پیر غائب علی شاہ، چودھری انوار الحق، ایک وضاحت(2)

پیر غائب علی شاہ، چودھری انوار الحق، ایک وضاحت(2)
پیر غائب علی شاہ، چودھری انوار الحق، ایک وضاحت(2)

  

میرے بزرگ علامہ بو الحسناتؒ فرمایا کرتے تھے، اللہ کے ولی حقیقت ہیں، لیکن یہ گمنام نہیں ہوتے، نہ صرف لوگ ان کے بارے میں سب جانتے ہیں،بلکہ ان کی تاریخ بھی موجود ہوتی اور ان کے نسب کا بھی علم ہوتا ہے،جو بالکل ہی گمنام ہوں، ان کے بارے میں کیا یقین کیا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہمارے اس شہر لاہور میں پریس کلب کو بننے نہ دینے کے لئے جو پیر بنا لیا گیا وہ اس حد تک گلے پڑا کہ ہم صحافیوں کی تمام تر کوشش کے باوجود یہ جگہ چھوڑنا پڑی اور محترم وائیں صاحب(مرحوم) کے دورِ وزارت عالیہ میں شملہ پہاڑی میں واقع واسا(ایل ڈی اے) مزدور یونین کی جگہ ملی اور اب یہ پریس کلب موجود ہے۔ بات وہاں سے شروع کرنے سے پہلے جہاں چھوڑی تھی۔ یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ صرف یہ جعلی مزار ہی نہیں لاہور میں اور بھی کئی ہیں اور ان سب کا متولی ایک ہی شخص تھا۔ ان میں قینچی امرسدھو اور کیمپ جیل لاہور کے باہر والے مزار بھی تھے جو توسیع فیروز پور روڈ کی وجہ سے غائب کر دیئے گئے۔ پیر غائب علی شاہ جیسی ایک اور نادر مثال جی ٹی روڈ پر شاذو لیبارٹری کے سامنے والے مزار کی ملتی ہے جس کا نام پیرکرم ولی شاہ رکھا گیا ہے یہاں بھی باقاعدہ عرس ہوتے ہیں۔ اس کے بارے میں توجہ علامہ ابوالحسناتؒ کے صاحبزادے امین الحسنات خلیل احمد قادری نے دلائی اور دکھ اور افسوس کا بھی اظہار کیا ہوا یہ کہ میری رہائش شاد باغ میں تھی اور گھر آنے جانے کے لئے گڑھی شاہو والا راستہ اختیار کرتے تھے۔ خلیل قادریؒ صاحب میرے ساتھ دوستوں اور بھائیوں جیسا سلوک کرتے اور گھر بھی آتے تھے۔ ایسے ہی ایک بار میں ان کو جامعہ نعیمیہ سے ساتھ لے کر گھر کی طرف جا رہا تھا جب ہم اس مزار کے قرب پہنچے تو انہوں نے رکنے کیلئے کہا میں سمجھا کہ وہ فاتحہ خوانی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ وہاں کھڑے تھے جب میں قریب آ گیا تو انہوں نے قبر کی طرف توجہ دلائی اور پوچھا کہ سر کس طرف ہے میں نے غور کیا اور رخ کا اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ مغرب (قبلہ) کی طرف ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا یہ قبر کسی مسلمان کی نہیں، عیسائی کی ہے اور کسی نے کمائی کے لئے پیر بنا دیا اب یہ جہالت اور کم علمی ہے کہ لوگ مان رہے اور کوئی چڑھاوے کھا رہا ہے۔ حضرت امین الحسنات نے تفصیلاً سمجھایا کہ مسلمانوں کی تدفین کے لئے شرط ہے کہ لٹاتے وقت منہ قبلہ کی طرف ہو، یوں سر (لاہور میں) شمال کی طرف ہوتا ہے۔ البتہ عیسائی اپنے مرنے والے کی تدفین کرتے وقت سر قبلہ رخ رکھتے ہیں۔ لاہور کے سارے عیسائی قبرستانوں میں جا کر تصدیق کرلو اور پھر بعد میں میں نے ایسا کیا بھی، تو دوستو! ایسے کئی گمنام مزار ہیں جہاں سے کوئی نہ کوئی کمائی کھاتا ہے اور یہ جو پیر غائب علی شاہ بن گیا یہ بھی ویسا ہی ذریعہ ہے اگرچہ یہ مفاد پرستی کا بڑا شاہکار ہے اور تمام تر ثبوتوں اور کوشش کے باوجود انتظامیہ اسے گرانے سے گریز پا رہی، حتیٰ کہ سعید آسی نے سیکریٹری لاہور پریس کلب کی حیثیت سے ملک آفتاب ربانی (مرحوم) کا نام لے کر ایف آئی آر بھی کٹوائی تھی۔

اب پھر واپس آتے ہیں حقائق کی طرف جو کچھ یوں ہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت آجانے کے بعد اچانک عبداللہ ملک (مرحوم) اور عباس اطہر (مرحوم) نے منہاج برنا سے ناراض ہو کر پی ایف یو جے سے قطع تعلق کر لیا حتیٰ کہ روزنامہ آزاد والا پورا گروپ ہی ایک طرف ہو گیا۔ محترم ضیاء الاسلام انصاری جو زبردست دائیں بازو والے تھے ان کا بھی ان حضرات سے اتحاد ہو گیا اور اسی کی بدولت پیپلزپارٹی کی بھٹو والی حکومت میں ضیاء الاسلام نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین بنے۔ اصل مخالفت عبداللہ ملک صاحب کی ظہیر بابر سے ہوئی جو بحالی کے بعد نہ صرف امروز کے ایڈیٹر ہوئے بلکہ پی پی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر بھی بنائے گئے۔ یہ سب 1970ء کی تحریک کے ما بعد اثرات تھے، جب ہم سب کو پی پی ایل سے نکال دیا گیا تھا۔ عبداللہ ملک، عباس اطہر اور ضیاء الاسلام انصاری کی یہ دوستی پختہ ہوئی اور عبداللہ ملک، عباس اطہر کے ساتھ بھٹو کے پریس ایڈوائزر بھی بنے۔ ادھر دیال سنگھ والی لاہور پریس کلب کے ایک الیکشن میں ظفیر ندوی (مرحوم) سیکریٹری اور عباس اطہر صدر بن چکے تھے۔ ان حضرات نے اس کلب پر باقاعدہ قبضہ جما لیا اور یونین میں ہمارے متحارب بھی ہو گئے۔ چنانچہ انہی حضرات نے زیر تعمیر پریس کلب پر بھی دعویٰ کر دیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو دعوت دے کر تعمیر کے افتتاح کے لئے تقریب رکھ دی۔ اس کے لئے ڈی جی پی آر والا لان (جو اب بھی ہے) چنا گیا اور یہیں تقریب کا اہتمام ہوا۔ بھٹو آئے سٹیج پر عبداللہ ملک اور عباس اطہر کے ساتھ ضیاء الاسلام بھی تھے۔ یہ شرارتی خالد چودھری ان کے ساتھ تھا اور یہ بھی سٹیج کی آخری کرسی پر براجمان تھا یہ تقریب ہوئی۔ بھٹو نے وفاق کی طرف سے بڑی گرانٹ کا اعلان کیا اور ساتھ ہی چاروں صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ لاہور پریس کلب کی تعمیر کے لئے اپنی طرف سے بھی گرانٹ دیں اس تقریب کا مقصد ہی یہ تھا چنانچہ اس کے بعد تو کہانی ختم ہوئی۔ ہاں یاد آیا کہ ہم نے نقشہ کے مطابق گراؤنڈ فلور پر دوکانوں کی جو گنجائش رکھی تھی کہ کلب کی مستقل آمدنی بھی ہو، تو پتہ چلا کہ بعض تاجر حضرات نے بکنگ کر کے پیشگی بھی رقوم دی تھیں۔ آج تک کسی کو کچھ علم نہیں کہ یہ رقوم آئیں یا نہیں اور محترم عباس اطہر نے ان کا کیا کیا جو یکسر کبھی علم نہ ہو سکا اس لئے میں کوئی حتمی بات نہیں کرتا۔ البتہ چند روز بعد ہی یہ حقیقت نظر آئی کہ ایک شب سڑک کی طرف سے اندر تہ خانے کے لئے تعمیر کئے گئے ایک پلر پر دیا جل رہا ہے، ابھی یہ تجسس جاری تھا کہ فٹ پاتھ پر ایک ڈولکی والی ٹولی نمودار ہوئی اور سبز چادر زمین پر بچھانے کے بعد نعتیں شروع کر دیں پھر چل سو چل اور یہ سلسلہ چلتا رہا ڈی جی پی آر والے خاموش رہے۔ ممکن ہے کہ چودھری انوار الحق (مرحوم) نے بھی عباس اطہر، عبداللہ ملک اور ضیاء الاسلام انصاری کی تائید کی ہو کہ پریس کلب یہاں نہ بنے تو حضرات ایسا کر تو لیا گیا لیکن یہ عمل جان کو آ گیا اور اب وہاں ایک مستقل مزار اور عرس بھی ہوتا ہے۔ حسین نقی نے اس پر لکھا سعید آسی نے ایف آئی آر کٹوائی اور ہم سب نے کوشش کی فتویٰ تک لیا لیکن یہ مزار گرایا نہ جا سکا۔

ایک طرف یہ صورت حال تھی تو دوسری طرف ظفیر ندوی اور عباس اطہر کا پریس کلب پر قبضہ رہا ہم سب دربدر رہے کہ اس عرصہ میں پہلے تو وہ جگہ واپس حاصل کرنے کی کوشش ہوئی۔ ناکامی پر پریس کلب بحالی مہم شروع کی گئی۔ اس میں عزیز مظہر اور سعید آسی سمیت ہم سب شامل تھے۔ اس ساری داستان کا اختتامی نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ مزار عباس اطہر اور ضیاء الاسلام انصاری کے ذہن اور ملک آفتاب ربانی کی کاوش کا نتیجہ ہے اور اس میں ابتدا میں ڈی جی پی آر کے حکام ساتھ شامل تھے یہ وہ حقائق ہیں جو اب عرض کر دیئے کہ پہلے سے بہت حضرات کو معلوم ہیں لیکن نئی پریس کلب نے سب بھلا دیا۔ بہتر ہوگا کہ اسی حوالے سے یہ بھی عرض کر دیں کہ پریس کلب پر (دیال سنگھ مینشن) قبضہ 1977ء تک بحال رہا تھا جب تک ہما علی، ناصر نقوی اور دوسرے دوستوں نے زبردستی قبضہ نہ لیا۔ اس عرصہ میں ہم پریس کلب بحالی والے جگہ جگہ دھکے کھاتے پھرے۔ مال روڈ پر راجہ صاحب کے عقب میں دوستوں کے تعاون سے جگہ ملی اور باقاعدہ انتخاب کرا کے باڈی بحال کی گئی۔ سعید آسی سیکریٹری ہوئے تھے۔ یہاں بھی قیام تھوڑا عرصہ رہا اور پھر احمد مظہرخان (مرحوم، مشرق والے) کے تعاون سے ان کے ایک عزیز کے سینما میں جگہ ملی اور کچھ عرصہ پریس کلب وہاں بھی چلا بہر حال یہ جدوجہد یہاں مکمل ہوئی کہ دیال سنگھ مینشن کا قبضہ حاصل کر کے وہاں کلب آباد ہوا اور اس کے بعد پریس کلب کی پرانی جگہ کا مطالبہ شروع کیا گیا جو پی ٹی وی سے ملحق اور پیر غائب علی شاہ والی ہے۔ یہ سب کوشش اس وقت کامیابی سے ہمکنار ہوئی جب محترم غلام حیدر وائیں کے دورمیں متبادل جگہ کی تجویز پیش ہوئی اور متبادل کے لئے موجودہ پریس کلب والا مقام طے ہوا۔ اللہ وائیں صاحب کو جنت عطا فرمائے جنہوں نے اپنے راہنماؤں کی نا خوشی برداشت کر کے یہ جگہ دلا کر کلب بنوا دیا۔ اس وقت صدر ناصر نقوی تھے۔

میں نے یہ وضاحتی تفصیل لکھی ہے۔ جو یقیناً اس لحاظ سے مختصر ہے کہ اس عرصہ میں بہت کچھ ہوا پی ایف یو جے اور پی یو جے کے انتخابات میں بھی یہی دھڑا متحارب گروپ کے طور پر سامنے آتا رہا ہے۔ بہت کچھ چھوڑ دیا نہیں لکھا۔ مجبوراً وضاحت کے لئے اجازت لے کر یہ کالم تحریر کیا کہ چودھری انوار الحق ڈی جی پی آر کی حدود میں پریس کلب کے مخالف تھے لیکن انہوں نے خود یہ پیر غائب علی شاہ نہیں بنایا یہ انہی حضرات نے ملک آفتاب ربانی سے بنوایا تھا۔ جو اور بھی مزاروں کے متوالی تھے نئے دوست تو اپنی جگہ بعض سینئر حضرات (اسد اللہ غالب) بھی ان واقعات سے لا علم ہوں گے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا۔ واقعات بہت ہیں اور تکلیف دہ بھی تاہم جیسے پہلے عرض کیا کالم میں اتنا کچھ لکھنا مناسب ہی نہیں ذرا مشکل بھی ہے۔ اس تحریر کا سہرا بھی اسد اللہ غالب کے سر ہے ویسے سعید آسی خود اپنے اخبار میں اپنی یاد داشت کے مطابق لکھ سکتے ہیں۔ ( ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -