ جیونہ کے بزرگ حضرت پیر صالح شاہ اوّل کے مقّدین میں سے تھے موجودہ سجادہ نشین جناب پیر مخدوم سیّد فیصل صالح حیات صاحب کے دادا الحاج سیّد خضر حیات صاحب کا ایک مشہور معروف واقعہ ہے کہ ماچھے ماہلے کا ایک سکھ سردار جسکا نام بھی سردار سنگھ تھا رات کو گہری نیند سویا ہواتھا کہ خواب میں اسے ایک نورانی شخصیت نظر آئی اس شخصیت نے اسے کہا کہ " میرے پاس آجاؤ ۔ آگ سے بچ جا اور نجات حاصل کرلو " سکھ سردار چونک کر اٹھ بیھٹا گھر کو خیر باد کہہ دیا ۔

جائیداد کو لات ماری بال بچوں کو چھوڑ دیا بھاگ کھڑا ہوا شہرشہر بستی بستی پھرنے لگا اسکی آنکھیں خواب میں دکھائی دینے والی شخصیت کی متلاشی تھیں سارے پنجاب میں پھرا مختلف آستانوں پر گیا ہر ایک دربار پر حاضری دی لیکن وہ شخصیت اسے نظر نہ آئی آخرکار یہ فقیر شاہ جیونہ کی بستی میں آنکلا سیّد خضرحیات صاحب کے ڈیرے پرپہنچا سیّد صاحب اپنی مخصوص کرسی پر ممتکن تھے اردگرد خدام موجود تھے یہ فقیر دور تک ٹکٹکی لگائے سیّد صاحب کودیکھ رہا تھا شاید خواب میں دیکھی ہوئی شخصیت اور ان شخصیت کاموازنہ کررہاتھا اچانک دوڑا اور ان شخصیت کے قدموں میں آکرگرپڑا اور زارو قطار رونے لگا زبان سے صرف یہی کہہ رہاتھا " میں نے پہچان لیا مجھے بچالو مجھے بچالومجھے آگ سے بچالو مجھے پاک کردو اردگرد کےلوگ حیران تھے لیکن سیّد صاحب کے چہرے پر کوئی حیرانگی نہیں تھی اپنے خُدام سے کہا اسے مت چھیڑو اسے رونے دو ، آخرکار سیّد صاحب نے دستِ شفقت پھیرا کلمہ طیبہّ پڑھایا اور کہا آج سے تیرا نام خاکِ علی رکھتا ہوں ۔

الحاج سیّد خضرحیات صاحب نے تحریک خلافت میں مولانا محمد علی کے ساتھ ہر لحاظ سے تعاون کیا جنرل اوڈائر ( جس نے جلیانوالہ باغ میں مسلمنوں کے خون سے ہولی کھیلی تھی ) نے پنجاب کے مشائخ کی کانفرنس بلائی جس میں سجادہ نشین جناب پیر شاہ جیونہ سیّد خضرحیات صاحب بھی شریک ہوےء جنرل اوڈائر نے حُرکی کے خلاف جنگِ عظیم اوّل میں انگریزوں کی مدد کرنے کےلیے کہا سجادہ نشین خضرحیات صاحب نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہمارے اُولّی الامر " حضرت امام مہدی زندہ ہیں ہم انکے سوا کسی کو " اولّی الامر " نہیں مانتے جناب خضرحیات صاحب نے تحریکِ پاکستان میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں اُنکے بیٹے جناب سیّد محمد غوث صاحب نے تحریک پاکستان میں سرگرمی سے حصہ لیا ۔حضرت پیر شاہ جیونہ کے سجادہ نشینوں میں نسلآ بعد نسلآ فقیری اور دعاؤں کی مقبولیت کا سلسلہ جاری و ساری ہے باؤلے کتے کاکاٹا ہوا ، سانپ کا ڈسا ہوا کوڑھ اور فالج زدہ لوگوں کو دربارِ شاہ جیونہ سے شفا و تنددرستی ملتی ہے ۔

اسکے علاوہ عام بیماریوں اور دیگر حاجات کےلیے بھی اللہ کے حکم سے سجادہ نشین دربارعالیہ شاہ جیونہ کی دعائیں بہت اثر رکھتی اور بارگاہ ایزدی میں مقبول ہیں حضرت شاہ جیونہ نے 971 ھجری مطابق 1569 میں جلال الدین اکبر مغل بادشاہ وفات پائی آپکی وفات کے وقت دارالخلافہ دہلی کے حاکم سیّد عبدالواہاب بخاری تھے اسطرح شیخ فرید بخاری بھی شہنشاہ جلال الدین اکبر کے مقربِ خاص تھے یہ دونوں حضرات جناب شاہ جیونہ کے قریبی رشتہ دار تھے اور آپکی وفات کے وقت سرزمین شاہ جیونہ میں حاضرہوئے اور ولی کامل کے مزارپر حاضری دی حضرت پیرشاہ جیونہ اس جہان فانی سے پردہ پوش ہوئے  کئی صدیاں گزر چکی ہیں لیکن آپ کے دربار عالیہ سے ہر وقت فیض جاری وساری ہے روحانیت کی تجلیات علاقے کو بقعہ نور بناےءہوےء ہیں عقیدت مند دیوانہ وار آتے ہیں اور برکات سے جھولیاں بھرکر جاتے ہیں سکون قلب حاصل کرتے ہیں۔

بے راہ روی کے اس دور میں بھی حضرت پیرشاہ جیونہ مرددرویش کا رشدوہدایت کا چراغ پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے اور روشن رہےگا حضرت شاہ جیونہ کے مزار پرہر سال 28.29.30 بیساکھ بمطابق 10.11.12 مئی ایک شان دار میلا لگتا ہے جوکہ ملک بھر میں اپنی مثال آپ ہے حضرت پیر شاہ جیونہ کے تبرکات و ملفوظات سجادہ نشین دربارعالیہ کے پاس محفوظ ہیں ان تبرکات سے حضرت شاہ جیونہ کا فقر جھلک رہا ہے اور انکی زیارت سے اصحابِ صفہ اور ائمہ طاہرین کی زندگی کی یاد تازہ ہوجاتی ہےان تبرکات میں فقیر کا کشکول ، چٹو ، موہلا ، چھج ، کھاری ، پھولوں والی ٹوکری ، نادِ فقر اور چٹوری ( مٹی ) شامل ہیں یہ تھا ان مردفقیر کا اثاثہ ۔یہ تھا انکی زندگی کا سرمایہ واقعی اللہ والوں کایہی سرمایہ ہواکرتا ہے کیونکہ انوارِ الہی انکا لباس ہوتا ہے اور زکرالہی انکا مشغلہ ہوتا ہے انہوں نےدنیا سے کنارہ کیا ہوتا ہے اور دنیا کے فانی اور فنا ہوجانے والے مال اسباب کو جمع کرنے والوں سے علیحدگی اختیار کرلی ہوتی ہے قابل صد ستائیش ہیں سجادگان اوراولادِ حضرت شاہ جیونہ جوہرسال اپنے جدامجد کی میراث کی زیارت کرتے ہیں اور اپنے فقر کی اصلیت کو فراموش نہیں کرتے اسکے علاوہ دربار کے مخصوص کمرہ میں حضرت شاہ جیونہ کے استعمال کے کنٹھے ، گلابے اور دستار مبارک موجود ہے کڑی کے موقع ( خاص رسم ) ہر سجادہ نشین صدیوں سے انہیں پہنتا چلا آرہا ہےاور کڑی پرممتکن ہونے کےبعد ان تبرکات کو حفاظت کے ساتھ نوری کمرہ میں رکھ دیا جاتا ہے۔

سجادہ نشین دربارعالیہ حضرت شاہ جیونہ کے پاس جناب مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ سلام کاتحریر کردہ قرآن مجید کا ایک نسخہ موجود ہےے کئی عجائب گھروں کے ارباب اختیار نے ان سے یہ نسخہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن سجادگان دربارعالیہ نے اسے دینے سےہمیشہ انکار کیاہے ۔۔ دربار شاہ جیونہ کا فیض انشااللہ رہتی دنیا تک تشنگانِ روحانیت کے طلبگاروں کے دلوں کو منور کرتا رہےگا ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ